جمعہ 25 ستمبر 2026 - 17:32
تقویٰ اختیار کریں اور باہمی اختلافات ختم کرکے معاشرے میں محبت بڑھائیں: مولانا امین حیدر

حوزہ/ بنارس کی مرکزی شیعہ جامع مسجد میں نائب امام جمعہ مولانا امین حیدر حسینی کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ الٰہی اختیار کرنے، باہمی اختلافات ختم کرنے اور معاشرے میں محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بنارس کے نائب امام جمعہ مولانا امین حیدر حسینی نے خطبۂ جمعہ میں قرآن کریم کی آیت «وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پروردگار عالم نے تقویٰ کو انسان کے لیے بہترین لباس قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان لباس کو اپنی زینت اور جسم کی خامیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کرتا ہے، اسی طرح تقویٰ انسان کو باطنی برائیوں سے محفوظ رکھتا اور اسے اخلاقی و روحانی خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان برائیوں سے دور رہے، عزت و کامیابی حاصل کرے اور جنت کی راہ پر گامزن ہو۔

مولانا امین حیدر حسینی نے کہا کہ اسلام صرف انفرادی عبادت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ معاشرے کو ہر طرح کی برائی سے پاک رکھنے، محبت، بھائی چارے، امن اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی بھی تاکید کرتا ہے۔ چاہے معاملہ خاندانی ہو، معاشرتی ہو یا انفرادی، اسلام نے زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کی ہے۔ قرآن کریم اور اہل بیتؑ کی تعلیمات پر عمل ہی انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

انہوں نے امام محمد باقرؑ کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اس شخص پر رحمت نازل فرمائے جو اپنے دو دوستوں کے درمیان محبت پیدا کرے۔ اس تعلیم سے واضح ہوتا ہے کہ ہمیں لوگوں کے درمیان دشمنی اور اختلاف پیدا کرنے کے بجائے محبت اور الفت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

نائب امام جمعہ بنارس نے کہا کہ شوہر اور بیوی، بھائی اور بھائی، بھائی اور بہن، والدین اور اولاد یا دو مومنوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنا کسی کو زیب نہیں دیتا۔ آج معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ معمولی باتوں پر خاندانوں اور لوگوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے حالات میں انسان کو عقل، سمجھ داری اور صبر سے کام لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی اختلاف کے موقع پر ایک فریق خاموشی اور صبر سے کام لے تو بہت سے معاملات وہیں ختم ہوسکتے ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ خاندان اور رشتوں کو کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ بعض اوقات اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود خاموش رہنا اور اچھا برتاؤ کرنا بھی خاندان کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے۔

مولانا امین حیدر حسینی نے کہا کہ اسلام انسان کو صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دوسروں اور پورے معاشرے کی بھلائی کا بھی حکم دیتا ہے۔ جب معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں تو معاشرے میں امن قائم ہوتا اور باہمی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔

انہوں نے امام زمانہؑ سے منسوب ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر استغفار نہ ہوتا تو زمین پر رہنے والے لوگ ہلاک ہوجاتے۔ اس لیے انسان کو اپنے لیے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی استغفار کرنا چاہیے اور ان کی بھلائی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

نائب امام جمعہ بنارس نے مزید کہا کہ صرف قرآن سن لینا یا پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ اس کے پیغام کو سمجھنا اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ قرآن کریم ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے اور اس کا مقصد انسان کو صحیح راستہ دکھانا، اسے نیک بنانا اور اچھے اخلاق سے آراستہ کرنا ہے۔

انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی تلاوت میں غور و فکر اور تدبر نہ ہو تو اس کا حقیقی مقصد پورا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہمیں قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے معانی اور پیغام کو سمجھنا اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہیے۔

مولانا امین حیدر حسینی نے خود کو اور تمام مومنین کو تقوائے الٰہی کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تقویٰ انسان کو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ اللہ کے نزدیک انسان کی عزت و کرامت کا معیار اس کا تقویٰ ہے۔ متقی اور پرہیزگار انسان کے اندر ایک ایسی روحانی قوت پیدا ہوتی ہے جو اسے مشکل حالات میں بھی ثابت قدم رہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس شخص کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو، وہ دنیا کی مادی طاقتوں سے خوف زدہ نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف اللہ کے پاس ہے۔ قرآن کریم میں گزشتہ اقوام اور امتوں کے متعدد واقعات بیان ہوئے ہیں جن سے انسان کو عبرت اور سبق حاصل کرنا چاہیے۔

مولانا امین حیدر حسینی نے کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے ابرہہ کے لشکر کے آنے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ابابیل پرندوں کے ذریعے اس لشکر کو تباہ کیے جانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ رکھتا اور اس کے دل میں تقویٰ و ایمان ہوتا ہے تو اسے کسی طاقت سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

بنارس کی مرکزی شیعہ جامع مسجد کے نائب امام جمعہ نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ ہمیں اپنی زندگی میں قرآن کریم اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کو صرف سننے اور پڑھنے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ان پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے اور جو شخص قرآن کریم اور اہل بیتؑ سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہے گا، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha