حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ حائری شیرازی نے اپنی ایک تقریر میں «دینی تبلیغ کے اثرات» کے موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے جو ذیل میں اہلِ فہم کے لیے پیش کیا جا رہا ہے:
آپ طلبہ نے یقیناً مرحوم کربلائی کاظم ساروقی کا واقعہ پڑھا ہوگا۔ ان کی قبر قبرستانِ نو قم المقدسہ میں حرم مطہر حضرت معصومہ (س) کے قریب ہے۔ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ نجفی عدمِ تحریفِ قرآن کے دلائل میں سے ایک یہ بیان کرتے تھے کہ کربلائی کاظم جنہوں نے غیر معمولی طریقے سے قرآن حفظ کیا تھا، وہ اسی موجودہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ اس واقعے کے غیر معمولی ہونے پر اتنے شواہد موجود تھے کہ شمار سے باہر ہیں۔
آیت اللہ مکارم شیرازی فرماتے ہیں: ہم کربلائی کاظم کے ہاتھ میں جو بھی قرآن دیتے اور کہتے کہ فلاں آیت دکھائیں، وہ قرآن کھولتے اور وہی آیت سامنے آ جاتی! یعنی یہ محض معمولی بات نہیں تھی۔
جب کبھی انہیں دعوت دی جاتی اور انہوں نے کوئی مشتبہ لقمہ کھا لیا ہوتا تو کہتے: میرے سامنے پردہ آ گیا، سب سیاہ ہو گیا۔ پھر کہتے: تمہارا مال مشتبہ تھا تو کربلائی کاظم کو کیوں بلایا؟ پھر وہ وہاں سے چلے جاتے اور وہ غذا قے کر دیتے۔
کربلائی کاظم خود کہتے ہیں: رمضان کا مہینہ تھا، ہمارے گاؤں میں ایک مبلغ آیا۔ اس نے کہا: جو زکات ادا نہ کرے، اس کا لباس اشکال رکھتا ہے۔ میں نے اپنے والد سے کہا: بابا زکات دے دیجیے۔ انہوں نے کہا: میرے پاس دینے کو نہیں۔ میں نے کہا: پھر زمین میں سے میرا حصہ الگ کر دیجیے۔ انہوں نے مان لیا۔ میرا حصہ الگ ہوا اور میں نے اپنی زکات دینا شروع کر دی۔ اس کے بعد میرے ساتھ حافظِ قرآن ہونے کا یہ واقعہ پیش آیا۔
دیکھئے! ایک طالبِ علم تبلیغ کے لیے جاتا ہے (معلوم نہیں اس نے لمعه تک بھی پڑھا تھا یا نہیں! ایک طالبِ علم نے ایک بات کہی، سامنے والے نے اسے سنا اور قبول کیا، اس نے وہ بات لے لی اور اس پر عمل کیا۔ پس جب انسان تبلیغ کے لیے جاتا ہے تو اس کے ایک کلمے سے بھی کوئی کربلائی کاظم بن سکتا ہے) یہی اس کے لیے کافی ہے!
پس اگر ہزار لوگ بھی آپ کا تمسخر اڑائیں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ طعن و تشنیع، یہ زحمتیں، یہ تکلیفیں اللہ سب دیکھتا ہے۔ جب آپ سمجھ جائیں کہ یہ کام ضروری ہے تو اسے انجام دینا چاہیے۔ کبھی آپ کے ایک جملے سے بھی کوئی کربلائی کاظم پیدا ہو جاتا ہے۔









آپ کا تبصرہ