حوزہ نیوز ایجنسی: ہم قرآن کے «ہر چیز کا بیان کرنے والی کتاب» ہونے سے متعلق شبہے اور سوال کے اٹھائے جانے کی وجہ کا مختصر جائزہ لیں گے۔
اگر قرآن ہر چیز کو بیان کرنے والی کتاب ہے تو پھر برف اور ہزاروں دیگر چیزوں کا قرآن میں ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟
بسا اوقات ایک سادہ سا سوال بھی انسان کے ذہن کو الجھا سکتا ہے:
قرآن فرماتا ہے: وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ. یعنی ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کی، تاکہ یہ ہر چیز کو بیان کرنے والی ہو۔
تو اگر قرآن واقعی ہر چیز کو بیان کرنے والی کتاب ہے تو پھر اس میں بہت سی عام چیزوں کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟ مثلاً بہت سے پھلوں کے نام کیوں نہیں آئے، برف کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا اور طبیعیات، کیمیا یا طب کے فارمولوں اور جزئیات کے بارے میں کچھ کیوں نہیں بتایا گیا؟
اگر ہر چیز سے مراد عالمِ وجود میں موجود ہر شے کو بالکل اسی معنی میں لیا جائے تو یہ سوال بجا معلوم ہوتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے: کیا قرآن نے واقعی ایسا دعویٰ کیا ہے؟
مذکورہ آیت کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ نکتے کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے: ہر وہ لفظ جو مطلق طور پر استعمال ہو، ضروری نہیں کہ ہر سیاق میں اس کا مفہوم بھی لامحدود ہو۔
مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ «یہ کتاب ڈرائیونگ کے بارے میں ہر چیز سکھاتی ہے» تو واضح ہے کہ ہماری مراد ڈرائیونگ سے متعلق ہر چیز ہے، یہ نہیں کہ اسی کتاب میں کھانا پکانے کا طریقہ یا دنیا کی تاریخ بھی بیان کی گئی ہو۔
خود آیت میں بھی تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ، کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے:وَهُدًی وَرَحْمَةً وَبُشْرَیٰ لِلْمُسْلِمِینَ. یعنی قرآن کو ہدایت، رحمت اور مسلمانوں کے لیے بشارت کی کتاب قرار دیا گیا ہے۔
لہٰذا یہاں گفتگو ان امور کے بیان سے متعلق ہے جن کا تعلق قرآن کے بنیادی مشن، یعنی انسان کی ہدایت سے ہے۔
علامہ طباطبائی بھی «تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ» کی تفسیر میں وضاحت کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے، اس لیے «ہر چیز» سے مراد وہ امور ہیں جن کا تعلق انسان کی ہدایت سے ہے؛ جیسے مبدأ و معاد سے متعلق علوم، اخلاق، احکام، قصے اور وہ نصیحتیں جن کی انسان کو صحیح راستہ تلاش کرنے کے لیے ضرورت ہے۔
لہٰذا اگر قرآن میں برف کا نام نہیں آیا ہے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ آیت کی نفی ہوگئی؛ کیونکہ قرآن طبیعات کا انسائیکلوپیڈیا بننے کے لیے نہیں آیا۔ قرآن کا مقصد تمام قدرتی مظاہر کے نام درج کرنا نہیں، بلکہ انسان کے لیے اس کے تعلق کو دنیا اور دنیا کے خالق کے ساتھ واضح کرنا ہے۔
اسی لیے قرآن بعض قدرتی جلووں کا ذکر کرتا ہے، لیکن اس مقصد سے نہیں کہ وہ طبیعی علوم کی کوئی تخصصی کتاب پیش کرے۔ جب قرآن بارش، آسمان، زمین، پودوں، جانوروں اور یہاں تک کہ بعض پھلوں کا ذکر کرتا ہے تو یہ سب قرآن کے بنیادی مقصد کے دائرے میں آتے ہیں: انسان دنیا کو دیکھ کر خدا کی معرفت حاصل کرے، نعمتوں کی طرف متوجہ ہو، غور و فکر کرے اور اپنی زندگی کی اصلاح کرے۔
مثلاً قرآن بارش کے بارے میں فرماتا ہے: وَهُوَ الَّذِی أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ. انعام/۹۹
خدا ہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے اس کے ذریعے ہر قسم کی نباتات پیدا کیں۔
اس کے بعد قرآن مختلف قسم کے پودوں اور پیداوار کا ذکر کرتا ہے۔ آیت کا مقصد جڑی بوٹی کی شناخت کی کوئی کتاب پیش کرنا نہیں، بلکہ ایک مانوس مظہر کو انسان کے سامنے رکھنا ہے؛ تاکہ وہ نظامِ تخلیق اور اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر کرے۔
اسی طرح کھجور، انگور، زیتون اور انار جیسے پھلوں کے بارے میں بھی یہی بات قابلِ توجہ ہے۔ قرآن کا مقصد زمین پر موجود تمام پھلوں کی فہرست پیش کرنا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو توقع کی جاتی کہ ہزاروں اقسام کے پھل، جانور، معدنیات، موسمی تبدیلیاں وغیرہ کے نام قرآن میں موجود ہوتے، جبکہ یہ بات قرآن کے مقصد اور ساخت سے مطابقت نہیں رکھتی۔
لیکن یہاں ایک اور اہم نکتہ موجود ہے!
ممکن ہے کوئی کہے: قبول ہے؛ قرآن ہدایت کی کتاب ہے، لیکن دینی مسائل میں بھی تمام جزئیات خود قرآن میں موجود نہیں ہیں۔ مثلاً ظہر کی نماز کی کتنی رکعتیں ہیں، یہ قرآن میں کہاں بیان ہوئی ہیں؟
یہ سوال دراصل ہمیں ایک اور اہم نکتے کی طرف لے جاتا ہے: قرآن کا «تبیان» ہونا لازمی طور پر اس معنی میں نہیں کہ ہر مسئلے کے تمام جزئیات براہِ راست اور الگ الگ قرآن کے متن میں لکھے گئے ہوں۔
خود قرآن نے دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے پیغمبرِ اکرمؐ کا تعارف بھی کروایا ہے:وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْهِمْ.
یعنی ہم نے تم پر قرآن نازل کیا، تاکہ جو کچھ لوگوں کے لیے نازل کیا گیا ہے، تم اسے ان کے لیے بیان کرو۔
لہٰذا قرآن خود نظامِ ہدایت کے ایک حصے کی وضاحت کرتا ہے: اللہ کی کتاب، رسول اور ان کی تشریح و تبیین۔ شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق، پیغمبرِ اکرمؐ کے بعد یہ سلسلہ اہل بیتؑ کی تبیین کے ذریعے جاری رہتا ہے۔
لہٰذا اگر کوئی یہ کہے کہ «چونکہ نماز کی رکعتوں کی تعداد قرآن میں نہیں لکھی گئی، اس لیے آیت «تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ» باطل ہے»، تو درحقیقت اس نے ابتدا ہی میں آیت پر ایک مفروضہ عائد کر دیا ہے؛ یعنی «تبیان» کو «قرآن کے متن میں ہر جزئیات کا الگ الگ ذکر» کے برابر قرار دے دیا، جبکہ خود قرآن نے معارف (علوم) کی تبیین اور تعلیم میں رسول کے کردار کو بھی بیان کیا ہے۔
تو «ہر چیز» سے مراد کیا ہے؟
جواب کو یوں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:
قرآن دنیا کے تمام موضوعات کے بارے میں ہر چیز بیان کرنے والی کتاب نہیں، بلکہ انسان کا مشن اور ہدایت کے لیے ضروری تمام امور کی تبیین کرتا ہے۔
قرآن کا مقصد ہمیں یہ بتانا نہیں کہ برف کن بلوروں سے تشکیل پاتی ہے، کسی خاص دوا کی تیاری کا فارمولا کیا ہے یا ایک انجینئر پل کیسے تعمیر کرے۔ یہ امور تجربے، عقل اور انسانی علم کے دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔
لیکن قرآن ان سوالات کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جن کا براہِ راست تعلق انسان کے مقصد سے ہے:
ہم کہاں سے آئے ہیں؟
خدا کون ہے؟
انسان کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے؟
خیر و شر کیا ہے؟
ہمیں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے؟
دوسروں کے مقابلے میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
موت کا مفہوم کیا ہے؟
موت کے بعد کیا ہوگا؟
اور کون سی چیز انسان کو سعادت یا شقاوت تک پہنچاتی ہے؟
اسی لیے قرآن میں مثلاً برف کا نام نہ ہونا، قرآن کے ناقص ہونے کی علامت نہیں؛ بالکل اسی طرح ہزاروں اقسام کے پودوں یا جانوروں کے نام موجود نہ ہونا بھی نقص شمار نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ
کیا قرآن نے دنیا کی ایک ایک مخلوق کے بارے میں گفتگو کی ہے؟
بلکہ درست سوال یہ ہے کہ
کیا قرآن نے ان امور کی تبیین کی ہے جن کی ذمہ داری اس نے انسان کی ہدایت کے لیے اپنے ذمے لی ہے؟
اور آیت تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ. کو بھی اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے، نہ یہ کہ قرآن سے یہ توقع کی جائے کہ وہ طبیعیات، حیاتیات، طب یا دنیا کے تمام جلووں کا انسائیکلوپیڈیا ہو۔









آپ کا تبصرہ