حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ، 9 اکتوبر 2026ء/ شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزۂ علمیہ حضرت غفران مآبؒ لکھنؤ کی امامت میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے توحید و معرفتِ خداوندی، ازدواجی زندگی میں باہمی احترام، خاندانی اختلافات کے حل اور سیرتِ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا و حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے عملی رہنمائی حاصل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
کتابِ توحیدِ مفضل کی روشنی میں معرفتِ خداوندی
پہلے خطبہ میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کتاب توحیدِ مفضل کے حوالے سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خداوندِ متعال ازلی و ابدی ہے؛ وہ نہ کسی کا محتاج ہے اور نہ مخلوق۔ کائنات کے وجود اور نظم پر غور و فکر انسان کو معرفتِ خداوندی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ توحید کو سمجھنے کے لیے عقل و استدلال کے ساتھ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے استفادہ ضروری ہے۔ الہام کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان کے ذہن میں آنے والا ہر خیال لازماً الٰہی الہام نہیں ہوتا، اس لیے اسے دینی معیار اور عقل کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔ انہوں نے آئندہ خطبہ میں سورۂ شمس اور الہام کی حقیقت پر مزید گفتگو کرنے کا اعلان کیا۔
ازدواجی زندگی میں محبت، احترام اور قربانی ضروری
دوسرے خطبے میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے خاندانی اختلافات اور طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ازدواجی رشتے کی مضبوطی محض مال و دولت یا ظاہری حسن پر نہیں، بلکہ اچھے کردار، اخلاق، باہمی احترام اور محبت پر منحصر ہے۔
سورۂ روم کی آیت 21 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآن نے میاں بیوی کے رشتے کو سکون، مودّت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ شریکِ حیات کی خوبی یہ نہیں کہ وہ زندگی کی ہر مشکل ختم کردے، بلکہ یہ ہے کہ مشکل حالات میں دوسرے کو تنہا نہ چھوڑے اور بیماری و پریشانی کے وقت اس کا ساتھ دے۔
انہوں نے کہا کہ باہمی گفتگو، تحمل اور قربانی کے ذریعے بہت سے خاندانی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ناجائز ذرائع سے مالی ضروریات پوری کرنے کے دباؤ کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے حلال و حرام کی پابندی پر زور دیا۔
سیرتِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے جرأت اور حق گوئی کا درس
ایامِ مناسبت کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی ولادت اور ایامِ عزائے فاطمی کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ مجالس و محافل کا مقصد صرف ثواب حاصل کرنا نہیں، بلکہ سیرتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے پیغامات کو عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی ہے۔
انہوں نے دربارِ ابن زیاد میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے استقامت بھرے موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی سیرت مشکل حالات میں حوصلے، حق گوئی اور ظلم کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہے۔ اسی طرح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی حق کے دفاع اور جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی عملی مثال ہے۔
فرقہ واریت کے بجائے عدل و ظلم کو معیار بنانے کی اپیل
عالمی اور علاقائی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ سیاسی تنازعات کو محض شیعہ سنی کشمکش کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے عدل و ظلم اور انسانی حقوق کے اصولوں پر پرکھنا چاہیے۔ انہوں نے یمن اور سعودی عرب کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے فرقہ وارانہ رنگ دینے سے گریز اور مظلوموں کی حمایت پر زور دیا۔
انہوں نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں کی تحقیق کے بغیر انہیں قبول نہ کرنے کی تلقین بھی کی۔
خطبات کے اختتام پر مولانا سید رضا حیدر زیدی نے دنیا بھر کے مظلوموں کی نصرت، بیماروں کی شفایابی، گناہوں کی مغفرت اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے دعا کی۔










آپ کا تبصرہ