حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے تحت آستانہ شریف شہید سید محمد دانیال ؒ ڈب گاندربل میں سالانہ مجلسِ حسینی ؑ کا انعقاد کیا گیا؛ مجلس حسینی ؑ میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر انجمن شرعی شیعیان کے جرنل سیکریٹری حجت الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی نے مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور مکتب اہل بیتؑ کی حقیقی تعلیمات کا بنیادی تقاضا خدمت خلق، انسانیت کی فلاح، ضرورت مندوں کی دستگیری اور معاشرے کی تعمیر میں عملی کردار ادا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض مجالس میں شرکت اور مذہبی شعائر کی ادائیگی کافی نہیں، بلکہ ان تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہی حقیقی حسینی کردار کی علامت ہے۔

مولانا سید مجتبیٰ عباس نے قرآن کریم کی آیت "وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ في الْأَرْض" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ عمل اور کردار جو انسانیت کے لیے نفع بخش ہو، وہی پائیدار اثرات چھوڑتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ انسان کی اصل کامیابی اس میں ہے کہ وہ اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے مفید بنائے اور خدمت خلق کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔
انہوں نے کشمیر میں میر شمس الدین اراکیؒ اور دیگر بزرگوں کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مکتب اہل بیتؑ کی تعلیمات اور اس کے پیغام کو کشمیر میں متعارف اور مستحکم کرنے میں ان بزرگوں کی قربانیوں اور خدمات کا بنیادی کردار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان بزرگوں کی میراث کا تقاضا ہے کہ موجودہ نسل بھی دین، انسانیت اور معاشرے کی خدمت کو اپنی ترجیح بنائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اہل بیتؑ کی تعلیمات کسی خاص طبقے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے اخلاق، کردار، خدمت اور ہمدردی کا جامع پیغام رکھتی ہیں۔
انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ مسلکی اور تعصبات کی حدود سے بالاتر ہوکر انسانی خدمت اور باہمی اخوت کو فروغ دیں۔ ان کے مطابق حقیقی مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخش، خدمت گزار اور خیر کا ذریعہ بنے۔
آغا سید مجتبیٰ عباس نے معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات، بالخصوص صاف پینے کا پانی اور دیگر ضروری خدمات فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو جذباتی نعروں کے بجائے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے منظم اور پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
انہوں نے نوجوان نسل پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں، تعلیم، ہنر اور توانائی کو قوم و ملت کی تعمیر اور معاشی خود انحصاری کے لیے بروئے کار لانا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اگر عزم، محنت اور اجتماعی سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں تو معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیغام امام حسینؑ صرف کربلا کے واقعات کو یاد کرنے تک محدود نہیں بلکہ ظلم کے مقابلے میں استقامت، انسانیت کی خدمت، ضرورت مندوں کی مدد، ایثار، سخاوت اور حق و صداقت کے لیے عملی جدوجہد کا نام ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عزاداری کا مقصد حسینی افکار و کردار کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا بھی ہے۔
آغا سید مجتبیٰ عباس نے امام حسینؑ کی تعلیمات کی روشنی میں ضرورت مندوں کی حاجت روائی اور مخلوق خدا کی مدد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں موجود محتاج، کمزور اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنا محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔
انہوں نے اہل ایمان پر زور دیا کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی مشکلات کو محسوس کریں اور استطاعت کے مطابق ان کی مدد کے لیے آگے آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دین داری کا حقیقی معیار اخلاق، مروّت، شرافت، کردار اور دوسروں کے کام آنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ محض مذہبی شناخت کافی نہیں؛ ایک حقیقی پیرو مکتب اہل بیتؑ کو اپنے کردار اور عمل سے اس مکتب کی تعلیمات کی ترجمانی کرنی چاہیے۔

مجلس کے دوران آغا سید مجتبیٰ عباس نے کربلا کے بعد بنی اسد کی جانب سے شہدائے کربلا کی تدفین کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے خدمت، ایثار اور انسانی ہمدردی کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ کربلا کا پیغام آج بھی انسان کو دوسروں کی تکالیف میں شریک ہونے، ضرورت مندوں کا سہارا بننے اور حق و انسانیت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
انہوں نے اہل ایمان سے اپیل کی کہ وہ مجالس عزا اور عزاداری کو محض ایک مذہبی رسم کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ امام حسینؑ کے پیغام کو اپنی عملی زندگی، اخلاق، معاملات اور معاشرتی رویوں میں نافذ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عزادار اپنے کردار میں حسینی فکر، خدمت خلق، ایثار، سخاوت اور مظلوموں کی حمایت کو جگہ دیں تو یہی حقیقی معنوں میں عزاداری اور مکتب حسینؑ سے وفاداری ہوگی۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ پروردگار عالم امام حسینؑ کے صدقے اہل ایمان کو خدمت خلق، حاجت روائی، ایثار اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور معاشرے کو اخوت، امن، ہمدردی اور باہمی تعاون کا گہوارہ بنائے۔









آپ کا تبصرہ