تحریر: محترمہ معصومہ شیرازی
حوزہ نیوز ایجنسی| شہریار ابجدی وادیوں کا وہ مسافر ہے جس کے قریہ تخیل کو حافظ کے روحانی اور قرآنی اسلوب کے پانیوں نے گل ہائے عرفان عطا کیے اور پھر نیما یوشیج کے جدید لہجے کی کونپلوں نے شہریار کے شہر سخن کو انقلاب، سیاسی حالات، جدید امیجری اور شہر آشوب جیسے دھڑکتے رنگ عطا کیے۔
شہریار جس کے اولین استاد اور مرشد عشق ان کے والد کے وسیلے سے حافظ شیرازی قرار پائے۔سماعتوں میں شاخ نبات کی شیرینی کا رس گھلا تو شہریار کے دل میں شاعرانہ جذبے دھمال ڈالنے لگے۔
اولین نظمیہ کلام میں بہجت کا تخلص برتنے والے جذباتی شاعر نے کلام حافظ سے فال نکال کر خود کو بہجت سے شہریار قرار دے دیا۔
تصوف کی زبان قرآنی ذائقوں میں مصرعوں کے قافیے ملانے لگی۔
دیوان حافظ کی بازگشت بن کر شہریار کے مصر عے حافظ کے حجلہ تخیل کا طواف کرنے لگے۔
جوانی کی حدوں میں قدم رکھتے ہی تبریز میں دارالفنون نامی ادارے میں کسب علم کے لیے حاضر ہوئے دوران طالب علمی ثریا نامی پری وش کا عشق دل میں سمایا اور پھر یہ عشق اس اوج ثریا تک جا پہنچا جہاں شہریار کی رسائی ممکن نہ ہو سکی۔ عشق کا اڑتا پنچھی ہجر کے گہرے بادلوں میں کھو گیا۔۔ ثریا کے جمال کو مال و منال لے اڑا اور صحرائے عشق میں تنہا پیاسا مسافر رخ بدل کر کسی اور سمت چل پڑا۔
عاشق کی اڑان عشق کی بسیط ہواؤں میں عشق حقیقی تک جا پہنچی اور پھر ایسی روحانی وارداتیں ہوئیں جنہوں نے اس قدامت پسند شاعر کی روحانی پروازوں کو اوج ثریا کا حقیقی قرب نصیب کر دیا۔
اس مجزوب عاشق کے حقیقی کلام کو خواب کے ایوانوں میں صاحب عرفان ہستیوں نے سماعت کیا۔
کہا جاتا ہے کہ زمانے کے صاحب عرفان مجتہد آغا مرعشی نجفی نے عین اس وقت عالم خواب میں ان کے ولائی کلام کو سماعت کیا جب شہریار اسے سپرد قلم کر رہے تھے ۔گویا خدا کی طرف سے اس مسافر شوق کو معراج عشق کی نوید سنا دی گئی۔۔ پھر اس مجذوب عاشق پر ایسی بے نیازی کا ابر برسا کہ وزیر ثقافت کی طرف سے دیے ہوئے سرکاری پلاٹ کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ ،،جب مے خانہ خرابے میں بدل گیا تو تم شراب لے کر آگئے ،، حافظ کی شاخ نبات سے نیما یوشیج کے شعر جدید تک شہریار تخیل کی سچائیاں کشید کرتا رہا
اس دور کے جابر شہنشاہ کی ہجو لکھتا ہوا بے خوف شاعر جس نے تخت وقت کے پائے پکڑنے کی بجائے مصیبتیں سہ کر اس کے جرائم آشکار کیے اور اس کے آمرانہ جبر کے خلاف احتجاجی سخن سپرد قلم کیے ۔۔
پانی درست سمت بہتا ہے تو آسانی اور سکون سے بہتا چلا جاتا ہے مگر مخالف سمت کا سفر نہایت پر خطر اور کٹھن ہوا کرتا ہے کاغذ کی کشتی پر بیٹھ کر مخالف ہواؤں سے لڑتا ہوا یہ مسافر جراتوں کے بادبان کھولے آگے بڑھتا رہا اور لمحہ موجود کی روداد الم لکھتا رہا۔۔شہریار نے جدید لہجے میں انقلاب ایران کے لیے مزاحمتی اور مقاومتی محاذوں پر بیانیہ کی جنگ لڑی ہزاروں دلوں کو مٹھی میں لیا اور حرارت انقلاب کو لوگوں کی روحوں میں رواں کیا اور انقلاب کی سرفروش آرزوؤں کو دلوں میں منتقل کیا آذری ترکی مادری زبان ہونے کے باوجود شہریار نے فارسی شعر و ادب کو زندہ بولتے اور دھڑکتے ہوئے مصرعوں کے سچے موتیوں سے آراستہ کیا روحانی تقدس کے سانچے میں ڈھلے عرفانی مصرعوں نے ولائے اہل بیت کی مودت کو ایک جہان تازہ میں لا کھڑا کیا۔
مولا علی کے حوالے سے اس نے ایسا معجز نما نظمیہ پیش کیا جس نے زمانے کے کو اپنا اسیر کیا۔
؎ علی ای ہمای رحمت تو چہ آیتی خدا را
کہ بہ ماسوا فکندی ہمہ سایہ ہما را
؎ دل اگر خداشناسی ہمہ در رخ علی بین
بہ علی شناختم من بہ خدا قسم خدا را
؎ «ہمہ شب در این امیدم کہ نسیم صبحگاہی
بہ پیام آشنائی بنوازد آشنا را»
؎ ز نوای مرغ یا حق بشنو کہ در دل شب
غم دل بہ دوست گفتن چہ خوشست شہریارا
شہریار تبریزی کے اندر فنون لطیفہ کی کئی دنیائیں اباد تھیں وہ بہترین موسیقار اور بہترین خطاط بھی تھے سر ان کے ہم اواز ھم دم اور ہم قدم تھے۔ ان کے نرم و لطیف پوروں کا لمس لفظوں کو خطاطی کے خوش رنگ لبادے عطا کرتا تھا گویا سر تاپا لطف وجمال بانٹتا یہ مسافرِ شوق جمالیاتی دنیا کا وہ خوبصورت پنچھی تھا جس کی ذات جلوہ ہزار داستان تھی۔
30 سے زائد زبانوں میں ان کے سخنہائے عاشقانہ و عارفانہ کو تراجم کی پذیرائی بخشی گئی ۔۔تراجم اہل ذوق کی شدت طلب اور شدت عشق کے ترجمان ہوا کرتے ہیں۔۔ اس شاعر بے مثل کو تبریز یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی شہریار نے ہیروشیما اور ناگا ساکی کے روح فرسا تباہ کاریوں پر آئنسٹائن کے نام ایک ایسی بلکتی تڑپتی اور سسکتی نظم لکھی جسے پڑھ کر خود آئنسٹائن کی انکھیں اشک برسانے لگیں وہ مادہ پرست سوچ کا ماتم کرتے ہوئے انسانیت کے روحانی اور معنوی اقدار کی پامالی کے عزادار تھے وہ مغرب کو مادہ پرستی کا جہنم قرار دے کر معنوی اقدار کا مجرم قرار دے رہے تھے انسانیت پر ہونے والے اس ناقابل تلافی ظلم پر ایک حساس شاعر کا ماتمی کلام خود مادہ پرست انسان کے دل کو خون کے انسو رلا گیا ۔۔یہ ان کے لفظوں کی تاثیر تھی۔ ان کی نظموں میں مغرب کا مادہ پرست نظام ہمیشہ زیر عتاب رہا ان کے ہاں جدید نظم کے استعارے ،تشبیہات اور تماثیل ہمیشہ اس نظام پر احتجاج کے سنگ برساتی رہیں انکی نظموں کا پہلا مجموعہ حافظ شیرازی کا رنگ سخن لیے بھرپور واردات روحانی کے ساتھ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر گیا جبکہ 1936 میں ان کا ترکی آزری زبان میں آنے والا مجموعہ مقبولیت کے لحاظ سے بے مثال رہا حیدر بابائی سلام جیسے کلام نے انہیں شہرت کا آسمان عطا کیا۔۔ 1954 میں حیدر بابائی سلام نے لوگوں کے دل مٹھی میں لیے اس طویل نظمیہ میں انہوں نے اپنے دیہات کے ایک پہاڑ حیدر بابا کو مخاطب کر کے اپنی لڑکپن کی سنہری یادوں کو وادی تخیل میں چن چن کر سجایا ۔تشبیہات استعارے اور تماثیل کا ایک جہان ہے جو اس نظمیے کے اسلوب کو بے شمار جہتیں عطا کرتا ہے۔۔
شہریار تبریزی ان قدامت پسند اور روایت پسند شعراء میں سے ہیں جنہوں نے شعر نو کی جدت کو بھی پورے وجود کے ساتھ قبول کیا اور اپنے فنی کمال کی زبان دی ان کا موازنہ پاکستان میں احمد فراز سے کیا جا سکتا ہے جنہوں نے عشقیہ شاعری میں بھی کمال حاصل کیا اور رزمیہ اور احتجاجی کلام بھی خوب لکھا ابتدائی تعلیم کے ساتھ والد سے کلام حافظ پڑھا جس سے ان کے ابتدائی سخن طرازی میں حافظ کا رنگ نمایاں اور انتہائی غالب رہا بہجت تخلص کیا مگر پھر دیوان حافظ سے فال نکال کر شہریار کہلائے ایک عشق ناکام نے ان کی تعلیمی سلسلے کو منقطع کیا اور پھر یہ ناکام عاشق ایک بامراد شاعر میں بدل گیا ماڈرنزم اور جدیدیت پر مبنی سلسلہ سخن میں جہاں فرانس اور یونان سے امیجری کے تصورات مشرقی دنیا میں ارہے تھے جدید امیجری پر مبنی کلام بھی لکھے بیسویں صدی ماڈرنزم پر مشتمل شاعری کی صدی تھی ازاد نظم بھی انہی بیانیے کی نئی تبدیلیوں کے نتیجے کی صورت میں سامنے ائی اور عنوانات میں انقلاب، بدلتے ہوئے موجودہ سیاسی حالات ادب برائے زندگی اور شہر آشوب لکھنے کا رجحان زیادہ ہوا ۔۔
حافظ کا متاثرہ شاعر جب نیما یوشیج سے ملا جسے جدید شاعری کا پدر نو کہا جاتا ہے اسی کے زیر اثر جدید طرز سخن کو بھی اپنا لیا شہریار نے مادہ پرستی کے ہاتھوں انسانیت کی تباہی و بربادی کا نوحہ لکھا اور مغرب سے اپنے فکری اختلاف کو زبان دی۔۔
ادب جدید کے زیر اثر لکھے ہوئے کلام میں تشبیہات و استعارات کا ایک جہان ہے جو شہریار کی شاعری میں عجب رنگ بھرتا چلا جاتا ہے شہریار نے ہٹلر کو اژدھا سے تعبیر کیا نماز شب کے لیے بہترین تشبیہات تلاش کیں حیدر بابا اس کے گاؤں کا ایک پہاڑ تھا جسے وہ ایک عظیم یاد کے طور پر پیش کرتا ہے دو مرغ بہشتی کا استعارہ شہریار کے ہاں خود شہریار اور یوشیج قرار پائے۔۔ابتدائے سخن میں حافظ کا اثر شہریار کو زندہ و جاوید کر گیا کیونکہ قدامت پسند تخلیقات میں قصیدے اور روحانی کلام نے شہریار کی عظمتوں کو لازوال اور تابناک کر دیا بالخصوص امیر المومنین پر کہے ہوئے کلام کو عوام میں بہت پذیرائی ملی اور شہریار کے قلم کو آفاقی جمال عطا ہوا مگر اس کے ساتھ ساتھ بھرپور لہجے میں گویائی کہ اسلحہ سے لیس اس مرد ازاد اور مرد خدا پرست نے شاہ کے خلاف انقلاب کی طاقتوری کے لیے جو کلام کہے انہوں نے انقلابی روح کو زندہ کیا پھر انقلاب کے بعد صدام حسین کے ظلم کے مقابلے میں استقامتی کلام کہے جنکی تاثیر بے پناہ رہی ۔۔رہبر معظم ایت اللہ خامنائی بڑے ذوق و شوق سے ان کی زبان سے ان کا کلام سماعت فرماتے تھے اور انہیں بھرپور داد سے نوازا کرتے تھے۔
اور پھر بالاخر شب شعر کا یہ قطبی ستارہ 18 ستمبر کی صبح صادق دور افق میں ڈوب گیا تبریز کے ،،مقبرۃ الشعرا ،، میں محو خواب یہ مجزوب عاشق جس نے عشق زمینی سے عشق اسمانی کا سفر طے کیا اور رزق آسمانی ہو گیا۔
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے









آپ کا تبصرہ