ہفتہ 22 اگست 2026 - 17:48
9 ربیع الاول؛ اگر واقعی طور پر اہل بیت علیہم السلام کی خدمت کرنا چاہتے ہو تو یہ کام انجام دو!

حوزہ / نو ربیع الاول ان مناسبتوں میں سے ہے جن کے بارے میں مختلف آراء اور نقاطِ نظر بیان کیے گئے ہیں۔ آیت اللہ بہجت رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے بیانات میں اس دن اور اس کے حوالے سے طرزِ عمل پر قابلِ غور انداز میں گفتگو فرمائی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ بہجت رحمۃ اللہ علیہ نے نو ربیع الاول کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس مناسبت اور اس کے حوالے سے اختیار کیے جانے والے طرزِ عمل کے بارے میں درج ذیل اہم نکات بیان فرمائے ہیں:

ایسی مجالس منعقد کرنے سے پہلے استدلال ضروری ہے!

ہمارے زمانے میں جو علماء موجود تھے بلکہ ہم سے کچھ پہلے کے زمانے کے علماء بھی، بعض لوگ ان سے عید الزہرا کے لیے تعاون طلب کرتے تھے۔ بعض علماء تعاون نہیں کرتے تھے جبکہ بعض تعاون کر دیتے تھے۔

میرا خیال ہے کہ اہلِ علم اگر یہاں، یعنی عید الزہرا کے موقع پر، اہل بیت علیہم السلام کی کوئی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو اہل استدلال کے لیے ضروری ہے کہ وہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے اثبات میں کوئی دلیل پیش کرنے کی کوشش کریں؛ ایسی سادہ، برہانی اور یقین پیدا کرنے والی دلیل کہ اگر یہی دلیل دیوار کے سامنے پیش کی جائے اور دیوار کو بولنے کی اجازت دی جائے تو وہ بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہے کہ "حق تمہارے ساتھ ہے"۔

اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اہل استدلال و ایمان اگر اس طرح کی دلائل تلاش کرنا چاہیں تو انہیں ضرور تلاش کر سکتے ہیں۔ نہ کسی کو برا بھلا کہنے کی ضرورت ہے، نہ طعنہ دینے کی اور نہ ہی کسی کی توہین کرنے کی۔

بلکہ یہ استدلال کرنا زیادہ اہم ہے اور ممکن ہے، خدا جانتا ہے، کہ اس کے ذریعہ کتنے ہی لوگ حق کی طرف آ جائیں۔ افسوس کہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ اصل میں یہ کام مقدم ہے۔ انسان نے اپنی پوری زندگی میں جو دس مضبوط دلائل بھی تیار کیے ہوں، خدا جانتا ہے کہ ان میں سے ایک دلیل کے ذریعے کتنے لوگ حق شناس اور راہِ حق پر گامزن (مستبصر) ہو سکتے ہیں۔

آپ استدلال کرنے سے کیوں غافل ہیں اور اس کے مقابلے میں مجالس و محافل منعقد کرنے اور اس طرح کے دیگر کاموں میں کیوں مشغول ہوتے ہیں؟ ہمیں متوجہ رہنا چاہیے، برہان اور دلیل کی حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور یہ جاننا چاہیے کہ برہان و دلیل میں ایسی خصوصیات موجود ہیں جن میں اس طرح کے اعمال قطعاً نہیں پائے جاتے۔ اگرچہ فرض کریں کہ انہی اعمال کے دوران بھی انسان ایسے کام انجام دے سکتا ہے جو دوسروں کے نزدیک قابل اعتراض نہ ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha