ہفتہ 22 اگست 2026 - 20:25
پیغامِ کربلا کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ناگزیر: آغا سید حسن موسوی

حوزہ/جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی نے بڈگام میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں اہل ایمان پر زور دیا ہے کہ محرم و صفر کے ایام عزا کے اختتام کو پیغامِ کربلا سے تعلق کے اختتام کے طور پر نہ لیا جائے، بلکہ امام حسینؑ کی تعلیمات اور کربلائی اقدار کو اپنی روزمرہ زندگی کا عملی حصہ بنایا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں نمازِ جمعہ کے موقع پر خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے آغا سید حسن موسوی نے کہا کہ عزاداری کا حقیقی مقصد صرف واقعات کربلا کی یاد منانا نہیں، بلکہ تقویٰ، نماز، حسن اخلاق، خود احتسابی، پاکیزگی اور خدمت خلق پر مبنی زندگی اختیار کرنا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایام عزا کے اختتام کے ساتھ حسینی تعلیمات پر عمل کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہی تعلیمات آئندہ زندگی کے لیے رہنما اصول بننی چاہئیں۔

انہوں نے حرام امور سے اجتناب، حقوق العباد کی ادائیگی، پابندی کے ساتھ نماز، پاکیزہ کردار اور حسن اخلاق کو حقیقی انتظار کی بنیادی علامتیں قرار دیا۔

انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے نماز کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق پر بھی زور دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مذہبی اجتماعات اور مجالس عزا اسی وقت بامعنی ثابت ہوسکتی ہیں جب ان کے نتیجے میں انسان کے کردار اور عملی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا ہو۔

انہوں نے زبان کے گناہوں، نماز میں غفلت، حقوق العباد کی پامالی اور ان تمام اعمال سے اجتناب کی تلقین کی جو مکتب اہل بیتؑ کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

واقعۂ کربلا کے عظیم کرداروں اور شہدائے کربلا کی سیرت سے درس لیتے ہوئے آغا سید حسن نے وفاداری، ایثار، صبر، عبادت، پاکیزگی اور استقامت کو ایسی بنیادی صفات قرار دیا جنہیں ہر مومن کو اپنی عملی زندگی میں اپنانا چاہیے۔

انہوں نے حضرت عباسؑ، حضرت علی اکبرؑ، حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ کی حیات مبارکہ کو ایمان، وفاداری، صبر اور ثابت قدمی کے لازوال نمونوں کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے والدین کے حقوق کی ادائیگی، معاشرتی ذمہ داریوں کو نبھانے، حلال روزی کمانے، نگاہ اور زبان کی حفاظت، غیبت سے اجتناب اور حسن اخلاق کو بھی خصوصی اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ سے حقیقی وابستگی کا اندازہ محض دعووں اور الفاظ سے نہیں بلکہ انسان کے کردار اور عملی زندگی سے ہوتا ہے۔

آغا سید حسن موسوی الصفوی نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ اپنی اصلاح نفس کا آغاز فوری طور پر کریں اور اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی مگر مخلصانہ تبدیلیوں کو مستقل روحانی و اخلاقی تربیت کی بنیاد بنائیں۔

انہوں نے نماز، عبادت، اخلاق اور تعلیمات اہل بیتؑ سے اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پیغام کربلا محض ایام عزا تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے پوری زندگی کے لیے رہنما اصول بنانا ضروری ہے۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر آغا سید حسن موسوی الصفوی نے مؤمنین کی بھلائی، ایمان، اتحاد و اتفاق اور خوشحالی کے لیے دعا کی اور دینی و روحانی مقاصد میں کامیابی کی التجا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha