حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریم پور، کرناٹک/ مسجد عسکری کریم پور کرناٹک میں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید وصی حیدر رضوی نے خطبۂ جمعہ میں موجودہ حالات، سعودی عرب، امریکہ، یمن، غزہ اور امت مسلمہ کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیات اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں ظلم کے انجام، ایمان کی طاقت اور اہل بیت علیہم السلام کی محبت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
مولانا سید وصی حیدر رضوی نےآج سعودی حکمراں کا مکہ مکرمہ پر ڈرون کے حوالے سے مکمل طور پر مکر و فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج سعودی عرب یہ کہہ رہا ہے کہ کعبہ کے اوپر آنے والے ڈرون کو ہم نے گرا دیا، جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ سے دوستی نہ کرو، وہ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج امریکہ نے سعودی عرب کو دھوکہ دے کر یہ دکھا دیا ہے کہ وہ تمہارا حقیقی دوست نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے امت مسلمہ کے حکمرانوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آج امت مسلمہ کے جتنے بادشاہ ہیں، خواہ بحرین ہو، دبئی ہو، کویت ہو یا سعودی عرب، ان سب کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ قرآن جو کہہ رہا ہے وہ صحیح ہے اور انسان کا اپنا تصور غلط ہو سکتا ہے۔
مولانا نے کہا کہ جب کوئی مدد کے لیے پکار رہا ہو اور جواب میں یہ کہا جائے کہ ہم تمہاری مدد نہیں کر سکتے تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ محض ظاہری دوستی اور اتحاد پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ خداوند عالم نے ان لوگوں کے بارے میں جو ظلم کرتے ہیں واضح کیا ہے کہ جنہوں نے ظلم کیا ہے، اللہ نے انہیں پست اور نابود کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ظالم اس زمانے میں ظلم کرتا رہتا ہے، لیکن جب اللہ کی طاقت آتی ہے تو زمانے کا فرعون ہو، نمرود ہو یا شداد، سب برباد اور پسپا ہو جاتے ہیں۔
مولانا وصی حیدر رضوی نے شہید آیت اللہ خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے بادشاہ، بڑے بڑے سلاطین، زمانے کے فرعون، نمرود اور شداد اس وقت غرق ہوئے جب وہ اپنے عروج پر تھے، جب اپنے اعتبار سے بہت بلندی پر تھے اور خود کو بہت طاقتور سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی وقت غرق کیا جب وہ اپنی طاقت کے عروج پر تھے۔
انہوں نے امریکہ کی موجودہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اتنے غرور میں مبتلا ہے کہ دنیا کے ہر ملک پر اپنی مرضی مسلط کرنے اور اپنی من مانی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن مجید نے واضح کیا ہے کہ جو لوگ ظلم کرتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
انصاراللہ یمن حق اور قبلۂ اول کے لیے لڑ رہے ہیں
خطبۂ جمعہ میں مولانا وصی حیدر رضوی نے یمن کی مقاومتی تنظیم، انصاراللہ تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انصاراللہ یمن کے حوثی مجاہدین حق کے لیے لڑ رہے ہیں، بیت المقدس کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں، مسلمانوں کے قبلۂ اول کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں اور غزہ کے لیے میدان میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب غزہ میں بے گناہ عورتوں اور بچوں پر بمباری ہو رہی تھی اور ساری امت خاموش بیٹھی تھی، اس وقت یمن کے مجاہدین نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ اگر غزہ پر حملے بند نہیں کیے جائیں گے تو ان کے راکٹ اسرائیل تک پہنچتے رہیں گے۔
مولانا نے یمنی مجاہدین کی سادگی اور استقامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مالی اعتبار سے مضبوط نہیں، بعض کو ویڈیوز میں بغیر چپل کے یا سادہ لباس میں جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ان میں بچے بھی ہیں اور بوڑھے بھی؛ سوال یہ ہے کہ انہیں میدان میں اس طرح کھڑے ہونے کی طاقت کہاں سے ملتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ در حقیقت ایمان کی طاقت ہے۔
ایمان کی طاقت کو ٹرمپ نہیں سمجھ سکتا
مولانا وصی حیدر رضوی نے کہا کہ ایمان کی طاقت وہ حقیقت ہے جسے ٹرمپ نہیں سمجھ سکتا۔ انہوں نے ایران کی استقامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ایران ڈرتا کیوں نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایران اللہ سے ڈرتا ہے، توحید پر ایمان رکھتا ہے اور کربلا کو مانتا ہے؛ اسی لیے وہ دشمن سے مرعوب نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے دشمن آج تعجب میں ہے کہ ایمان رکھنے والی قومیں کس طرح مشکلات کے باوجود استقامت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
ظالموں کے لیے اللہ کی گرفت یقینی ہے
مولانا نے قرآن کریم کی تعلیمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خداوند عالم نے ظالموں کے بارے میں واضح فرمایا ہے کہ انہیں ان کے کیے کی سزا ملے گی۔ ظالموں کو ان کے ظلم پر چھوڑ نہیں دیا جاتا، بلکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دیتا ہے اور جب اس کی گرفت آتی ہے تو ظالم تڑپتا رہ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حق اور باطل، عدل اور ظلم کے درمیان فرق پہچاننا ہے تو رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’الحق مع علی وعلی مع الحق‘‘؛ لہٰذا دیکھو کہ علی والے کہاں ہیں، علی کہاں ہیں، وہاں حق ہوگا، جبکہ جہاں حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی اور انکار ہوگا وہاں باطل ہوگا۔
حزب اللہ اور حزب الشیطان کا قرآنی تقابل
مولانا وصی حیدر رضوی نے قرآن کریم کی سورۂ مجادلہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حزب اللہ ہے جس کے بارے میں خداوند عالم فرماتا ہے کہ ’’حزب اللہ ہی غالب آنے والا ہے‘‘، جبکہ دوسری طرف شیطان کا گروہ ہے جس کے بارے میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ شیطان نے انہیں گھیر لیا، انہوں نے ذکر خدا کو بھلا دیا اور وہ حزب الشیطان بن گئے؛ بے شک حزب الشیطان ہی خسارہ اٹھانے والا ہے۔
انہوں نے بعض مسلم ممالک میں شراب اور جوئے کے فروغ پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس نے اسلامی ملک میں شراب کو عام کیا اور اس پر عائد پابندی ختم کی، جس نے جوئے کو عام کیا اور جو اپنے آپ کو خادمِ حرمین شریفین کہتا ہے، اس کے اعمال کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
مولانا نے سعودی عرب میں بعض تفریحات اور گناہوں کے فروغ سے متعلق میڈیا میں آنے والی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خانۂ کعبہ کے پردے کی تبدیلی کے حوالے سے بھی ایسی خبریں سامنے آئیں کہ برائی، گناہ اور بدکاری کے اڈے کو تحفہ دیا گیا۔ انہوں نے موجودہ حالات کو اللہ کی طرف سے عذاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ