جمعہ 2 اکتوبر 2026 - 14:28
تربیتِ اولاد والدین کی شرعی ذمہ داری، توکل و استقامت نصرتِ الٰہی کا ذریعہ ہے: آغا سید ارشد حسین موسوی

حوزہ/ صوفی پورہ، پہلگام میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید ارشد حسین موسوی نے تربیتِ اولاد، والدین کی شرعی ذمہ داریوں، سنتِ الٰہی، توکل اور استقامت پر روشنی ڈالتے ہوئے مؤمنین کو دینی و اخلاقی تربیت اور اللہ پر بھروسے کی تلقین کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوفی پورہ، پہلگام/ صوفی پورہ پہلگام میں نمازِ جمعہ کی امامت حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید ارشد حسین موسوی نے فرمائی۔ انہوں نے حمد و ثنائے الٰہی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و آلِ محمد علیہم السلام پر درود و سلام کے بعد مؤمنین اور نماز گزاروں کو تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنے کی تلقین کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تربیتِ اولاد، والدین کی ذمہ داریوں، شرعی حقوق، سنتِ الٰہی، حفاظتِ رہبرانِ الٰہی، توکل اور استقامت سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔

تربیتِ اولاد والدین کی اہم ذمہ داری ہے

آغا سید ارشد حسین موسوی نے حدیثِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موضوعِ خطاب بناتے ہوئے فرمایا کہ اولاد کے حوالے سے والد پر تین بنیادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں: بچے کا اچھا نام رکھنا، اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا اور بالغ ہونے پر اس کے نکاح کا انتظام کرنا۔

انہوں نے حدیثِ رسولِ اکرمؐ «كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح حکمران اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوتا ہے، اسی طرح والدین اور گھر کے ذمہ دار افراد بھی اپنی اولاد کی تربیت کے بارے میں روزِ قیامت جواب دہ ہوں گے۔

آغا سید ارشد حسین موسوی نے واضح کیا کہ تربیتِ اولاد صرف نصیحت اور تلقین تک محدود نہیں، بلکہ والدین کا کردار، گفتار، رویّہ اور عملی زندگی بھی بچوں کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر والد اپنے بچے کو سچ بولنے کی نصیحت کرے، لیکن خود اس کے سامنے جھوٹ بولے تو اس نصیحت کا مطلوبہ اثر پیدا نہیں ہوگا۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کے ذریعے اولاد کے لیے عملی نمونہ بنیں۔

انہوں نے نیک اولاد کو والدین کے لیے باقیاتِ صالحات قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ صالح اولاد کے نیک اعمال کا ثواب والدین کو ان کے انتقال کے بعد بھی پہنچ سکتا ہے۔

اولاد کے شرعی حقوق سے آگاہی ضروری ہے

خطیبِ جمعہ نے ولایت کے مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بچے کی شرعی ولایت والد اور دادا کے پاس ہوتی ہے، جبکہ دیگر رشتہ دار، مثلاً والدہ، چچا اور ماموں، بذاتِ خود بچے کے شرعی ولی نہیں ہوتے۔

انہوں نے مؤمنین کو اپنے شرعی مسائل اور حقوق سے آگاہی حاصل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ مسائلِ شرعیہ سے ناواقفیت کے باعث انسان بعض اوقات غیر ضروری تصرفات اور مشکلات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاندان کے ہر فرد کے شرعی حقوق کا لحاظ رکھا جائے تاکہ گھرانہ دینی اور معنوی بنیادوں پر مضبوط ہو۔

سنتِ الٰہی اور رہبرانِ الٰہی کی حفاظت

دوسرے خطبے میں حمد و ثنائے الٰہی کے بعد آغا سید ارشد حسین موسوی نے مجلسِ خبرگان کے ایک عالم سے منسوب بیان کا حوالہ دیتے ہوئے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق 28 فروری 2026 کو ہونے والے حملے اور اس کے بعد اسپتال میں ان پر دوسرے حملے کا ذکر کیا۔ انہوں نے ان کے محفوظ رہنے کے واقعے کو سنتِ الٰہی کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں اور اپنی حجتوں کی حفاظت مختلف طریقوں سے فرماتا ہے۔

انہوں نے واقعۂ کربلا کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ دشمن خاندانِ رسولؐ کا نام و نشان مٹانا چاہتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے امام زین العابدین علیہ السلام کے ذریعے سلسلۂ امامت اور خاندانِ رسولؐ کو محفوظ رکھا۔ اسی طرح انہوں نے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کو بھی سنتِ الٰہی کے تحت حفاظت کی ایک مثال قرار دیا۔

آغا سید ارشد حسین موسوی نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی ایک مقام پر الگ اور پوشیدہ زندگی گزار رہے ہیں، بلکہ وہ اللہ کے اذن سے لوگوں کے درمیان موجود ہو سکتے ہیں، تاہم لوگ انہیں پہچان نہیں پاتے۔

انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی انہیں دیکھتے اور ان کے ساتھ موجود رہتے تھے، لیکن انہیں پہچان نہیں پاتے تھے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رہبرِ انقلاب کو امریکی و اسرائیلی حملوں میں محفوظ رکھا۔

توکل اور استقامت نصرتِ الٰہی کا ذریعہ ہے

خطیبِ جمعہ نے خطاب کے اختتام پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مختلف صورتوں میں مدد اور نصرت فرماتا ہے، بشرطیکہ بندہ اپنے پروردگار پر توکل کرے اور اس کی راہ میں استقامت اختیار کرے۔

انہوں نے مؤمنین کو توکل، صبر اور استقامت کے ساتھ دینِ خدا پر قائم رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور ثابت قدمی مؤمن کی قوت ہے۔

آخر میں آغا سید ارشد حسین موسوی نے عالمِ اسلام کی کامیابی، سربلندی اور عروج کے لیے دعا فرمائی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha