حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،یاگی پورہ ماگام/ یاگی پورہ، ماگام میں نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام مولانا گوہر حسین کی امامت میں ادا کی گئی۔ نمازِ جمعہ سے قبل خطبے میں انہوں نے پُرسکون، خوشحال اور مثالی گھرانے کے قیام کے لیے ضروری اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گھروں میں سکون اور محبت کا تعلق صرف مالی خوشحالی سے نہیں بلکہ دینی و اخلاقی تربیت، باہمی احترام، برداشت اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت سے ہے۔
مولانا گوہر حسین نے کہا کہ معاشرے میں بہت سے خاندان مختلف قسم کے اختلافات اور مشکلات کا شکار ہیں اور ان مسائل کی ایک اہم وجہ اولاد کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت سے غفلت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض گھروں میں بچوں اور نوجوانوں کو مناسب توجہ اور تربیت نہ ملنے کے باعث وہ مختلف سماجی اور اخلاقی مسائل سے دوچار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خاندانی اختلافات کی وجہ ہمیشہ غربت یا مالی مشکلات نہیں ہوتیں، بلکہ بعض مالی اعتبار سے خوشحال خاندان بھی بے سکونی اور باہمی تنازعات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ گھر کے افراد کا ایک دوسرے کی عزت، حرمت اور حقوق کا خیال نہ رکھنا ہے۔
مولانا گوہر حسین نے لجاجت اور بہانہ جوئی کو خاندانی سکون کے لیے نقصان دہ رویوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ لجاجت سے مراد حق واضح ہونے کے باوجود اسے تسلیم نہ کرنا اور بلاوجہ اپنی بات پر اڑے رہنا ہے، جبکہ بہانہ جوئی بھی بظاہر معمولی عادت ہونے کے باوجود رفتہ رفتہ باہمی اعتماد اور محبت کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لجاجت ایک ایسی صفت ہے جس سے مومن کو اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے قرآن کریم میں شیطان کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق واضح ہونے کے باوجود تکبر اور ہٹ دھرمی اختیار کرنا انسان کو حق سے دور کر دیتا ہے۔
انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا، لیکن انہوں نے سادہ حکم پر عمل کرنے کے بجائے مسلسل سوالات اور بحث شروع کردی، جس کے نتیجے میں معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں انسان کے لیے یہ سبق موجود ہے کہ بلاوجہ کی بحث، لجاجت اور ہٹ دھرمی آسان کام کو بھی مشکل بنا دیتی ہے۔
مولانا گوہر حسین نے کہا کہ اگر خاندانوں میں سکون، محبت اور باہمی اعتماد قائم کرنا ہے تو لجاجت، ہٹ دھرمی، بہانہ جوئی اور ایک دوسرے کی بے حرمتی سے اجتناب کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق خوشحال گھر صرف مال و دولت سے نہیں بنتا بلکہ دینی تربیت، محبت، برداشت، باہمی احترام، حق کو تسلیم کرنے اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت سے تشکیل پاتا ہے۔
شادی کو آسان اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے پر زور
دوسرے خطبے میں مولانا گوہر حسین نے شادی اور اسلامی تعلیمات کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں شادی محض ایک معاشرتی رسم نہیں بلکہ ایک مقدس رشتہ، اہم ذمہ داری اور اسلامی سنت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے شادی کو آسان رکھا ہے، لیکن معاشرے میں غیر ضروری رسم و رواج، فضول خرچی اور اسراف نے اس اہم اسلامی عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شادیوں میں بڑھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات کے باعث بعض غریب خاندان اپنی اولاد کی شادی کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
مولانا گوہر حسین نے کشمیری معاشرے میں رائج وازوان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ شادی کی تقریبات میں متعدد ایسی رسومات اور اخراجات شامل ہوگئے ہیں جن پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شادی کی تقریبات میں سادگی اختیار کی جائے اور غیر ضروری رسم و رواج اور اسراف سے اجتناب کیا جائے۔
انہوں نے مہر کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہر ایسا نہیں ہونا چاہیے جو شادی میں رکاوٹ بن جائے۔ انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام کی ازدواجی زندگی کی مثال پیش کرتے ہوئے سادگی کو اسلامی معاشرت کا اہم اصول قرار دیا۔
مولانا گوہر حسین نے کہا کہ معاشرے میں نکاح کو آسان بنانے، غیر ضروری اخراجات اور رسومات سے بچنے اور شادی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق انجام دینے کی ضرورت ہے، تاکہ نوجوانوں کے لیے ازدواجی زندگی کا آغاز آسان ہو اور خاندان ایک مضبوط دینی و اخلاقی بنیاد پر قائم ہوں۔
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر انہوں نے مسلمانوں کی دینی و اخلاقی اصلاح، گھروں میں محبت و سکون، نوجوان نسل کی صحیح تربیت اور معاشرے میں اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے دعا کی۔









آپ کا تبصرہ