حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ حائری شیرازی کی زندگی کے آخری دنوں کا ایک واقعہ ان کے فرزند علی حائری شیرازی نے بیان کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے والد کی یمن کے بارے میں آخری نصیحت اور ظہور سے متعلق ان کی بات کو یاد کیا ہے۔
علی حائری شیرازی کے مطابق، ان کے والد زندگی کے آخری دنوں میں شدید بیماری میں مبتلا تھے اور ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو نازک قرار دیا تھا۔ ان کا بلڈ پریشر بھی بہت کم ہو گیا تھا اور وہ اکثر نیم بے ہوشی کی حالت میں رہتے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک رات جب وہ اپنے والد کے پاس موجود تھے تو آیت اللہ حائری شیرازی نے اچانک آنکھیں کھولیں اور کہا: ’’علی، ادھر آؤ!‘‘ پھر اچانک پوچھا: ’’یمن کی کیا خبر ہے؟‘‘
علی حائری شیرازی کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر حیران ہوا، انہوں نے پوچھا: ’’یمن نے میزائل سے کہاں حملہ کیا ہے؟‘‘ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کسی ایسے واقعے کو دیکھ رہے ہوں جس سے میں بے خبر ہوں۔
میں نے کہا کہ آپ نے خواب دیکھا ہے، ہم اس وقت ہسپتال میں ہیں۔ لیکن انہوں نے جواب دیا: ’’نہیں، یہ خواب نہیں تھا! یمن کو نظر انداز نہ کرو، یمن کی خبریں دیکھتے رہو۔ آخری زمانے کے واقعات یمن سے شروع ہوں گے، پہلے میزائل داغے جائیں گے۔‘‘
اس کے کچھ دیر بعد انہوں نے دوبارہ اپنے بیٹے کو بلایا اور قریب آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ان شاء اللہ تم ظہور امام علیہ السلام کو درک کرو گے۔‘‘
علی حائری شیرازی کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے والد کی اس بات کو ان کی نیم بے ہوشی کی کیفیت سے جوڑ کر زیادہ توجہ نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ آج جب یمن سے اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے خلاف میزائل داغے جا رہے ہیں اور بحیرۂ احمر میں اسرائیلی و امریکی جہازوں کے لیے حالات مشکل ہو گئے ہیں تو مجھے اپنے والد کی وہ بات دوبارہ یاد آتی ہے: ’’یمن کو نظر انداز نہ کرو۔‘‘









آپ کا تبصرہ