حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی مشاورت کے ماہر حجۃ الاسلام رضا یوسف زادہ نے کہا ہے کہ اگر شوہر یا بیوی بار بار گھر والوں کے لیے اپنی کی ہوئی محنت اور خدمات کا ذکر کرے تو ضروری نہیں کہ وہ احسان جتا رہا ہو۔ کئی مرتبہ اس کے پیچھے صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی محنت کو دیکھا جائے، اسے سراہا جائے اور اسے اپنی اہمیت کا احساس ہو۔
حجۃ الاسلام یوسف زادہ نے ’’پرسمان تربیتی‘‘ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شریکِ حیات کے کسی ایک جملے کی بنیاد پر اس کے بارے میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ کسی کے رویے کو سمجھنے کے لیے اس کی مجموعی عادت، حالات اور بات کہنے کے انداز کو دیکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگ گھر کی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں، اپنے شریکِ حیات اور بچوں کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں، لیکن جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی محنت کی قدر نہیں ہو رہی تو وہ اپنے کیے ہوئے کاموں کا ذکر شروع کر دیتے ہیں۔ بظاہر ان کی بات شکایت یا احسان جتانے جیسی لگ سکتی ہے، لیکن اندر سے وہ شاید صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان سے کہے: ’’ہم آپ کی محنتوں سے واقف ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔‘‘
ماہرِ مشاورت نے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان بہت سے مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب دونوں ایک دوسرے کی بات کے پیچھے موجود اصل احساس کو سمجھنے کے بجائے صرف الفاظ پر ردعمل دیتے ہیں۔ اگر شوہر اپنی محنت کا ذکر کرے اور بیوی فوراً ناراض ہو جائے یا بیوی اپنی قربانیوں کا ذکر کرے اور شوہر اسے طعنہ سمجھے تو بات معمولی اختلاف سے بڑھ کر دل آزاری تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ شریکِ حیات کی اچھی باتوں اور ذمہ داریوں کو خود محسوس کرکے اس کی تعریف کی جائے۔ گھر چلانے، بچوں کی دیکھ بھال، مالی ذمہ داریاں پوری کرنے یا دوسرے کے آرام کا خیال رکھنے جیسے کام معمولی نہیں ہوتے۔ جب انسان کو وقت پر محبت اور قدردانی ملتی رہے تو اسے اپنی محنت بار بار یاد دلانے کی ضرورت کم محسوس ہوتی ہے۔
حجۃ الاسلام یوسف زادہ نے کہا کہ ہر بات کو منفی انداز میں دیکھنے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ سامنے والا اصل میں کیا چاہتا ہے۔ ممکن ہے اس کی شکایت کے پیچھے غصہ نہیں بلکہ توجہ کی ضرورت ہو، اور اس کے بار بار اپنی محنت کا ذکر کرنے کے پیچھے احسان جتانا نہیں بلکہ محبت، توجہ اور قدردانی کی خواہش ہو۔
انہوں نے تاکید کی کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے صرف ایک دوسرے کی غلطیوں کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی محنت کو بروقت محسوس کرنا اور اس کا اعتراف کرنا بھی ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ