حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گمبہ سکردو بلتستان کے امام جمعہ حجۃ الاسلام و المسلمین سید احمد شاہ الحسینی نے خطبۂ جمعہ میں اسراف و تبذیر سے اجتناب، اعتدالِ زندگی اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے درست استعمال کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام انسان کو نعمتوں سے استفادہ کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ ان کے غلط، بے جا اور غیر ذمہ دارانہ استعمال سے منع کرتا ہے۔ ایک صالح معاشرہ وہ ہے جہاں نہ فضول خرچی ہو اور نہ بخل، بلکہ مال، وقت اور وسائل کو ضرورت، ذمہ داری اور رضائے الٰہی کے مطابق استعمال کیا جائے۔
انہوں نے سورۂ فرقان کی آیت «وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا» کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے اہلِ ایمان کے خرچ کرنے کا اصول اعتدال قرار دیا ہے۔ قَوام کا مفہوم محض کم خرچ کرنا نہیں، بلکہ صحیح جگہ، صحیح مقدار اور صحیح مقصد کے مطابق خرچ کرنا ہے۔ ضرورت کے موقع پر خرچ کرنا سخاوت ہے، جبکہ دکھاوے، بے مقصد تعیش اور غیر ضروری استعمال میں مال خرچ کرنا اسراف و تبذیر کے دائرے میں آتا ہے۔
اسراف اور تبذیر میں فرق
حجۃ الاسلام سید احمد شاہ الحسینی نے اسراف اور تبذیر کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسراف سے مراد کسی جائز چیز میں حد سے تجاوز کرنا ہے، جیسے ضرورت سے زیادہ کھانا، پانی، بجلی یا دیگر وسائل استعمال کرنا، جبکہ تبذیر میں مال یا نعمت کو بے محل، بے مقصد یا غلط جگہ ضائع کرنا شامل ہے۔
انہوں نے سورۂ اسراء کی آیت «إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے فضول خرچی کی سنگینی کو واضح کیا ہے۔ اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ کھانا لے کر ضائع کرتا ہے تو یہ اسراف ہے، اور اگر جان بوجھ کر کسی نعمت کو بے مقصد ضائع کرے تو یہ تبذیر کی واضح صورت ہے۔ اسی طرح پانی، بجلی اور دیگر وسائل کا بے تحاشا استعمال بھی نعمتوں کی ناقدری کے زمرے میں آتا ہے۔
اہل بیتؑ کی تعلیمات میں اعتدال کی اہمیت
امام جمعہ گمبہ سکردو نے امام علیؑ کے فرمان «مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میانہ روی اختیار کرنے والا محتاج نہیں ہوتا۔ انہوں نے امام جعفر صادقؑ کی تعلیمات کی روشنی میں کہا کہ انسان کے اخراجات میں توازن ضروری ہے؛ نہ ایسی فضول خرچی ہونی چاہیے جس سے مستقبل کی ضروریات متاثر ہوں اور نہ ایسا بخل کہ انسان اپنے اہل و عیال اور معاشرے کے جائز حقوق ادا کرنے سے گریز کرے۔
انہوں نے امام حسن عسکریؑ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی عبادت صرف ظاہری عبادات کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ اللہ کے احکام میں غوروفکر، گناہوں سے اجتناب اور تقویٰ بھی عبادت کا اہم حصہ ہے۔ اسی طرح مال و دولت اور دیگر نعمتوں کے استعمال میں بھی تقویٰ اور جواب دہی کا احساس ضروری ہے۔
اسراف کے معاشرتی اور گھریلو نقصانات
حجۃ الاسلام سید احمد شاہ الحسینی نے کہا کہ اسراف صرف فرد کے مالی مسائل تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے معاشرتی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ فضول خرچی سے گھریلو معاشی دباؤ بڑھتا ہے، میاں بیوی اور خاندان کے درمیان اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں، شادی بیاہ میں غیر ضروری مقابلہ اور نمود و نمائش فروغ پاتی ہے اور بچوں میں غیر ضروری خواہشات اور تعیش کی عادت پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فضول خرچی معاشرے میں ضرورت کے بجائے دکھاوے کو معیار بنانے کا سبب بنتی ہے اور غریب و ضرورت مند طبقات کے احساسات سے بے حسی پیدا کرتی ہے۔ بالخصوص شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں غیر ضروری اخراجات، کھانے کا ضیاع اور مہنگی نمائشی رسومات ایک سنجیدہ معاشرتی مسئلہ بن چکی ہیں۔ اسلام خوشی منانے سے منع نہیں کرتا، لیکن خوشی کے نام پر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو ضائع کرنا اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں۔
مال ہی نہیں، وقت اور صلاحیتوں کا اسراف بھی قابلِ توجہ ہے
انہوں نے واضح کیا کہ اسراف صرف پیسوں کا نہیں ہوتا، بلکہ انسان کی زندگی میں موجود ہر نعمت کے استعمال سے اس کا تعلق ہے۔ مال کا اسراف دولت کو ضائع کرتا ہے، کھانے کا اسراف رزق کی ناقدری ہے، پانی کا اسراف اللہ کی نعمت کا ضیاع ہے، جبکہ بجلی اور دیگر اجتماعی وسائل کا بے جا استعمال معاشرے کے حقوق کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح وقت کا ضیاع اور اپنی صلاحیتوں کا بے مقصد استعمال بھی انسان کے مقصدِ زندگی کو کمزور کرتا ہے۔
انہوں نے سورۂ تکاثر کی آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں انسان کو نعمتیں استعمال کرنے کا اختیار ضرور دیا گیا ہے، لیکن آخرت میں انہی نعمتوں کے استعمال کے بارے میں سوال بھی ہوگا۔ اس لیے ہر انسان کو اپنی روزمرہ زندگی میں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو کس طرح استعمال کر رہا ہے۔
قیامت کے سوالات کو دنیا ہی میں سامنے رکھنا ہوگا
امام جمعہ گمبہ سکردو نے سورۂ مدثر کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن اہلِ جہنم سے پوچھا جائے گا: «مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ؟» یعنی تمہیں جہنم میں کس چیز نے پہنچایا؟ وہ جواب دیں گے: «لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ، وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ، وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ، وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ»۔
انہوں نے کہا کہ ان آیات میں ہمارے لیے واضح پیغام موجود ہے کہ نماز، محتاجوں کے حقوق، اخلاقی ذمہ داری اور آخرت پر یقین ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ انسان کو اپنی دنیاوی زندگی میں ہی ان ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنا چاہیے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
کربلا میں خواہش پر مقصدِ الٰہی کو ترجیح دینے کا درس
کربلا کے واقعات سے سبق بیان کرتے ہوئے سید احمد شاہ الحسینی نے کہا کہ امام حسینؑ کی زندگی ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ مومن اپنی خواہشات اور دنیاوی سہولتوں کو اللہ کی رضا اور حق کے مقصد پر قربان کرتا ہے۔
انہوں نے حضرت عباسؑ کی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دریائے فرات پر پہنچنے کے باوجود اپنی پیاس کے مقابلے میں اہلِ حرم اور امام حسینؑ کی پیاس کو مقدم رکھنا ایثار، قناعت اور دوسروں کے حق کو اپنی خواہش پر ترجیح دینے کا عظیم عملی نمونہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہل بیتؑ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی صرف اپنی خواہشات پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کی رضا کے مطابق استعمال کرنے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا نام ہے۔
روزمرہ زندگی میں اعتدال اختیار کرنے کی تاکید
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر امام جمعہ گمبہ سکردو نے عوام پر زور دیا کہ کھانا اتنا ہی لیا جائے جتنا کھایا جا سکے، پانی ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے، بجلی اور دیگر وسائل کے بے جا استعمال سے اجتناب کیا جائے اور شادی بیاہ و دیگر تقریبات میں غیر ضروری رسم و رواج اور نمود و نمائش سے بچا جائے۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں میں قناعت، ذمہ داری اور نعمتوں کی قدر کا شعور پیدا کریں اور انہیں یہ سمجھائیں کہ اللہ کی عطا کردہ ہر نعمت امانت ہے، جس کے استعمال کے بارے میں انسان کو دنیا میں بھی ذمہ دار ہونا ہے اور آخرت میں بھی جواب دینا ہوگا۔









آپ کا تبصرہ