حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بابیت اور بہائیت معاصر ایران کی تاریخ کی دو اہم تحریکیں ہیں، جن کا ذکر اکثر ایک ساتھ کیا جاتا ہے۔ لیکن دونوں ایک نہیں ہیں۔ بہائیت دراصل بابیت ہی کے اندر سے بعد میں وجود میں آنے والی ایک الگ تحریک ہے۔
بابیت اور بہائیت کے فرق کو سمجھنے کے لیے تقریباً دو صدی قبل کے حالات اور ان دونوں تحریکوں کی تشکیل کے مراحل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
بابیت اور بہائیت ایک چیز نہیں ہیں، تاہم بہائیت نے بابیت ہی سے جنم لیا۔
بابیت کیسے وجود میں آئی؟
تقریباً دو سو سال قبل ایران میں سید علی محمد شیرازی نے 1260 ہجری قمری میں ایک نیا دعویٰ پیش کیا اور کچھ لوگ ان کے پیروکار بن گئے۔
سید علی محمد شیرازی بعد میں ’’باب‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ ’’باب‘‘ کے معنی دروازہ اور واسطہ کے ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں خود کو ’’باب‘‘ اور امام مہدی (عج) سے رابطے کا واسطہ قرار دیا۔ اسی وجہ سے انہیں ’’باب‘‘ کہا جانے لگا۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اپنے دعوے کو مزید آگے بڑھایا اور اپنے لیے ایک ایسے مقام کا دعویٰ کیا جو محض واسطے سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یہ دعوے امام مہدی (عج) کے بارے میں شیعہ عقائد سے بنیادی طور پر مختلف تھے اور اسی سے بابیت نامی تحریک وجود میں آئی۔
باب نے اپنی تحریروں میں اپنے بعد ایک شخصیت کے آنے کی بھی خبر دی اور اسے ’’مَن یُظهِرُهُ الله‘‘ یعنی ’’وہ شخص جسے خدا ظاہر کرے گا‘‘ قرار دیا۔ بعد میں یہی تصور بہائیت کے وجود میں آنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
امیرکبیر اور بابیت
بابیت کے پھیلاؤ کے ساتھ یہ معاملہ صرف عقیدے تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض علاقوں میں بابیوں اور قاجار حکومت کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
ایسے حالات میں امیرکبیر نے بابیت کے پھیلاؤ اور امام مہدی (عج) کے بارے میں شیعہ تعلیمات سے اس کی دوری کے خلاف اقدامات کیے۔
ان کے نزدیک باب کے امام مہدی (عج) کے مقام سے متعلق دعوے اور اپنے بارے میں نئے مقامات کے دعوے، مسئلۂ مہدویت میں ایک بڑا انحراف تھے۔ اس کے علاوہ بابیت کے سماجی اور سیاسی اثرات کے باعث بھی اس کا مقابلہ ضروری سمجھا گیا۔
آخرکار امیرکبیر کے حکم پر باب کو 1266 ہجری قمری میں تبریز میں سزائے موت دی گئی۔ سید علی محمد باب کی بازجویی اور عدالتی کارروائی کا متن بھی تاریخی منابع میں موجود ہے، جس کے مطالعے سے ان کے مذہبی علم، افکار اور بعض دعووں میں موجود تضادات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
بہائیت کب وجود میں آئی؟
باب کی موت کے بعد اس کے پیروکاروں میں قیادت اور بابیت کے مستقبل کے بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا۔ اسی دوران باب کے پیروکاروں میں شامل مرزا حسین علی نوری، جو بعد میں ’’بہاء اللہ‘‘ کے نام سے معروف ہوئے، انہوں نے بتدریج ایک نیا دعویٰ پیش کیا۔
بہاء اللہ نے آخرکار اعلان کیا کہ وہی وہ موعود شخصیت ہیں جس کے آنے کی خبر باب نے دی تھی۔ اس کے بعد ان کے پیروکار دوسرے بابیوں سے الگ ہوگئے اور رفتہ رفتہ ایک نئی تحریک وجود میں آئی جسے ’’بہائیت‘‘ کہا گیا۔ بعد میں اس تحریک نے اپنے الگ عقائد اور تنظیمی ڈھانچے تشکیل دیے۔
دونوں میں بنیادی فرق کیا ہے؟
اس لیے بابیت اور بہائیت ایک ہی تحریک کے دو نام نہیں ہیں۔ بابیت کا آغاز سید علی محمد باب کے دعووں سے ہوا، جبکہ بہائیت چند سال بعد اسی تحریک کے اندر سے بہاء اللہ کے اس دعوے کے نتیجے میں وجود میں آئی کہ وہ ’’مَن یُظهِرُهُ الله‘‘ کی وہی موعود شخصیت ہیں جس کی باب نے پیش گوئی کی تھی۔
آج بابیت کی کیا حیثیت ہے؟
آج بابیت ایک الگ اور وسیع تحریک کے طور پر باقی نہیں رہی۔ بعد کے تاریخی واقعات میں زیادہ تر بابی مختلف گروہوں میں شامل ہوگئے، جن میں سب سے اہم بہائیت تھی۔
چنانچہ آج بہائیوں کے ساتھ ایک بڑی اور الگ ’’بابی‘‘ برادری موجود نہیں ہے۔ بہائی خود کو بہاء اللہ کے پیروکار سمجھتے ہیں اور باب کو اپنے مذہب کی تاریخ کے ایک ابتدائی مرحلے کا بانی قرار دیتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ