جمعہ 25 ستمبر 2026 - 13:48
معاشرے کے ضرورت مند افراد کی مدد صاحبِ استطاعت افراد کی اہم ذمہ داری ہے: مولانا سید احمد علی عابدی

حوزہ/ ممبئی کی خوجہ شیعہ اثنا عشری جامع مسجد، پالا گلی میں نمازِ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید احمد علی عابدی نے دنیا کی نعمتوں کو آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کرنے پر زور دیتے ہوئے صدقہ و خیرات، ضرورت مندوں کی مدد، تعلیم و علاج میں تعاون اور معاشرے کے کمزور طبقات کی دستگیری کو اہلِ استطاعت کی اہم ذمہ داری قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی/ خوجہ شیعہ اثنا عشری جامع مسجد، پالا گلی میں 25 ستمبر کو نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید احمد علی عابدی کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امام زمانہ حضرت ولی عصرؑ کے ظہور میں تعجیل، دنیا سے ظلم و جور کے خاتمے اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے دعا کی۔

مولانا سید احمد علی عابدی نے کہا کہ انسان جس دنیا میں زندگی گزار رہا ہے وہ عارضی ہے، جبکہ آخرت اس کی حقیقی اور دائمی منزل ہے۔ دنیا میں انسان کو جو کچھ حاصل ہے، اسے آخرت کی تیاری اور نیک اعمال کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے سورۂ بقرہ کی آیت 254 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرنا چاہیے جب نہ تجارت کام آئے گی، نہ دوستی اور نہ دنیاوی تعلقات۔

انہوں نے کہا کہ انسان کا مال، دولت، مکان، جائیداد اور دیگر وسائل ہی نہیں بلکہ عقل، حافظہ، زبان، ہاتھ، پاؤں اور دیگر صلاحیتیں بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ انسان جو کچھ کماتا ہے، وہ بھی انہی عطا کردہ صلاحیتوں اور وسائل کے ذریعے کماتا ہے؛ اس لیے اسے چاہیے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ضرورت مندوں اور خیر کے کاموں کے لیے بھی حصہ نکالے۔

صدقہ و خیرات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مولانا عابدی نے کہا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ اس میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے درخت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح بعض شاخوں کی تراش خراش کے بعد نئی شاخیں اور پتے نکلتے ہیں، اسی طرح اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا بھی برکت اور خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے اہلِ ایمان کو تعلیم، علاج، یتیموں، بیواؤں اور دیگر ضرورت مندوں کی مدد کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ صاحبِ استطاعت افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کے ضرورت مندوں کا سہارا بنیں۔ کسی بچے کی فیس، کسی مریض کے علاج یا کسی مستحق خاندان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کیا گیا تعاون نہ صرف معاشرتی ذمہ داری کی ادائیگی ہے بلکہ آخرت کے لیے بھی نیک عمل کا سرمایہ ہے۔

مولانا عابدی نے سہمِ امام اور دیگر شرعی اموال کے مصرف کے حوالے سے کہا کہ شرعی اموال اپنی مقررہ شرعی ذمہ داریوں کے مطابق خرچ کیے جاتے ہیں، تاہم انسان کو اپنی آخرت کے لیے اپنے ذاتی حلال مال سے بھی صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان اپنی طرف سے ضرورت مندوں کی مدد اور خیر کے کاموں میں حصہ لینے کو اپنی مستقل ذمہ داری سمجھے۔

انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی دام ظلہ کی سادہ زندگی اور ذاتی مال کے استعمال کے حوالے سے بیان کردہ مثال کا ذکر کرتے ہوئے حاضرین کو ترغیب دی کہ انسان اپنی ضروریات میں اعتدال اختیار کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق اضافی وسائل کو خیر کے کاموں میں صرف کرے۔

مولانا سید احمد علی عابدی نے کہا کہ معاشی حالات بہتر ہونے کے باوجود اگر صاحبِ استطاعت افراد ضرورت مندوں کی مدد سے غافل رہیں تو معاشرے میں دوسروں پر انحصار کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت مندوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات میں تعاون کرنا معاشرے کے صاحبِ ثروت افراد کی اہم سماجی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آخرت میں انسان کے ساتھ وہی اعمال جائیں گے جو اس نے دنیا سے آگے بھیجے ہوں گے۔ اس لیے ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق، خواہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ ہو، حلال مال سے صدقہ و خیرات کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کا معمول بنانا چاہیے۔

خطاب کے اختتام پر مولانا سید احمد علی عابدی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام اہلِ ایمان کو حلال رزق، اس میں برکت اور اپنی عطا کردہ نعمتوں کو صحیح مصرف میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ضرورت مندوں کی مدد کی توفیق دے اور امام زمانہ حضرت ولی عصرؑ کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha