حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے زیرِ اہتمام آج تلرزو، بانڈی پورہ میں ایک عظیم الشان مجلسِ عزاء اور جلوس علم کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں ہزاروں کی تعداد میں عزاداران امام حسینؑ نے عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی۔

مجلس اور جلوس کے دوران علاقے میں غم حسینؑ کی فضا قائم رہی اور شرکاء نے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مجلسِ حسینی سے خطاب کرتے ہوئے صدر انجمن شرعی شیعیان کے نمائندہ حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی کہا کہ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی مکتبؐ فکر، معرفت، شعور، آزادی اور حق شناسی کا سرچشمہ ہے، جو ہر دور کے انسان کو حق و باطل میں امتیاز کرنے اور ظلم کے خلاف استقامت اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

انہوں نے معرفت الٰہی، ایمان، رسالت، ولایت اور فلسفۂ عاشورا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان کی حقیقی عظمت اس کے جسمانی وجود میں نہیں بلکہ اس کے قلب، روح اور معرفت میں مضمر ہے۔ دنیا انسان کے لیے ایک وسیلہ ہے، منزل نہیں، اور اگر دنیا انسان کے دل پر غالب آ جائے تو یہی اس کی روحانی تباہی کا سبب بنتی ہے، جبکہ معرفت انسان کو حقیقت تک پہنچاتی اور ایمان کو استحکام عطا کرتی ہے۔
آغا سید مجتبیٰ عباس نے کہا کہ قرآن مجید نے ایمان کی بنیاد معرفت اور حق کی شناخت کو قرار دیا ہے۔ جب انسان حقیقت کو پہچان لیتا ہے تو اس کا دل اس کی تصدیق کرتا ہے اور یہی معرفت انسان کو اللہ تعالیٰ، رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی حقیقی محبت تک پہنچاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ عزاداری سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ عقل، شعور، عرفان اور معرفت پر مبنی ایک عظیم عبادت ہے۔ مجالس عزا اور اشک حسینؑ دراصل انسان کے ایمان، معرفت اور حق سے وابستگی کی علامت ہیں، جبکہ واقعۂ کربلا کرامت انسانی، آزادی، شجاعت، عزت نفس اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا ابدی پیغام دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی عقائد کی بنیاد رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کی ختم نبوت، اکمال دین، اتمام نعمت اور نظام ولایت پر قائم ہے۔ پیغمبر اسلام ؐ نے انسانیت کو جہالت، شرک، ظلم اور گمراہی سے نجات دلائی اور ایک ایسا کامل نظام حیات عطا فرمایا جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کے لیے کافی ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے واقعۂ عاشورا کو اعلان غدیر کا عملی تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا قیام دراصل دین محمدی، سنت رسول ؐ اور حقیقی اسلامی تعلیمات کے تحفظ کے لیے تھا۔ جب اسلامی معاشرہ ظلم، بدعت اور انحراف کا شکار ہوا اور نبوی تعلیمات کو پس پشت ڈالا جانے لگا تو امام حسین علیہ السلام نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے دین اسلام کی اصل روح کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون مقدس سے امت کو یہ شعور عطا کیا کہ اقتدار اور حق ہمیشہ ایک چیز نہیں ہوتے، بلکہ مسلمان کا معیار صرف قرآن، سنت رسول ؐ اور حق کی پیروی ہونا چاہیے۔ اگر کربلا نہ ہوتی تو یزیدیت کا حقیقی چہرہ امت کے سامنے کبھی بے نقاب نہ ہوتا۔
آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے واقعۂ حرّہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یزید کے ظلم و استبداد نے بعد میں مدینہ منورہ کو بھی اپنی بربریت کا نشانہ بنایا، جس سے امام حسین علیہ السلام کے موقف کی صداقت مزید واضح ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ کربلا نے امت مسلمہ کو ظلم کے خلاف بیداری، حق شناسی اور مزاحمت کا وہ شعور عطا کیا جس کی روشنی آج بھی پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عاشورا کا پیغام حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے عقیدے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ محرم کی مجالس اور عزاداری کا مقصد صرف غم کا اظہار نہیں بلکہ انسان کی فکری و روحانی تربیت، عدل الٰہی کے عالمی نظام کی تیاری اور ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جو امام زمانہؑ کی نصرت کے لیے ہر وقت آمادہ ہو۔
خطاب کے اختتام پر آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ محرم الحرام کی مجالس، عزاداری اور پیغام عاشورا کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں، معرفت الٰہی، محبت اہل بیت علیہم السلام اور سیرت حسینی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، کیونکہ یہی راستہ انسان کو ایمان کی تکمیل، ظلم کے خلاف استقامت اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ