حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک خطاب میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے درست استعمال اور غلط طرزِ عمل کے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو جب نعمتوں سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، اس نے ایسا نہیں کیا تو اسے اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔
انہوں نے سورۂ احقاف کی آیت «أَذْهَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان دنیا میں ملنے والی نعمتوں کو کس راستے میں استعمال کرتا ہے، اس کا حساب آخرت میں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے «عَذَابَ الْهُونِ» یعنی ذلت و خواری کے عذاب کا ذکر کیا ہے۔
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ عذاب صرف آگ کی صورت میں نہیں ہوتا بلکہ اس کی مختلف شکلیں ہیں۔ آخرت میں حسرت بھی ایک بڑا عذاب ہے، کیونکہ وہاں انسان اپنے اعمال پر ایسی حسرت میں مبتلا ہوگا جو ختم نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملامت اور شماتت بھی عذاب کی ایک صورت ہے۔ سورۂ دخان میں «ذُقْ إِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیزُ الْکَرِیمُ» کا ذکر اسی انداز کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں انسان کو اس کے سابقہ دعووں کے حوالے سے ملامت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے خوف کو بھی آخرت کے عذاب کی ایک صورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں انسان کو ہمیشہ کسی نہ کسی امید کی گنجائش نظر آتی ہے، لیکن آخرت میں عذاب سے نجات کی کوئی راہ باقی نہیں رہے گی۔










آپ کا تبصرہ