حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ مرکزی میں ولی فقیہ کے نمائندے آیت اللہ قربان علی دری نجفآبادی نے درسِ خارج میں کائنات کی تخلیق اور اس میں موجود نظم و ترتیب پر غور کرنے کی اہمیت بیان کی۔
انہوں نے شیخ صدوق کی کتاب ’’توحید‘‘ میں موجود ایک روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص آسمان اور ستاروں کو دیکھ کر ان کی عظمت اور کائنات کے حیرت انگیز نظام میں غور کرتا تھا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اتنی منظم اور عظیم دنیا خود بخود وجود میں نہیں آسکتی، بلکہ اس کا ایک طاقتور اور حکیم خالق ضرور ہے۔ اسی لیے اس نے کہا: «رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»۔
آیت اللہ دری نجفآبادی نے کہا کہ قرآن کریم بھی انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے: «إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ»۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کے بدلنے میں عقل رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور کیا اور خدا کی وحدانیت کو پہچانا۔ قرآن میں آپؑ کا قول ہے: «إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ»۔
صوبہ مرکزی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے کہا کہ قرآن کریم انسان کو آسمانوں اور زمین کی حقیقت اور اس کے نظام میں بھی غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ خداوند متعال فرماتا ہے: «أَوَلَمْ یَنْظُرُوا فِی مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَیْءٍ»۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں ’’تبارک‘‘، ’’سبحان‘‘ اور ’’ملکوت‘‘ جیسے الفاظ خداوند متعال کی عظمت اور پوری کائنات پر اس کی قدرت و حاکمیت کو بیان کرتے ہیں۔
آیت اللہ دری نجفآبادی نے آخر میں کہا کہ انسان کو صرف دنیا کی ظاہری چیزوں پر نظر نہیں رکھنی چاہیے، بلکہ کائنات میں موجود نشانیوں پر غور کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ خدا کی قدرت، اس کی ربوبیت اور اس کی حاکمیت کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔










آپ کا تبصرہ