اتوار 15 فروری 2026 - 16:49
جموں و کشمیر؛ انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام استقبال ماہ رمضان کی پُروقار تقریب منعقد

حوزہ/ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام انجمن کے صدر دفتر بڈگام میں حسب عمل قدیم استقبال ماہ رمضان کے سلسلے میں ایک باوقار اور فکری نشست منعقد ہوئی، جس میں مختلف و مذہبی انجمنوں کے سربراہان و نمائندگان، ممتاز علماء کرام، ائمہ جمعہ، دانشور حضرات اور سماجی زعماء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بڈگام/ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام انجمن کے صدر دفتر بڈگام میں حسب عمل قدیم استقبال ماہ رمضان کے سلسلے میں ایک باوقار اور فکری نشست منعقد ہوئی، جس میں مختلف و مذہبی انجمنوں کے سربراہان و نمائندگان، ممتاز علماء کرام، ائمہ جمعہ، دانشور حضرات اور سماجی زعماء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ مزمل نے حاصل کی، جبکہ نعت رسول اکرم ؐ پیش کرنے کی سعادت شاہد حسین میر کے حصے میں آئی۔ نظامت کے فرائض حجۃ الاسلام سید محمد حسین صفوی نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔

تقریب کے استقبالیہ کلمات حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے ادا کیے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اسلام آباد میں پیش آئے دہشت گردانہ خودکش حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور سرینگر کی جامع مسجد کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو بند کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، بلکہ عوام کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

تقریب میں جن ممتاز علماء کرام نے خطاب کیا، ان میں صدر انجمن شرعی شیعیان حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی ، میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق ، مفتی اعظم جموں و کشمیر مفتی ناصر الاسلام ،میرواعظ وسطی کشمیر سید لطیف بخاری ،مولانا مفتی مدثر قادری ، مولانا خاکی فاروقی ، حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید مدثر رضوی ، مولوی بلال حسین حاجی نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مسرور عباس انصاری، مولانا برکت صاحب ، مولانا حسن فردوسی اور حجۃ الاسلام سید ارشد موسوی شامل تھے۔ اس موقع پر انجمن شرعی شیعیان کے شعبۂ تبلیغ سے وابستہ متعدد ائمہ جمعہ اور دیگر علماء کرام بھی موجود تھے۔

میر واعظ وسطیٰ کشمیر لطیف صاحب نے رمضان کو نیکیوں کی بہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ مغفرت و رحمت کا پیغام لاتا ہے، جو اہل بیتؑ کے سائے میں اتحاد و امن کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی شدید مذمت کی۔مولانا خاکی فاروقی نے قرآن مجید سے وابستگی کو ماہ رمضان کی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی کی طرف رجوع اس مہینے کا اصل مقصد ہے۔ڈاکٹر سید مدثر رضوی نے صدر انجمن شرعی شیعیان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وحدت امت کے لیے ان کی کوششیں قابل تحسین اور باعث فخر ہیں۔مولانا مفتی مدثر قادری نے کہا کہ مسئلۂ قدس اور مظلوموں کی حمایت کسی ایک مکتب فکر تک محدود نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

نمائندہ مولانا مسرور عباس انصاری مولانا بلال حسین نے کہا کہ رمضان محض بھوکا رہنے کا نام نہیں، بلکہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے اور اجتماعی ذمہ داری نبھانے کا پیغام دیتا ہے۔ سید ارشد موسوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماہ رمضان صبر و تحمل، برداشت اور صلہ رحمی کا عملی درس دیتا ہے۔حسن فردوسی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب کلمہ، قرآن اور کعبہ ایک ہیں تو امت میں تفرقے کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے یوم قدس کو پوری امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔

میر واعظ ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا کہ حالات ثابت کر چکے ہیں کہ مسلمان فرقہ واریت میں تقسیم نہیں ہو سکتے، اور رمضان اللہ سے تعلق مضبوط کرنے اور اجتماعی مسائل کے حل کی جدوجہد کا مہینہ ہے۔آخر میں مفتی ناصر الاسلام نے فلسفۂ رمضان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ باقی گیارہ مہینوں کے لیے تربیت فراہم کرتا ہے اور اس کا اصل مقصد انسان کو گناہوں سے روکنا ہے۔

تقریب کے اختتامی خطبۂ صدارت میں صدر محفل حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے تمام علماء اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان رحمت اور مغفرت کے تحفے کے طور پر عطا کیا ہے، جس سے بھرپور استفادہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے حالیہ دنوں میں حکام کی جانب سے جامع مسجد سرینگر کو تالہ بند کیے جانے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ماہ مقدس رمضان کے دوران جامع مسجد کو ہر صورت کھلا رکھا جائے، کیونکہ یہ وادیٔ کشمیر میں عبادت، دینی اجتماع اور روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کی بندش سے عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔آخر میں انہوں نے مظلوموں کی حمایت، ان کی کامیابی اور عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی، جس کے ساتھ ہی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

اس موقع پر تقریب میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی، جسے محفل میں موجود تمام علماء کرام، ائمہ جمعہ، سماجی زعماء اور معزز شرکائے محفل نے مکمل اتفاق رائے سے تائید کر کے پاس کیا۔ قرارداد میں متعلقہ حکام سے سخت اور دوٹوک مطالبہ کیا گیا کہ ماہ مقدس رمضان کے دوران عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنایا جائے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بجلی، پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابل قبول ہوگی۔

قرارداد میں مزید زور دے کر کہا گیا کہ بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی من مانی قیمتوں، بے تحاشا مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کے خلاف فوری، سخت اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت دی جائے کہ وہ بازاروں میں مؤثر چیکنگ نظام قائم کریں، ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں، تاکہ ماہ رمضان کی حرمت، تقدس اور روح کو مجروح ہونے سے بچایا جا سکے۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اگر عوامی مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو یہ عوامی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہوگی، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha