جمعہ 11 ستمبر 2026 - 19:48
حضرت مختار نے امام زین العابدینؑ کو خوش کیا اور امام حسینؑ کے قاتلوں سے قصاص لیا: مولانا سید رضا حیدر زیدی

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین سید رضا حیدر زیدی نے شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے قرآن و سیرتِ اہل بیتؑ سے وابستگی، حسنِ اخلاق، امانت و دیانت، تقیہ، دینی ذمہ داری اور باہمی اتحاد کو مؤمن کی عملی زندگی کے اہم تقاضے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اہل بیتؑ کے پیروکاروں کو اپنے کردار و عمل کے ذریعے دین اور ولایت کی طرف لوگوں کو راغب کرنا چاہیے، جبکہ موجودہ حالات میں بصیرت، صحیح تشخیص اور حکمتِ عملی کے ساتھ مؤثر کردار ادا کرنا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ/ 11 ستمبر 2026: شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزۂ علمیہ حضرت غفران مآبؒ لکھنؤ، کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ الٰہی، سیرتِ اہل بیت علیہم السلام، حسنِ اخلاق، امانت داری، تقیہ، اتحاد، دینی ذمہ داری اور موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے خطبہ کے آغاز میں تقویٰ الٰہی کی تاکید کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں، ذہنوں اور اعمال میں ہمیشہ تقویٰ برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

انہوں نے ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوئے بنی امیہ کے طرزِ حکومت اور اہل بیت علیہم السلام کی امامت کے طریقۂ کار کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنی امیہ کی حکومت طاقت، ظلم اور سختی پر قائم تھی، جبکہ اہل بیت علیہم السلام کی امامت میں نرمی، الفت، وقار، تقیہ، تقویٰ اور جدوجہد جیسے اوصاف نمایاں ہیں۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے واضح کیا کہ نرمی کمزوری نہیں بلکہ حکمت اور مناسب تدبیر کے ساتھ معاملات انجام دینے کا نام ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی تعلیم دیتی ہے، اس لئے ان کے پیروکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ لوگوں کو دین کی طرف راغب کریں۔

انہوں نے کہا کہ حسنِ اخلاق صرف مسجد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ گھر، بازار اور معاشرتی زندگی میں بھی اس کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ انسان کو اپنی اہلیہ، بچوں، دوستوں اور دیگر لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے۔ انہوں نے امانت داری اور سچائی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ معمولی دنیاوی فائدے کے لئے جھوٹ اور خیانت سے بچنا ضروری ہے۔

تقیہ کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ جب انسان کی جان، مال، عزت یا دین کو خطرہ لاحق ہو تو اپنے دین کی حفاظت کے لئے حکمت کے ساتھ عمل کرنا تقیہ کے مفہوم میں شامل ہے۔ انہوں نے روایت میں مذکور ’’اجتہاد‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں اجتہاد سے مراد فقہی اصطلاح والا اجتہاد نہیں بلکہ کوشش، سعی اور محنت ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں کی ذمہ داری صرف اپنی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ انہیں اپنے کردار کے ذریعہ دوسروں کو بھی دین اور ولایتِ اہل بیت علیہم السلام کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ پہلے انسان خود دین کو سمجھے اور اس پر عمل کرے، پھر اپنے عمل و کردار کے ذریعہ دوسروں کو اس کی طرف دعوت دے۔

انہوں نے غیر مسلموں کے ساتھ بھی امانت، انصاف اور حسنِ سلوک کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کسی غیر مسلم کا مال صرف اس کے غیر مسلم ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوجاتا۔ اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کو ہر حال میں امانت و دیانت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مسجد کی مسماری پر تشویش

خطبہ کے دوسرے حصہ میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حالیہ حالات کے تناظر میں سہارنپور میں مسجد کی مسماری کا ذکر کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے بیان کا خلاصہ پیش کیا کہ جسمیں مسجد کی مبینہ غیر قانونی مسماری کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی، انتظامی احکامات اور کارروائی کا ریکارڈ محفوظ رکھنے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوز منظر عام پر لانے، مشینری اور پولیس کارروائی سے متعلق احکامات کی جانچ اور متعلقہ افسران کے کردار کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے انصاف اور قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ حکمرانوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری کے ساتھ ادا کرنی چاہئیں تاکہ معاشرے میں امن و امان برقرار رہے۔

خطہ کی صورتحال اور مزاحمت کا ذکر

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے خطہ کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے یمن کی انصار اللہ تحریک اور مزاحمت کے مختلف پہلوؤں پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کے ظلم و استبداد کے باوجود حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور مزاحمت و استقامت کے نتیجے میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے حزب اللہ کے ایک اہم زیرِ زمین مقام پر اسرائیلی حملے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے واقعات مزاحمت کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔ انہوں نے مؤمنین کو مایوسی اور خوف سے بچنے اور استقامت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے اسرائیل کے مستقبل سے متعلق رہبرِ معظم شہید آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطہ کے حالات کو طویل المدت تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

قیامِ توابین اور حضرت مختار ثقفی کا تقابلی جائزہ

خطبہ کے ایک اہم حصہ میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے قیامِ توابین اور حضرت مختار ثقفی کے قیام کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا کے بعد کوفہ کے بعض افراد کو امام حسین علیہ السلام کی نصرت نہ کر پانے پر شدید ندامت ہوئی اور انہوں نے توبہ اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے قصاص کے لئے قیام کیا۔ تاریخ میں یہ گروہ ’’توابین‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ توابین کی نیت میں توبہ اور پشیمانی کا جذبہ موجود تھا اور ان کے متعدد افراد شہید ہوئے، تاہم ان کے عملی طریقۂ کار کا حضرت مختار ثقفی کے قیام سے تقابل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت مختار ثقفی نے پہلے کوفہ پر اپنا اقتدار قائم کیا اور اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو تلاش کرکے ان سے قصاص لیا۔ اس طرح ان کا قیام اپنے بنیادی مقصد کے حصول کے اعتبار سے مؤثر ثابت ہوا۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے اس تاریخی واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صرف جذبات کافی نہیں بلکہ صحیح تشخیص، بصیرت، تدبیر، قیادت اور مناسب حکمتِ عملی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جذبہ اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن جذبات کے غلبہ میں انسان صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔

مومن کو خوش کرنا عبادت ہے

خطبہ میں انہوں نے مومن کے دل کو خوش کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی مومن کو خوش کرنا عبادت ہے۔ بیمار کی عیادت، کسی کو تحفہ دینا، حسنِ سلوک اور خوش اخلاقی کے ذریعہ کسی کے دل کو خوش کرنا بھی نیکی کے اعمال میں شامل ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی مومن کو خوش کرنے کے لئے جھوٹ، غیبت، تمسخر یا کسی حرام طریقے کا استعمال درست نہیں۔ مستحب کام کے لئے حرام ذریعہ اختیار کیا جائے تو وہ مستحب نہیں رہتا۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حضرت مختار ثقفی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کو خوش کیا اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں سے قصاص لیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی شخصیات اور ان کے اقدامات کو جذبات کے بجائے بصیرت اور تاریخی حقائق کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں مولانا سید رضا حیدر زیدی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جذبات کے سیلاب میں بہنے کے بجائے حق و بصیرت کے ساتھ فیصلے کرنے، اپنی دینی قیادت پر اعتماد رکھنے، باہمی اتحاد و اتفاق قائم رکھنے اور سیرتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے مظلومین اور مزاحمت کرنے والوں کی کامیابی، خطہ میں امن کے قیام اور ظلم و ناانصافی کے خاتمہ کے لئے بھی دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha