حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین علی خلیل پور نے حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں منعقدہ محفلِ تلاوتِ فاطمی میں سورۂ یٰسین کی آخری آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید انسان کو بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی تخلیق اور کائنات کی عظمت میں غور کرکے خداوند متعال کی قدرت کو پہچانے اور آخرت کی تیاری کرے۔
انہوں نے مُردوں کو دوبارہ زندہ کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید انسان کو اس کی ابتدائی تخلیق کی یاد دلاتا ہے کہ وہ ایک معمولی قطرے سے وجود میں آیا۔ جب خداوند متعال پہلی بار انسان کو پیدا کرنے پر قادر ہے تو اسے دوبارہ زندہ کرنا بھی اس کے لیے آسان ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی غلطیوں پر اصرار کرنے کے بجائے حقیقت کو قبول کرنا چاہیے، کیونکہ غور و فکر اور صحیح بات کو تسلیم کرنا انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین خلیل پور نے عقل و فکر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ بینائی، سماعت، حرکت، اعصابی نظام جیسی نعمتیں خداوند متعال کی قدرت کی نشانیاں ہیں، لیکن انسان اکثر ان نعمتوں کی اہمیت پر غور نہیں کرتا۔ ان نعمتوں پر توجہ انسان کو اپنے پروردگار کی بہتر معرفت حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
انہوں نے کائنات کی وسعت اور قدرتی مظاہر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جس خدا نے عظیم کائنات کو پیدا کیا ہے، وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی پوری قدرت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری کائنات خداوند متعال کے اختیار میں ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنے سے انسان مال و دولت، گھر، گاڑی اور دوسری دنیاوی چیزوں پر غرور کرنے سے بچ سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ممنوع نہیں، بلکہ انسان کو چاہیے کہ ان نعمتوں کو درست طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اپنی آخرت سنوارنے کی کوشش کرے۔
انہوں نے آخر میں قرآن مجید کی آیات میں غور و فکر، خداوند متعال کی نعمتوں کی قدر دانی، غرور سے پرہیز اور آخرت کی تیاری کو سورۂ یٰسین کی آخری آیات کے اہم پیغامات قرار دیا۔










آپ کا تبصرہ