حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدرِ انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر، حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں ایمان صرف زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ معرفت الٰہی، یقین، اخلاص، عمل صالح، اخلاق حسنہ اور اطاعت الٰہی و اہل بیتؑ کے عملی التزام کا ایک ہمہ گیر نظام ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس ایمان میں کردار، تقویٰ اور ذمہ داری کا عنصر شامل نہ ہو، وہ اپنے حقیقی مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔
اپنے خطبۂ جمعہ میں آغا سید حسن موسوی الصفوی نے قرآن مجید ، احادیث نبوی ؐ اور احادیث اہل بیتؑ، بالخصوص حضرت امام موسیٰ کاظمؑ اور حضرت امام جعفر صادقؑ کے ارشادات کی روشنی میں ایمان کی حقیقت، اس کے درجات اور اس کے عملی تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایمان جامد کیفیت نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقائی سفر ہے، جس میں علم، معرفت، عمل، صدق، یقین، وفاداری، رضا اور تقویٰ کے ذریعے انسان بلند درجات حاصل کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی مومن وہ ہے جس کا دل ذکر الٰہی سے منور ہو، قرآن کی آیات سن کر اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور جو ہر حال میں اپنے رب پر کامل توکل رکھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام ظاہری عبادات کے ساتھ ساتھ دل، زبان، آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں اور جسم کے ہر عضو کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خیر کے راستے پر استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے، کیونکہ ایمان انسان کی پوری شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
صدر انجمن شرعی شیعیان نے کہا کہ آج امت مسلمہ کو اپنی تمام تر توانائیاں ایمان کی مضبوطی، اخلاقی اصلاح، دینی شعور، اتحاد اور عملی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر مرکوز کرنی چاہئیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قرآن و سیرت اہل بیتؑ کو اپنی زندگی کا عملی دستور بنائیں اور معاشرے میں دیانت، انصاف، خدمت خلق اور اعلیٰ اخلاق کو فروغ دیں۔
آغا سید حسن موسوی الصفوی نے واقعۂ کربلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دین اسلام کی حفاظت کے لیے عظیم قربانی پیش کر کے یہ واضح کر دیا کہ ایمان کا حقیقی تقاضا حق و صداقت پر ثابت قدم رہنا اور ہر قسم کی باطل قوت کے سامنے استقامت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں بھی مسلمانوں کو اسی حسینی فکر اور عملی کردار کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے عالم اسلام کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے امت مسلمہ سے اتحاد، باہمی اخوت اور دینی اقدار کی پاسداری کی اپیل کی۔ خطبے کے اختتام پر انہوں نے عالم اسلام کے امن، استحکام اور مظلوم مسلمانوں، بالخصوص ایران، لبنان، یمن، فلسطین اور غزہ کے عوام کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور اللہ تعالیٰ سے امت مسلمہ کی سربلندی، اتحاد اور نصرت کی دعا مانگی۔









آپ کا تبصرہ