جمعہ 25 ستمبر 2026 - 13:15
امتِ مسلمہ کی خودمختاری کے لیے مسلم حکمران بیرونی اثرات سے آزاد فیصلے کریں: آغا سید لیاقت حسین موسوی

حوزہ/ سرینگر کی جامع مسجد امام رضا علیہ السلام گنڈ حسی بٹ میں نمازِ جمعہ کے خطبے میں حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید لیاقت حسین موسوی نے تقویٰ و پرہیزگاری، انسانی روح کے تکامل، انسانِ کامل، نبوت و امامت، غدیر و ولایت اور عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے قرآن و اہل بیتؑ سے وابستگی، اسلامی اتحاد، خودمختاری اور طاغوتی و استعماری اثرات سے آزادی کی ضرورت پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سری نگر/ جامع مسجد امام رضا علیہ السلام گنڈ حسی بٹ، سری نگر میں آج نمازِ جمعہ کے موقع پر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید لیاقت حسین موسوی نے خطبۂ جمعہ میں تقویٰ و پرہیزگاری، انسانی روح کے تکامل، اسمائے الٰہی، مقامِ انسانِ کامل، نبوت و امامت، غدیرِ خم، ولایت و صراطِ مستقیم اور عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو کی۔

خطبۂ اول کے آغاز میں آغا سید لیاقت حسین موسوی نے مؤمنین کو تقویٰ الٰہی اور پرہیزگاری اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے تقویٰ کو انسان کی دینی و روحانی زندگی کی اساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقویٰ الٰہی اور پرہیزگاری ہی عبادت اور نمازِ جمعہ کا ہدف و مقصد ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہماری عبادت کا مقصد محض ظاہری اعمال کی انجام دہی نہیں، بلکہ انسان کے اندر تقویٰ، خدا ترسی، اطاعتِ الٰہی اور گناہوں سے اجتناب کا شعور پیدا کرنا ہے۔ نمازِ جمعہ بھی اسی تربیتی مقصد کے تحت انسان کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

تقویٰ کی اہمیت بیان کرنے کے بعد خطیبِ جمعہ نے انسانی روح کے تکامل اور مقامِ انسان پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسانی روح تکامل کی راہ اختیار کرے تو اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ فرشتوں سے بھی آگے نکل جائے۔

اسمائے الٰہی کی وضاحت کرتے ہوئے آغا سید لیاقت حسین موسوی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہر اسم ایک خاص صفت کا مظہر ہے؛ مثلاً اسمِ رحیم صفتِ رحمت کا جلوہ گر ہے، جبکہ اسمِ اللہ خداوندِ متعال کی تمام صفاتِ کمال کا جامع مظہر ہے۔

انہوں نے اس فکری تسلسل کو انسانِ کامل اور نبوت کے موضوع سے جوڑتے ہوئے کہا کہ خداوندِ متعال نے ہر نبی کو مختلف کمالات اور صفات عطا فرمائیں، جبکہ پیغمبرِ آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام کمالات، صفات اور جمالات عطا فرمائے گئے۔

ان کے مطابق رسولِ اکرمؐ نبوت اور انسانِ کامل کے تمام کمالات و صفات کے حامل ہیں اور آپؐ کی ذاتِ اقدس میں الٰہی ہدایت اور انسانی کمال اپنی کامل ترین صورت میں جلوہ گر ہوا۔

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے کہا کہ جب رسولِ اکرمؐ تمام کمالات کے حامل اور امت کے الٰہی رہبر ہیں تو آپؐ کے بعد بھی امت کی رہبری کے لیے ایسے الٰہی رہبر کا ہونا ضروری ہے جو ہدایت، کمال اور رہبری کی ضروری صفات کا حامل ہو۔

انہوں نے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ کے مطابق امام کا انتخاب عوامی الیکشن کے ذریعے نہیں ہوتا، بلکہ وہ منصوص من اللہ ہوتا ہے۔

انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنابِ زہرا سلام اللہ علیہا نے امت کو گمراہی کی طرف لے جانے کے خلاف احتجاج کیا اور الٰہی نظامِ ہدایت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

خطیبِ جمعہ کے مطابق تاریخِ نبوت کا بنیادی مقصد انسان کو طاغوت اور غلامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی بندگی، ہدایت اور آزادی کی راہ پر گامزن کرنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر الٰہی رہبر نے اپنی امت کو طاغوت اور استعمار کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے جدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد الٰہی رہبری کا سلسلہ برقرار رہنا ضروری تھا تاکہ آسمانی نظامِ ہدایت کا تسلسل قائم رہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے واقعۂ غدیرِ خم کا ذکر کیا اور کہا کہ نبی اکرمؐ نے غدیر کے مقام پر حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور ائمۂ اثنا عشر کی ولایت و رہبری کو واضح فرمایا اور امت کو الٰہی نظامِ ولایت و امامت سے آگاہ کیا۔

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے ولایت و امامت کو صراطِ مستقیم اور عروۃ الوثقیٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کے لیے ضلالت و گمراہی سے نجات کا راستہ یہی ہے کہ وہ الٰہی رہبروں کی اطاعت و اتباع اختیار کرے۔

انہوں نے کہا کہ جب انسان ان الٰہی رہبروں کی اطاعت میں آتا ہے تو یہ رہبران اسے طاغوتی نظام اور استعمار کے سامنے جھکانے کے بجائے ان کے مقابلے میں کھڑا ہونے، حق کی حمایت کرنے اور انسانی عزت و آزادی کا دفاع کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔

خطبۂ اول کے اختتامی حصے میں آغا سید لیاقت حسین موسوی نے اسی فکری سلسلے کو عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال سے جوڑا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آج امتِ مسلمہ مختلف سیاسی، معاشی اور اجتماعی مشکلات سے دوچار ہے تو اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ امت نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان ہدایات اور سفارشات کو فراموش کیا جن میں قرآن اور اہل بیتؑ سے وابستگی، نیز حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت و رہبری پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے حدیثِ ثقلین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قرآن اور اہل بیتؑ سے وابستگی امت کی ہدایت اور ضلالت سے نجات کا ذریعہ ہے۔

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے کہا کہ پیغمبرِ اکرمؐ کی تعلیمات، ہدایات اور سفارشات کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسلم دنیا کے بعض سربراہان آج ایسے عالمی سیاسی نظام اور حکومتی حلقوں کے اثرات میں آتے جا رہے ہیں جنہیں انہوں نے ’’ایپسٹین کلاس حکومتیں‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے بعض حکمران ایپسٹین کلاس کے اثر و رسوخ میں آکر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں امتِ مسلمہ کی سیاسی خودمختاری، غیرت اور جرأت متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ پیغمبرِ اکرمؐ کی تعلیمات، قرآن و اہل بیتؑ سے وابستگی اور الٰہی نظامِ ولایت و امامت کو اپنی اجتماعی زندگی کی بنیاد بنائیں، کیونکہ یہی راستہ امت کو طاغوت و استعمار کے اثرات سے نجات دلا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی سربراہان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امتِ مسلمہ کے مفادات کا تحفظ بیرونی قوتوں کے تابع ہوکر نہیں، بلکہ باہمی اتحاد، خودمختاری اور دینی و انسانی اصولوں پر ثابت قدم رہ کر ممکن ہے۔

خطبۂ ثانی؛ تقویٰ و پرہیزگاری کی تجدیدِ تلقین

خطبۂ ثانی کے آغاز میں بھی آغا سید لیاقت حسین موسوی نے تقویٰ الٰہی اور پرہیزگاری کی تلقین کی اور اس بات پر دوبارہ زور دیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری ہی عبادت اور نمازِ جمعہ کا اصل ہدف و مقصد ہے۔

اس کے بعد انہوں نے قرآن کریم کی آیت «وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ... أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہجرت، جدوجہد، ایمان اور نصرتِ دین کی اہمیت بیان کی۔

خطبۂ ثانی میں عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج عام مسلمان بیدار اور باشعور ہے، تاہم مسلم ممالک کے بادشاہوں اور رؤساء کی سیاسی و اخلاقی صورتِ حال تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسلم ممالک کے حکمران کیوں ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے استعمار اور طاغوتی قوتوں کے ہاتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے سربراہان کو قرآن و پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور سفارشات کو سامنے رکھتے ہوئے امتِ مسلمہ کے مفادات کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور ایسے سیاسی اور معاشی اثرات سے خود کو دور رکھنا چاہیے جو ان کی آزادی اور خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں۔

مسلمان حکمرانوں کو اسلامی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے

آغا سید لیاقت حسین موسوی نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے احترام اور باہمی تعاون کی بنیاد پر مضبوط علاقائی نظام تشکیل دینا چاہیے۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ایوان میں مسلم ممالک، بالخصوص ہمسایہ ممالک، کے درمیان اتحاد و اتفاق اور باہمی احترام کی ضرورت پر دیے گئے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے کی سلامتی کی ذمہ داری خود خطے کے ممالک کو سنبھالنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر آغا سید لیاقت حسین موسوی نے ایک مرتبہ پھر تقویٰ الٰہی، پرہیزگاری، قرآن و اہل بیتؑ سے وابستگی، ولایت و امامت اور صراطِ مستقیم پر استقامت کو امتِ مسلمہ کی فلاح و نجات کا ذریعہ قرار دیا اور مسلمانوں کو موجودہ حالات میں بیداری، اتحاد، خودمختاری اور دینی اصولوں پر ثابت قدمی اختیار کرنے کی تلقین کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha