جمعہ 21 اگست 2026 - 05:00
حقیقی عزادار یا 68 دنوں کا عزادار؟

حوزہ/عزاداری کوئی موسمی یا روایتی رسم نہیں، بلکہ کردار، طہارت اور معرفت کی مستقل تبدیلی کا نام ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کے غم میں غمگین ہونا اور ان کی خوشی میں خوش ہونا مومن کی علامت ہے، لیکن خوشی کا مطلب شریعت کی حدوں کو توڑنا، نچانا گانا، اور لغو حرکتیں کرنا ہرگز نہیں!

تحریر:ذاکرہ صفت الزہراء

حوزہ نیوز ایجنسی| دو مہینے آٹھ دن عزادارانِ امام حسینؑ اپنے آقا و مولا مظلومِ کربلا کی یاد میں سیاہ لباس پہنا، آنکھوں سے غمِ حسین میں آنسو بہائے، اشکبار آنکھوں سے تبرکات عزا کا دیدار کیا، زبان سے نوحہ خوانی ، مرثیہ خوانی اور ذاکری کی ،ہاتھوں سے سینہ زنی کی،پاؤں سے چل کر عزاخانوں میں گئے اور جنابِ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو ان کے مظلوم لعل کا پرسا دیا۔

عزاداری کوئی موسمی یا روایتی رسم نہیں، بلکہ کردار، طہارت اور معرفت کی مستقل تبدیلی کا نام ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کے غم میں غمگین ہونا اور ان کی خوشی میں خوش ہونا مومن کی علامت ہے، لیکن خوشی کا مطلب شریعت کی حدوں کو توڑنا، نچانا گانا، اور لغو حرکتیں کرنا ہرگز نہیں!
اطاعت کے بغیر محبت اور خوشی کا دعویٰ باطل ہےامام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:’’خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ کا قرب صرف اور صرف اس کی اطاعت سے حاصل ہو سکتا ہے۔ جو اللہ کا مطیع و فرمانبردار ہے وہی ہمارا دوست ہے، اور جو اللہ کا گنہگار و نافرمان ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔‘‘ (الکافی، جلد 2)
حضرت فاطمہ زہراؑ کی حقیقی خوشی شریعتِ محمدی کی پاسداری، اور اخلاقِ حسینی کو اپنانے میں پوشیدہ ہے۔سوچو! اگر اسی لمحے اجل آ جائے، یا ہمارے امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے سامنے تمہارے اعمال نامے پیش کیے جائیں، تو کیا تمہارا ضمیر اس بات گوارا کرے گا کہ کل تک جس زبان سے نوحہ خوانی کی اسی زبان پر گانے گائے جا رہے ہوں؟ جو آنکھیں اشکبار تھیںوہ ایک دن کے بعد ناچ گانے اور گناہ کا نظارہ کر رہی ہوں؟ کیا جن ہاتھوں نےاپنے سینہ پر حسین پر ماتم کیا، وہ ہاتھ ڈھول ، طبلہ اور پیانو پر ناچ رہی ہوں ؟جس قدم سےچل کر عزاخانوں میں مسلسل 68 دنوں تک عزاداری کی ہو وہ قدم گانوں پر دھنوں پر تھرک رہے ہوں؟خدا کے لیے اپنی دو مہینے کی ریاضت، پاکیزگی اور بی بی زہرا ؑکی دعاؤں کے اثر کو ایک 9 ربیع الاول کو ضائع مت کریں۔
اے عزادارِ حسین! ذرا ٹھہر کر اپنے گریبان میں جھانک اور اپنے ضمیر سے ایک سوال کر کہ آپ کون ہے اور آپ کا تعلق کس طاہر و مطہر ہستیوں اور کس با عظمت دربار سے ہے۔عزاداوں! جس زبان سے نوحے اور مرثیے پڑھے، جن ہاتھوں سے شبیر کا ماتم کیا، اور جن پاکیزہ آنکھوں سے عزاداری کے موتی بہائے ۔8 ربیع الاول کا سورج ڈھلتے ہی وہی وجود خرافات اور بیہودگی کا مرکز بن جائے گا؟9 ربیع الاول کی مسرت کو صلوات، تلاوت، ذکرِ اہل بیت اور شکرانےکا دن ہےنہ کہ ان افعال سے جن سے آلِ محمد ؑکا دل آزردہ ہو۔ تمہاری خوشی میں بھی اہل بیتؑ کی طہارت، وقار اور حیا کی جھلک نظر آنی چاہیے۔قرآن اور احادیثِ معصومین (ع) کا اصول ہے کہ گناہ انسان کی گزشتہ عبادات اور ثواب کو ویسے ہی جلا کر راکھ کر دیتے ہیں جیسے آگ لکڑی کو جلاتی ہے۔ دو مہینے آٹھ دن کی گریہ و زاری اور ماتم کا ثواب چند گھنٹوں کی خرافات میں ضائع کر دینا سخت نادانی ہے۔
انسانی فطرت اور نفسیات کا ایک عجیب و غریب اور لمحاتِ فکریہ پیش کرتا ہوا یہ سوال دراصل ہر بیدار ضمیر انسان کے لیے ایک تازیانہ ہے۔ دنیا کا عالم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص چند دن-صرف دو چار دن-تمباکو، پان مسالہ، سگریٹ یا شراب جیسی مضر اور مہلک اشیاء کا استعمال کر لے، تو اس کا جسم اور ذہن ان زہریلی عادتوں کا ایسا اسیر ہو جاتا ہے کہ وہ ان کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر پاتا۔ برائی اتنی تیزی سے رگ و پے میں اترتی ہے کہ چند دنوں کا چسکا عمر بھر کا روگ بن جاتا ہے، اور اسے چھوڑنا نا ممکنات میں سے معلوم ہونے لگتا ہے۔
لیکن اس کے برعکس، جب ایک عزادارِ حسین مسلسل دو مہینے آٹھ دن (پورا محرم الحرام، صفر المظفر اور آٹھ ربیع الاول تک) یعنی پورے 68 دن آلِ محمد علیہم السلام کے غم میں ڈوبا رہتا ہے، ہر روز مرثیہ خوانی، قصیدہ خوانی، ذاکری، نوحہ خوانی اور ماتم داری کا حصہ بنتا ہے، اپنی زبان کو ذکرِ اہل بیتؑ سےمزین رکھتا ہے، گناہوں سے پرہیز کرتا ہے، اور ایک خاص روحانی پاکیزگی کی فضا میں نفس کشی کرتا ہےتو پھر یہ اچھی عادت، یہ پاکیزہ رویہ اور یہ ڈسپلن 9 ربیع الاول کے ایک ہی دن میں اچانک کیسے غائب ہو جاتا ہے؟ بری عادتیں تو مہینوں اور سالوں کی کوشش کے بعد بھی نہیں چھوٹتیں، پھر 68 دنوں کی اتنی طویل اور مسلسل مشق کے بعد حاصل ہونے والی یہ عظیم ترین اچھی عادت ایک ہی رات میں کیسے فراموش ہو جاتی ہے؟اس ہولناک تضاد کی اصل وجہ انسانی نفس کی بناوٹ، ہماری عزاداری کی نوعیت اور معرفت کی کمی میں پوشیدہ ہے۔
جب عزاداری کو صرف ایک موسمی یا روایتی ’’رسم‘‘ یا ایک مخصوص ایام کی ’’تقریب‘‘ سمجھ لیا جائے، تو 68 دن کا یہ سفر محض ایک ظاہری عمل بن کر رہ جاتا ہے۔ عادت وہ بنتی ہے جو روح میں اتر جائے۔ اگر 68 دنوں کی عزاداری انسان کے دل، ذہن اور سیرت کا حصہ بن کر’’عادت ثانیہ بن چکی ہوتی، تو 9 ربیع الاول کیا، زندگی کا کوئی بھی دن اسے گناہ اور غفلت کی طرف نہ لے جاتا۔ لیکن اگر عزاداری کو محض کیلنڈر کی چند تاریخوں تک محدود رکھا جائے، تو جیسے ہی تاریخ بدلتی ہے، انسان کا ظاہری لباس اور رویہ بھی بدل جاتا ہے۔
برائی کا زہر جلد اس لیے چڑھتا ہے کیونکہ وہ انسان کی حیوانی جبلتوں کو ابھارتا ہے، جبکہ نیکی اور غمِ آلِ محمدؑ کا اثر روح کو بیدار کرتا ہے۔ روح کی بیداری کے لیے’’معرفت‘‘ شرط ہے۔ جب عزادار مرثیہ اور نوحہ صرف سنتا ہے لیکن اس کے پیغا م یعنی نماز، حیا، سچائی، اور باطل سے نفرت کو اپنی عملی زندگی میں شامل نہیں کرتا، تو وہ 68 دن بعد بھی وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا۔9 ربیع الاول یقیناً اہل بیت ؑ کی خوشی، فرحت اور سرور کا دن ہے، لیکن اس خوشی کا مطلب گناہ، لغویات، ناچ گانے یا پرہیزگاری کے خاتمے کا پروانہ ہرگز نہیں ہے۔ ائمہ علیہم السلام کی خوشی کا اظہار شریعتِ محمدی پر محکم انداز میں عمل کرنے سے ہوتا ہے، نہ کہ ان افعال سے جن سے آلِ محمدؑ کا دل دکھے۔ 68 دن جس زبان سے ’’یا حسینؑ،ہائے حسینؑ‘‘ کہا گیا ہو، جس آنکھ سے بی بی زہراؑکے پرسے میں آنسو بہےہوں، اور جس وجود نے پاکیزگی کا نمونہ پیش کیا ہو، وہ ایک ہی دن میں اپنے تمام پچھلے ثوابوں اور پاکیزہ عادتوں کو غفلت کے دریا میں کیسے بہا سکتا ہے؟
اگر بری عادتیں انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ان کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عزادارِ حسین بھی اپنے غمِ حسینؑ، اپنی پاکیزگی، اپنی نمازوں، اور اپنی حیا کو صرف دو مہینے آٹھ دن کی’’عارضی پرہیزگاری‘‘ نہ بنائیں، بلکہ اسے اپنے وجود کا ایسا دائمی حصہ بنا لیں کہ 9 ربیع الاول کے بعد بھی ان کا کردار، ان کا اخلاق اور ان کی پاکیزگی دنیا کے لیے ایک روشن مثال بنی رہے۔ سچا عزادار وہی ہے جس کی نیکی کی عادت محرم سے شروع تو ہوتی ہے، لیکن موت کے آخری سانس تک کبھی ختم نہیں ہوتی۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے شیعوں اور عزاداروں کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ہمارے لیے زینت اور عزت کا باعث بنو، ہمارے لیے رسوائی اور بدنامی کا سبب نہ بنو۔) (الکافی، جلد 2)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha