حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،گنڈ حسی بٹ/ آغا سید لیاقت حسین موسوی نے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد بندگیِ خدا اور تقوائے الٰہی اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تمام عبادات اور ریاضات کا بنیادی مقصد انسان کو تقوائے الٰہی کے مقام تک پہنچانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبادت اور اعلیٰ انسانی مدارج کے حصول کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
قرآنِ صامت و قرآنِ ناطق؛ ہدایت کے کامل نمونے
آغا سید لیاقت حسین موسوی نے قرآنِ صامت و قرآنِ ناطق کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم میں ایسے نمونہ ہائے عمل پیش کیے گئے ہیں جو ہر دور میں انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ رہے ہیں۔ انبیاء و اوصیاء علیہم السلام کی زندگیاں آیاتِ الٰہی کی عملی تفسیر اور صراطِ مستقیم کی روشن مثال ہیں، جن سے انسان اپنی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔
انہوں نے آیتِ کریمہ «إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے ہدایت اور گمراہی کے راستے واضح کردیے ہیں۔ اسی طرح ہر زمانے میں حق و باطل کی نمائندگی کرنے والے نمونے موجود رہے ہیں، تاکہ انسان اپنے اختیار سے صحیح راستے کا انتخاب کرسکے۔
انہوں نے آیتِ کریمہ «بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمِ» کی روشنی میں کہا کہ انبیاء و اوصیاء علیہم السلام کی حیاتِ مبارکہ آیاتِ الٰہی کا عملی مظہر ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ مبارک پر نازل ہوا اور آپؐ کی سیرت، گفتار اور کردار میں اس کی تعلیمات پوری طرح جلوہ گر ہوئیں۔
پیغمبرِ اکرمؐ اور اہلِ بیتؑ؛ انسانِ کامل کے نمونے
خطیبِ جمعہ نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے مقام و مرتبے کا ذکر کرتے ہوئے حدیثِ منزلت کا حوالہ دیا، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو حضرت ہارون علیہ السلام سے تشبیہ دی، سوائے اس کے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام نے تعلیماتِ نبوی اور قرآنِ کریم کو اپنی سیرت و کردار میں اس طرح مجسم کیا کہ آپؑ علمِ نبوی اور معارفِ الٰہی کے عظیم مظہر بن گئے۔
انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے فضائل بیان کرتے ہوئے آیۂ مودت اور آیۂ تطہیر کا حوالہ دیا اور کہا کہ جو شخص حقیقی معنوں میں انسانِ کامل بننا چاہتا ہے، اسے اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت اور تعلیمات سے وابستگی اختیار کرنی چاہیے۔
آغا سید لیاقت حسین موسوی نے خانۂ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت بیان کرتے ہوئے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان «فاطمة بضعةٌ منّي» کا حوالہ دیا اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بلند مقام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس گھرانے میں نبوی تعلیمات، پاکیزگی اور انسانیت کے اعلیٰ نمونوں کا ایسا اجتماع ہوا جو امتِ مسلمہ کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔
انہوں نے حدیثِ ثقلین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے تمسک کو گمراہی سے محفوظ رہنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، امتِ مسلمہ کے فکری، معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی زوال کی ایک اہم وجہ قرآن و عترت کی تعلیمات سے دوری ہے؛ لہٰذا مسلمانوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ان دونوں سرچشموں سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
یمن، سعودی عرب اور فلسطین کی صورتِ حال؛ اتحادِ امت پر زور
حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتے ہوئے آغا سید لیاقت حسین موسوی نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازع کا ذکر کیا اور اسے اپنے نقطۂ نظر سے مستضعفین اور استعمار کے درمیان کشمکش قرار دیا۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ خطے کے حالات کا وسیع تناظر میں جائزہ لیں اور واقعات کو سمجھنے میں بصیرت سے کام لیں۔
انہوں نے انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کو اپنے دفاع سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ انصار اللہ ان اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں سے اس پر حملے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بعض مسلمان علماء کی جانب سے انصار اللہ یمن کے خلاف غلط بیانی پر کہا کہ مسلمانوں کو حالات کا وسیع تناظر میں جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے فلسطین میں ہونے والے جانی نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب فلسطینی عوام پر شدید حملے ہو رہے تھے اور ہزاروں بچے اور دیگر افراد مارے گئے، اس وقت بعض علماء و خطباء کی جانب سے اسی شدت کا ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ انہوں نے سعودی حکومت کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے بعض مواقع پر درپردہ صہیونی حکومت کی حمایت کی۔
آغا سید لیاقت حسین موسوی نے آخر میں مسلمانوں پر زور دیا کہ موجودہ دور میں اطلاعات کی فراوانی کے باوجود غفلت اور تنگ نظری سے کام لینا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو حق و باطل کے درمیان تمیز کرتے ہوئے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی حقیقی منفعت اتحاد و اتفاق میں ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کو قرآن و عترت سے وابستگی، بصیرت اور باہمی اتحاد اختیار کرنے کی تلقین کی۔










آپ کا تبصرہ