حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آج شیعہ عیدگاہ حسین آباد میں نمازِ جمعہ کے پروقار و روحانی اجتماع کے موقع پر امام جمعہ حسین آباد (جپلا ) جھارکھنڈ مولانا سید علی سجیر رضوی نے اپنے خطبے میں سورۂ آل عمران کی با برکت آیت "الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ" (جو خوشحالی اور تنگدستی دونوں حالتوں میں راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں) کو موضوعِ سخن بناتے ہوئے انسانی زندگی اور معاشرے کی فلاح کے لیے قرآن و حدیث کے درخشندہ اصولوں کو اجاگر کیا
مولانا نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے نورانی ارشادات کی روشنی میں بیان کیا کہ جو شخص اپنے اندر تین عظیم اخلاقی خصلتیں—مالی تنگی کے باوجود انفاق کرنا، تمام لوگوں سے گشادہ روئی اور اخلاق سے پیش آنا، اور اپنے نفس سے بندگانِ خدا کے ساتھ انصاف کرنا—پیدا کر لے، اس کے لیے بارگاہِ الٰہی سے جنت کا وجوب یقینی ہو جاتا ہے اور دنیاوی زندگی سے تمام خانمان سوز تنازعات، تلخیاں اور محرومیاں ختم ہو جاتی ہیں۔
مولانا سید علی سجیر رضوی نے تاریخی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام صرف صاحبِ ثروت لوگوں کو نہیں بلکہ تنگدست افراد کو بھی اپنی صلاحیت و استطاعت کے مطابق خیر و فلاح کے کاموں میں حصہ لینے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسجد، مدرسہ، ہسپتال، اور عام المنفعہ کاموں میں مال خرچ کرنا اللہ کی عظیم عبادت ہے، جبکہ بخل (کنجوسی) انسانی روح کے لیے تباہ کن بیماری ہے۔
خطبے کے دوران انہوں نے خوش روئی اور خود اپنے نفس سے لوگوں کے ساتھ انصاف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنے غم کو دل میں چھپا کر دوسروں کے سامنے شاداب چہرہ لانا اور جو اپنے لیے پسند کرے وہی دوسروں کے لیے چاہنا ہی حقیقی مومن کی پہچان ہے۔ خطبے کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، باہمی اتحاد، بھائی چارے اور فقراء و مساکین کی فلاح کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں










آپ کا تبصرہ