جمعہ 25 ستمبر 2026 - 23:19
اولیاء اللہ کی صحبت، مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے خلاف استقامت ضروری ہے، آغا سید محسن رضوی

حوزہ/ حجۃ الاسلام آغا سید محسن رضوی نے امام بارگاہ آیت اللہ سید یوسف، بمنہ بڈگام میں خطاب کرتے ہوئے اولیاء اللہ کی صحبت، اللہ پر توکل، مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کو مومن کی اہم ذمہ داریاں قرار دیا اور کربلا کو توحید و حق کی سربلندی اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی درسگاہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بڈگام/ امام بارگاہ آیت اللہ سید یوسف، بمنہ بڈگام میں آج روایتی جمعہ مجلسِ وعظ سے حجۃ الاسلام آغا سید محسن رضوی نے خطاب کرتے ہوئے اولیاء اللہ کی صحبت اختیار کرنے، اللہ تعالیٰ پر توکل، تقویٰ، ظلم کے خلاف مظلوموں کی حمایت اور کربلا کے پیغام کو عملی زندگی میں اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی اہلِ ایمان اللہ کے سوا کسی سے خوف نہیں رکھتے اور حق و انصاف کے معاملے میں مصلحت کے بجائے دینی ذمہ داری کو ترجیح دیتے ہیں۔

آغا سید محسن رضوی نے اولیاء اللہ کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد، اس کی بارگاہ میں احساسِ فقر و نیاز اور ہر معاملے میں اسی سے وابستگی پر استوار ہوتی ہے۔ انہوں نے حدیثِ رسول اکرمؐ کی روشنی میں اولیاء اللہ کی تین صفات «الثقة بالله في كل شيء، والغنى بالله عن كل شيء، والافتقار إلى الله في كل شيء» بیان کرتے ہوئے کہا کہ اولیاء اللہ عبادات، واجبات، اخلاقِ حسنہ اور تقویٰ کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے اور اس کی رضا کے لئے لوگوں کی دلجوئی اور حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے ظالم اہلِ اقتدار اور دنیاوی مفادات رکھنے والے افراد کی صحبت سے اجتناب کی تاکید کرتے ہوئے ایک حدیث کا مفہوم بیان کیا کہ بعض مالدار اور صاحبِ اقتدار افراد اپنی دولت و اقتدار کے غرور میں حق سے دور ہوجاتے ہیں، اس لئے ایسی مجالس سے بچنا چاہیے جو انسان کے دل کو سخت اور اسے مظلوموں کی مدد سے بے نیاز کردیں۔

آغا سید محسن رضوی نے کہا کہ صرف ظاہری عبادت کافی نہیں، بلکہ مکتبِ اسلام اور مکتبِ عاشورا کے پیروکاروں کے لئے ظلم کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے امام علیؑ کی وصیت کے معروف جملے «وَكُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَلِلْمَظْلُومِ عَوْناً» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ظالم کے مقابلے میں کھڑا ہونا اور مظلوم کی مدد کرنا اہلِ ایمان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اولیاء اللہ اور حقیقی پیروانِ رسولؐ باہمی طور پر رحم دل اور اہلِ ایمان کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے ہیں، تاہم ظلم اور باطل کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اللہ پر توکل کے ساتھ حق پر قائم رہتے ہیں۔

سرزمینِ حجاز اور حالاتِ حاضرہ

حالاتِ حاضرہ کا ذکر کرتے ہوئے آغا سید محسن رضوی نے سرزمینِ حجاز کو سرزمینِ وحی اور اسلام کی اہم تاریخی سرزمین قرار دیا۔ انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی دعوت، حج اور حرمین شریفین کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے سعودی عرب میں جاری بعض حکومتی پالیسیوں اور ثقافتی سرگرمیوں پر تنقید کی۔

انہوں نے اپنے بیان میں بعض حکومتی اقدامات کو اسلامی تعلیمات اور سیرتِ رسول اکرمؐ و ائمۂ اطہارؑ کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان ان حالات سے باخبر ہیں اور حرمین شریفین سے وابستہ اسلامی ذمہ داریوں اور اقدار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

کربلا؛ توحید اور ظلم کے خلاف استقامت کا پیغام

آغا سید محسن رضوی نے کربلا کو توحید، استقامت اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی درسگاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عاشورا انسان کو طاغوت، استعمار اور ظلم کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینے کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ کربلا اور عاشورا کو اپنی فکری و عملی زندگی کا محور بناتے ہیں، ان کے لئے توحید صرف ایک نظری عقیدہ نہیں بلکہ ظلم و استبداد کے مقابلے میں عملی جدوجہد کا تقاضا بھی ہے۔

ایرانی صدر کے اقوامِ متحدہ کے خطاب کا حوالہ

حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں انہوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے حالیہ خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر نے عالمی فورم پر دہشت گردی اور موجودہ عالمی تنازعات سے متعلق بعض سوالات اٹھائے اور ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور فلسطین میں جاری صورتحال کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی۔

آغا سید محسن رضوی نے اس خطاب کو واقعۂ کربلا کے بعد حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ کے یزید کے دربار میں دیے گئے خطابات سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح اہلِ بیتؑ نے ظلم کے مرکز میں پہنچ کر حق اور مظلومیت کی آواز بلند کی، اسی طرح آج بھی حق کی آواز کو عالمی سطح پر بلند کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام یہی ہے کہ اہلِ ایمان حالات کی سختی سے مرعوب ہوئے بغیر حق، عدل اور مظلوموں کی حمایت کے اصول پر قائم رہیں۔

مجلسِ وعظ کے اختتام پر آغا سید محسن رضوی نے مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق، مظلومین کی حمایت، عالمِ اسلام کی سربلندی اور امتِ مسلمہ کی کامیابی کے لئے خصوصی دعا فرمائی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha