حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے زیرِ اہتمام وادیٔ کشمیر کے مختلف علاقوں میں مجالسِ عزا، جلوسہائے عزاداری اور خصوصی مذہبی اجتماعات کا انعقاد عمل میں آیا۔

ان مجالس کا مرکزی اور سب سے بڑا اجتماع شالیمار سرینگر میں منعقد ہوا، جہاں مجلسِ حسینیؑ کے اختتام پر الحاج محمد مقبول کیمہ کے دولت کدہ، آرہ بل شالیمار سے عظیم الشان جلوس ذوالجناح انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں برآمد ہوا۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام باڑہ گلشن علی شالیمار میں اختتام پذیر ہوا، جہاں ہزاروں عقیدت مندوں نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ حضرت امام زین العابدینؑ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر باغ زینبؑ شالیمار میں منعقدہ عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے سورۂ نور کی معروف آیت نور (آیت 35) کی گہرے علمی و عرفانی انداز میں تشریح کی اور اسے ہدایت الٰہی، مقام رسالت مآب حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور اہل بیت اطہارؑ کی عظمت کا جامع قرآنی بیان قرار دیا۔

آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کہا کہ "اللّٰہُ نُورُ السَّمٰوٰت وَالْاَرْض" سے مراد وہ نور الٰہی ہے جو پوری کائنات کا سرچشمۂ ہدایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت میں مذکور مشکوٰۃ، مصباح، زجاجہ اور شجرۂ مبارکہ کی تعبیرات کو ائمۂ اہل بیتؑ سے منقول روایات کی روشنی میں رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور اہل بیت اطہارؑ کی نورانی ہستیوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "نورٌ علیٰ نور" سے مراد ائمۂ معصومینؑ کی وہ مسلسل زنجیر ہدایت ہے جو حضرت امام مہدیؑ (عج) تک جاری ہے، اور زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہتی۔
انہوں نے اس موقع پر حضرت امام زین العابدینؑ کی عظیم خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سانحۂ کربلا کے بعد آپؑ نے اپنے صبر، استقامت، عبادت، بصیرت اور جرأت اظہار کے ذریعے نہ صرف پیغام عاشورا کو محفوظ رکھا بلکہ اسے ایک دائمی اور عالمگیر تحریک کی صورت عطا کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر حضرت امام سجادؑ شہدائے کربلا کے مقدس مقصد کی تبلیغ و ترویج کا فریضہ انجام نہ دیتے تو یہ عظیم قربانیاں تاریخ کا ایک المناک باب بن کر رہ جاتیں، مگر آج عاشورا پوری انسانیت کے لیے حق، عدل، حریت اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی زندہ علامت ہے۔
آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کہا کہ ائمۂ اہل بیتؑ کی پوری جدوجہد کا بنیادی مقصد دین اسلام اور شریعت محمدی ؐ کو ہر قسم کی تحریف، انحراف اور سیاسی مفادات سے محفوظ رکھنا تھا۔

انہوں نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ حضرت امام زین العابدینؑ کی تعلیمات صبر، استقامت، بصیرت اور کردار کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا حصہ بناتے ہوئے قرآن کریم کو اہل بیت اطہارؑ کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر آغا سید حسن موسوی الصفوی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اور اہل بیت اطہارؑ کی محبت و پیروی پر ثابت قدم رکھے، خدمت امام حسینؑ اور روایت عزاداری کی توفیق عطا فرمائے اور روز قیامت محمد و آل محمدؑ کی شفاعت نصیب فرمائے۔










آپ کا تبصرہ