اتوار 18 اکتوبر 2026 - 18:30
اعتدال، غور و فکر اور آزادگی سیرتِ نبویؐ کے اہم اصول ہیں: حجۃ الاسلام رفیعی

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر رفیعی نے کہا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے اہم اصولوں میں اعتدال، بات کرنے اور کام کرنے سے پہلے غور و فکر، حریت و آزادی اور الٰہی حدود کی پابندی شامل ہیں۔ ان اصولوں پر عمل ہر دور میں انسان کی زندگی کو بہتر اور متوازن بنانے میں مددگار ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین رفیعی نے تہران میں ٹیلی ویژن پروگرام ’’سمت خدا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کا مطلب 1400 سال پہلے کے تمام طریقۂ زندگی کو آج کے دور میں اپنانا نہیں، بلکہ ان اخلاقی اور انسانی اصولوں پر عمل کرنا ہے جو ہر زمانے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ادب، حیا، خاندان کا احترام اور دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ ایسی اقدار ہیں جن کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال ضروری ہے

انہوں نے اعتدال کو سیرتِ نبویؐ کا ایک اہم اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو زندگی کے مختلف شعبوں میں افراط و تفریط سے بچنا چاہیے۔ خاندان میں اعتدال کا مطلب یہ ہے کہ بچوں سے محبت اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ دینی و اخلاقی اصولوں کا بھی خیال رکھا جائے۔ اسی طرح عبادت میں مشغولیت کے باعث بیوی بچوں کے حقوق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے سماجی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رشتہ داری اور دوستی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کی وجہ سے انصاف اور اصولوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے بھائی عقیل کو بیت المال سے ان کے حق سے زیادہ دینے سے انکار کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رشتوں کی محبت بھی انصاف پر غالب نہیں آنی چاہیے۔

معاشی زندگی میں بھی اعتدال ضروری ہے۔ انسان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال کمانا چاہیے، لیکن دولت کی حد سے زیادہ محبت اسے خدا سے غافل نہ کرے۔ اسی طرح عبادت میں بھی ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے دوسروں کو پریشانی نہ ہو۔

بولنے اور کام کرنے سے پہلے سوچیں

حجۃ الاسلام رفیعی نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے فائدہ گفتگو اور فضول بحثوں سے پرہیز کرتے تھے۔ انسان کو ایسی باتوں اور بحثوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے جن سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔ کسی بات کو کہنے یا کوئی کام کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کرنا ضروری ہے، کیونکہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلے بعد میں پشیمانی کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خاموشی انسان کو سوچنے کا موقع دیتی ہے۔ عقلمند شخص پہلے غور کرتا ہے اور پھر بات کرتا ہے۔ دینی تعلیمات میں کائنات، فطرت، انسانی زندگی اور اپنے اعمال کے نتائج پر غور کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

حریت و آزادی اور اچھی زندگی کی پانچ خصوصیات

انہوں نے آزادی کو سیرتِ نبویؐ کا ایک اور اہم اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانوں کو غلط پابندیوں اور نادرست وابستگیوں سے آزاد کرانا چاہتے تھے، تاکہ وہ اپنی عزت و کرامت برقرار رکھتے ہوئے درست راستے کا انتخاب کرسکیں۔

حجۃ الاسلام رفیعی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے اچھی زندگی کی پانچ خصوصیات بیان کیں: وعدہ پورا کرنا، تدبیر اور منصوبہ بندی، حیا، حسنِ ظن اور آزادی۔

انہوں نے کہا کہ وعدے پورے کرنے سے باہمی اعتماد مضبوط ہوتا ہے، جبکہ منصوبہ بندی انسان کو اپنی آمدنی اور اخراجات بہتر انداز میں چلانے میں مدد دیتی ہے۔ حیا خاندان اور معاشرے میں احترام برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے، جبکہ حسنِ ظن دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ان اصولوں کے ساتھ الٰہی حدود کی پابندی، اعتدال اور غور و فکر کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے، تاکہ انسان ایک متوازن، ذمہ دارانہ اور بامقصد زندگی گزار سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha