جمعہ 25 ستمبر 2026 - 22:02
تربیتِ اولاد والدین کی اہم دینی ذمہ داری ہے، دینی احکام سے ناواقفیت خاندانی مسائل کا سبب بنتی ہے، آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی

حوزہ/ صوفی پورہ، پہلگام، اننت ناگ میں نمازِ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے مولانا آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے تربیتِ اولاد کو والدین کی اہم دینی و اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اولاد کی صحیح دینی تربیت کے لیے والدین کا شرعی احکام سے آگاہ ہونا ضروری ہے، جبکہ دینی مسائل سے ناواقفیت خاندانی اختلافات اور معاشرتی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پہلگام، اننت ناگ/ صوفی پورہ، پہلگام، اننت ناگ میں نمازِ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے مولانا آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے تربیتِ اولاد کو والدین کی اہم دینی و اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اولاد کی صحیح دینی تربیت کے لیے والدین کا شرعی احکام سے آگاہ ہونا ضروری ہے، جبکہ دینی مسائل سے ناواقفیت خاندانی اختلافات اور معاشرتی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے خطبۂ جمعہ کا آغاز حمد و ثنائے الٰہی اور رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و آلِ محمدؐ پر درود و سلام سے کرتے ہوئے نماز گزاروں کو تقوائے الٰہی اور پرہیزگاری اختیار کرنے کی تلقین کی۔

انہوں نے خطبۂ اول میں تربیتِ اولاد کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن کریم، احادیثِ رسولِ اکرمؐ اور تعلیماتِ اہل بیت علیہم السلام کی روشنی میں والدین کی ذمہ داریوں کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اولاد کی تربیت ایک اہم دینی اور اخلاقی فریضہ ہے اور اس ذمہ داری کے مختلف مراحل ہیں، جن میں رضاعت، حضانت اور ولایت شامل ہیں۔

آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے مسئلۂ حضانت کے بعض شرعی احکام کی وضاحت کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ اولاد سے متعلق اپنے شرعی فرائض اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہی حاصل کریں۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بہت سے خاندانی مسائل اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ والدین اولاد کی تربیت اور ان سے متعلق شرعی احکام سے واقف نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی احکام سے ناواقفیت کے نتیجے میں خاندانوں میں اختلافات اور تنازعات پیدا ہوتے ہیں، جس سے خاندانی نظام اور معاشرتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے طلاق کے بعد اولاد کی حضانت کے مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ازدواجی زندگی ختم ہونے کے باوجود والدین کی اولاد کے حوالے سے ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں اور ان ذمہ داریوں کو شرعی اصولوں کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ایک فقہی مسئلہ ہے اور اگرچہ یہ ناپسندیدہ عمل ہے، تاہم بعض حالات میں اس کا وقوع ناگزیر ہوجاتا ہے؛ ایسی صورت میں بھی والدین کو اولاد کے حقوق اور اپنی شرعی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے والدین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف اولاد کی دنیاوی ضروریات پوری کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ والدین اپنی اولاد کی جس انداز سے تربیت کریں گے، مستقبل میں اس کے اثرات بھی اسی صورت میں سامنے آئیں گے۔ اگر اولاد کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت کی جائے تو وہ والدین کے لیے باقیاتِ صالحات بن سکتی ہے، جبکہ تربیت میں غفلت اور کوتاہی کی صورت میں یہی اولاد والدین کے لیے وبال کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

انہوں نے اس مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے مثال دی کہ اگر کوئی شخص غصبی زمین میں درخت لگائے تو جب تک وہ درخت موجود رہے گا اور اس سے فائدہ حاصل ہوتا رہے گا، اس عمل کا اثر بھی باقی رہے گا۔ اسی طرح اولاد کی تربیت بھی ایک مسلسل اثر رکھتی ہے؛ اچھی تربیت والدین کے لیے ثواب کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ غلط تربیت کے منفی اثرات بھی طویل عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔

خطبۂ ثانی میں آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے تقوائے الٰہی کی تاکید کرتے ہوئے مسلمانوں کے اجتماعی حالات سے باخبر رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب روایت کے مفہوم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مومن کو صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ معاشرے میں موجود ضرورت مند افراد اور دوسرے مسلمانوں کے حالات سے بھی باخبر رہنا چاہیے۔

انہوں نے مؤمنین کو اپنے اردگرد موجود افراد کی مشکلات کو سمجھنے اور ضرورت مندوں کی حتی المقدور مدد کرنے کی تلقین کی۔

آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے قرآن کریم کی آیت «وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ» تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ ایمان انسان کو حوصلہ، استقامت اور مشکلات کے مقابلے میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔

انہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا کے بعد سخت ترین حالات کے باوجود امام سجادؑ نے حق کے بیان اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا اور یزید کے دربار میں بھی حقائق کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مومن کے لیے حالات کی سختی حق گوئی اور اصولی موقف سے دستبرداری کا جواز نہیں بن سکتی۔

معاصر عالمِ اسلام کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کا حوالہ دیا اور فلسطین و عالمِ اسلام کے حوالے سے پیش کیے گئے مؤقف کو سراہا۔

انہوں نے ایران کی حالیہ مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات اور دباؤ کے باوجود ایرانی عوام نے اپنے موقف سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ ان کے مطابق اس استقامت کی بنیاد صرف مادی وسائل نہیں بلکہ ایمان، توکل اور اپنے اصولوں پر یقین ہے۔

انہوں نے علامہ محمد اقبال کا شعر:

اگر زمانہ بہ تو نہ سازد

تو با زمانہ بہ ستیز

پڑھتے ہوئے کہا کہ مومن حالات کے سامنے بے اختیار ہو کر سر تسلیم خم نہیں کرتا بلکہ حق اور ایمان پر قائم رہتے ہوئے مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مومن کے لیے اصل معیار یہ نہیں کہ ’’زمانہ کیا کہتا ہے‘‘ بلکہ یہ ہے کہ خدا اور رسولؐ کی تعلیمات کیا ہیں اور ان پر کس طرح عمل کیا جائے۔

آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات مومن کو ظلم، استعمار اور ناانصافی کے سامنے اصولی موقف اختیار کرنے کی تعلیم دیتی ہیں اور یہی پیغام سیرتِ امام حسین علیہ السلام اور ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی زندگیوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی مومن معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایمان، بصیرت اور استقامت کے ساتھ اپنے دینی و انسانی فرائض ادا کرے اور مظلوموں کے حالات سے غافل نہ رہے۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر آغا سید ارشد حسین موسوی صفوی نے عالمِ اسلام کی سربلندی، مسلمانوں کی کامیابی، اسلامی جمہوریہ ایران کی استقامت اور مظلوم فلسطینی عوام کی نصرت کے لیے دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha