حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ، 2 اکتوبر 2026/ شاہی آصفی مسجد، لکھنؤ میں 2 اکتوبر 2026 کو نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزۂ علمیہ غفران مآبؒ لکھنؤ، کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقوائے الٰہی، معرفتِ خدا، توحید، خاندانی نظام، بڑھتی ہوئی طلاق، شادی بیاہ کی غیر ضروری رسومات، گاندھی جینتی اور عالمی حالات پر گفتگو کی۔
غفلتِ فکری سے معرفتِ الٰہی تک
پہلے خطبہ میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے ’’توحیدِ مفضل: غفلتِ فکری سے معرفتِ الٰہی تک‘‘ کے عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے امام جعفر صادق علیہ السلام اور مفضل بن عمر کے معروف واقعہ کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مفضل بن عمر نے ابن ابی العوجاء سے خدا کے وجود کے بارے میں گفتگو کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر واقعہ بیان کیا۔ امامؑ نے انہیں کائنات کی خلقت میں پوشیدہ حکمتوں پر غوروفکر کی دعوت دیتے ہوئے اگلے روز حاضر ہونے کا فرمایا۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ اس واقعہ میں یہ درس موجود ہے کہ انسان کو محض بحث و مناظرے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کائنات اور اپنے وجود میں موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا مشاہدہ اور ان میں غوروفکر کرنا چاہیے۔
انہوں نے قرآن کریم کی ان آیات کی طرف توجہ دلائی جن میں انسان کو اونٹ، آسمان، پہاڑوں اور زمین کی خلقت میں غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نشانیاں صرف کائنات میں نہیں بلکہ خود انسان کے وجود میں بھی موجود ہیں۔
قرآن اور کائنات؛ ہدایت و معرفت کے دو ذرائع
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی کتابِ تشریعی اور کائنات کو کتابِ تکوینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن انسان کی ہدایت و رہنمائی کرتا ہے، جبکہ کائنات کے مظاہر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی نشانیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انسان اگر یقین کے ساتھ اپنے وجود اور اردگرد کی دنیا میں غور کرے تو معرفتِ الٰہی کی راہ اس کے لئے روشن ہوسکتی ہے۔ انہوں نے توحیدِ مفضل کو اس سلسلہ میں اہم علمی و تربیتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ خطبات میں اس کے مزید حصوں کی تشریح کی جائے گی۔
بڑھتی ہوئی طلاق؛ خاندانی نظام پر توجہ کی ضرورت
دوسرے خطبہ میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے طلاق کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کے مختلف اسباب پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض معاشروں میں شادی کے فیصلے کے وقت دین، ایمان اور کردار کے بجائے ظاہری حُسن اور مال و دولت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق رشتۂ ازدواج کے انتخاب میں ایمان، دینی مزاج اور حسنِ کردار کو بنیادی معیار قرار دینا چاہیے۔
انہوں نے میاں بیوی کے باہمی احترام کو ازدواجی زندگی کے استحکام کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ والدین کے باہمی رویوں کا اثر براہِ راست بچوں کی تربیت پر بھی پڑتا ہے۔
غیر ضروری رسومات نے نکاح کو مشکل بنا دیا
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے شادی بیاہ میں رائج غیر ضروری رسوم و رواج پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اسلام نے نکاح کو آسان رکھا ہے، لیکن معاشرتی رسومات نے اسے کئی جگہ مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی برکت نیک اعمال، تقویٰ اور شریعت کی پابندی میں ہے، محض رسم و رواج میں نہیں۔ اگر کوئی رسم شریعت کے احکام سے متصادم ہو تو شریعت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
انہوں نے نکاح میں لڑکے اور لڑکی کی رضامندی اور مہر کو اہم شرعی تقاضے قرار دیتے ہوئے کہا کہ نکاح کو غیر ضروری رسوم اور اخراجات کا بوجھ نہیں بنانا چاہیے۔
گاندھی جینتی؛ امن و بھائی چارے پر زور
2 اکتوبر کو گاندھی جینتی کے حوالے سے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے مہاتما گاندھی کی ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے امن، عدم تشدد اور باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں کو باہمی محبت اور احترام کے ساتھ رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق امن و امان اور باہمی بھائی چارہ ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اظہارِ خیال
خطبہ کے دوسرے حصہ میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے یمن، ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ خطہ کے حالات کو محض شیعہ اور سنی کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے ظلم و عدل کے اصولوں کی روشنی میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یمن اور انصار اللہ سے متعلق بعض حالیہ دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہوکر حالات کا جائزہ لینے کی تلقین کی۔ انہوں نے ایران اور انصار اللہ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کی اور خطہ میں امن کے قیام کی دعا کی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کے تحفظ اور امن و سلامتی کے لئے بھی دعا کی۔
اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کو عملی زندگی میں اپنانے کی تلقین
خطاب کے اختتام پر مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب انہیں عملی زندگی میں اختیار کیا جائے۔
انہوں نے تقویٰ اختیار کرنے، واجبات پر عمل کرنے، محرمات سے اجتناب کرنے اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کو عملی زندگی کا نمونہ بنانے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا اقرار انسان پر عملی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے اور توحید کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق ڈھالے۔
آخر میں انہوں نے ملک میں امن و امان، معاشرے میں محبت و بھائی چارے، خاندانی نظام کے استحکام اور تمام اہل ایمان کے لئے صحت و سلامتی کی دعا کی۔










آپ کا تبصرہ