جمعہ 25 ستمبر 2026 - 15:47

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے شادی بیاہ کی تقریبات میں بڑھتی ہوئی غیر ضروری رسومات، فضول خرچی اور نمود و نمائش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاشرے میں سنجیدہ اصلاح کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی کو آسان، باوقار اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بنایا جائے تاکہ یہ خوشی کا موقع مالی بوجھ اور معاشرتی دباؤ کا سبب نہ بنے۔

مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ نکاح ایک فطری اور شرعی ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ سکون، عفت، خاندانی استحکام اور روحانی و اخلاقی زندگی کا اہم ذریعہ ہے، تاہم غیر ضروری رسم و رواج اور بے جا اخراجات نے شادی جیسے مقدس بندھن کو عام خاندانوں کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام نے نکاح کے لیے ایک سادہ، متوازن اور باوقار طریقۂ کار فراہم کیا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مختلف معاشرتی رسومات، غیر ضروری اخراجات اور نمود و نمائش کی دوڑ نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بالخصوص متوسط اور غریب خاندان ان رسومات کی ادائیگی کے لیے شدید مالی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں اور بعض اوقات قرض لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

آغا سید حسن نے کہا کہ شادی خاندانوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہونی چاہیے، قرض اور مالی پریشانی میں مبتلا کرنے کا نہیں۔ انہوں نے معاشرے پر زور دیا کہ ایسی تمام رسومات اور سماجی توقعات پر نظر ثانی کی جائے جن کی کوئی دینی بنیاد نہیں اور جو محض معاشرتی مقابلہ آرائی، نمود و نمائش اور خاندانی حیثیت کے اظہار کا ذریعہ بن چکی ہیں۔

انہوں نے والدین اور خاندانوں سے اپیل کی کہ اولاد کی شادی کو غیر ضروری اخراجات اور سماجی مقابلے کا میدان نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی کی اصل عظمت دولت کی نمائش میں نہیں بلکہ ایمان، کردار، باہمی احترام، سادگی اور اسلامی اقدار میں مضمر ہے۔

آغا سید حسن نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت امام علی علیہ السلام کے نکاح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدس ہستیوں کی ازدواجی زندگی مسلمانوں کے لیے سادگی، قناعت اور اسلامی اقدار کی ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے شادی بیاہ کی تقریبات کو غیر ضروری رسوم و رواج سے پاک کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلام انسانی فطری ضروریات کی نفی نہیں کرتا بلکہ انہیں ایک جائز، پاکیزہ اور باوقار دائرے میں پورا کرنے کی رہنمائی کرتا ہے۔ نکاح، انہوں نے کہا، انسانی زندگی میں دینی، اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی استحکام کا اہم ذریعہ ہے۔

انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے علماء، والدین، بزرگوں اور معاشرے کے ذمہ دار افراد پر زور دیا کہ وہ اجتماعی طور پر ایسی رسومات کی حوصلہ شکنی کریں جو نکاح کو غیر ضروری طور پر مشکل بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استطاعت کو شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے اور نکاح کو آسان بنانا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے نوجوان نسل کو درپیش اخلاقی اور معاشرتی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بے جا مادی توقعات، نمود و نمائش اور معاشرتی مقابلہ آرائی کے منفی اثرات سے نئی نسل کو محفوظ رکھنے کے لیے خاندانوں اور معاشرے کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

آغا سید حسن نے اس بات پر زور دیا کہ شادی بیاہ کے معاملات میں حقیقی اصلاح محض تقاریر اور بحث تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ خاندانوں کو عملی طور پر سادگی، اعتدال اور اسلامی اقدار کو اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نکاح کو آسان بنایا جائے، مشکل نہیں، اور شادی بیاہ کی تقریبات سے غیر ضروری رسومات، فضول خرچی اور نمود و نمائش کا خاتمہ کرکے انہیں سادگی، وقار اور دینی اقدار کا مظہر بنایا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha