ہفتہ 5 ستمبر 2026 - 00:00
دنیا کا نقشہ بدل رہا ہے، امتِ مسلمہ کو انتشار نہیں اتحاد کی ضرورت ہے: مولانا سید رضا حیدر زیدی

حوزہ/ شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں 4 ستمبر کو حجۃ الاسلام والمسلمین سید رضا حیدر زیدی کی اقتدا میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں مولانا نے تقویٰ الٰہی، فلسفۂ بعثتِ انبیاء، تزکیۂ نفس اور سیرتِ رسول اکرص) کے ساتھ ہفتۂ وحدت کی اہمیت، امتِ مسلمہ کے اتحاد، بدلتے ہوئے عالمی حالات اور ایران، یمن، لبنان و فلسطین کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں 4 ستمبر کو نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفرانمآب رحمۃ اللہ علیہ لکھنو کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں مولانا نے تقویٰ الٰہی، فلسفۂ بعثتِ انبیاء، تزکیۂ نفس، سیرتِ رسول اکرم ﷺ، ہفتۂ وحدت اور موجودہ عالمی حالات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے خطبہ کے آغاز میں خود کو اور تمام نمازیوں کو تقویٰ الٰہی اختیار کرنے کی وصیت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی زندگی کا ہر لمحہ تقویٰ کے ساتھ گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے دل میں یہ احساس موجود رہنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

انہوں نے اربعین کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً دو ماہ کے سفر کے بعد دوبارہ اہلِ لکھنؤ کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا اور اربعین کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امام حسین علیہ السلام کے صدقے میں ہمیں دنیا و آخرت میں حسینی کردار اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ہفتۂ وحدت اپنے عقائد سے دستبرداری کا نام نہیں

ماہِ ربیع الاول کی مناسبتوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے ولادتِ باسعادت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کو عظیم مناسبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 12 سے 17 ربیع الاول تک منایا جانے والا ہفتۂ وحدت مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتحاد و وحدت کا مطلب اپنے عقائد کو تبدیل کرنا یا دین سے دستبردار ہونا نہیں ہے۔ مسلمان اپنے عقائد پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے ان مشترکات کو سامنے رکھیں جن پر سب متفق ہیں۔ باہمی اختلاف اور تصادم سے امت کی طاقت کمزور ہوتی ہے، جبکہ اتحاد اسے مضبوط بناتا ہے۔

بعثتِ انبیاء علیہم السلام کا مقصد قیامِ عدل ہے

فلسفۂ بعثتِ انبیاء پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے سورۂ حدید کی آیت 25 کا حوالہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل، کتاب اور میزان کے ساتھ بھیجا تاکہ لوگ عدل و انصاف کے قیام کے لئے کھڑے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انبیاء و رسل کی بعثت کا مقصد محض ان کا ذکر کرنا نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ سورۂ احزاب کی آیت 21 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہلِ ایمان کے لئے بہترین نمونۂ عمل قرار دیا۔

مولانا نے ’’ذکرِ کثیر‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے تسبیح حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت بیان کی اور کہا کہ اس مختصر تسبیح کی پابندی انسان کو کثرت سے یادِ خدا کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔

تزکیۂ نفس کے بغیر علم انسان کو گمراہی کی طرف لے جاسکتا ہے

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور سورۂ آلِ عمران کی آیت 164 کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا رضا حیدر زیدی نے تزکیۂ نفس کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انسان علم حاصل کرلے لیکن اس کا نفس پاک نہ ہو تو یہی علم اس کے لئے ہدایت کے بجائے گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر گلاس گندا ہو تو اس میں ڈالا جانے والا صاف پانی بھی آلودہ ہوجائے گا؛ اسی طرح دل اگر غرور، تکبر، حسد، جھوٹ اور لالچ جیسی اخلاقی برائیوں سے آلودہ ہو تو علم سے بھی صحیح فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ علم کے ساتھ تزکیۂ نفس ہو تو یہی علم معاشرے میں روشنی اور ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مسلمانوں کے دلوں سے غرور، تکبر، حسد اور لالچ دور فرمائے اور انہیں تواضع و انکساری عطا کرے۔

مولانا سید محمد سیادت نقوی کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

مولانا نے امروہہ کے بزرگ عالمِ دین اور امامِ جمعہ و جماعت مولانا سید محمد سیادت نقوی طاب ثراہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور مرحوم کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے مرحوم کے فرزندِ ارجمند حجۃ الاسلام مولانا سروش صاحب سے تعزیت کرتے ہوئے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ مولانا نے ان تمام علماءِ کرام کے لئے بھی بلندیِ درجات کی دعا کی جنہوں نے مختلف مقامات پر دینی و مذہبی خدمات انجام دیں۔

دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے

موجودہ عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مولانا رضا حیدر زیدی نے کہا کہ دنیا ایک تاریخی دور سے گزر رہی ہے اور عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی صدیوں سے مغربی طاقتوں کا عالمی سطح پر غلبہ رہا، تاہم موجودہ حالات میں طاقت کے مراکز کے مشرق کی جانب منتقل ہونے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ مسلمانوں کو بھی اپنے حالات، طرزِ فکر اور حکمتِ عملی پر غور کرنا ہوگا، کیونکہ انتشار اور کمزوری کسی بھی قوم کے وجود کو متاثر کرسکتی ہے۔

ایران اور خطے کی صورتحال پر اظہارِ خیال

مولانا نے ایران، یمن، لبنان اور فلسطین کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو طویل عرصے سے مختلف پابندیوں اور دباؤ کا سامنا ہے، تاہم ان کے مطابق وہاں مزاحمت اور استقامت کا سلسلہ برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والی ہر خبر پر بلا تحقیق یقین نہیں کرنا چاہیے بلکہ خبر کے اصل ماخذ اور اس کی صحت کو جانچنا چاہیے۔ مہنگائی کے عالمی مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات دنیا کے مختلف ممالک کو درپیش ہیں اور موجودہ حالات میں صبر و استقامت کی ضرورت ہے۔

یمن کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حوصلے اور استقامت سے بھی لڑی جاتی ہے۔ اسی ضمن میں انہوں نے شہید مقاومت حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ سید حسن نصراللہ کے مزاحمت اور عدمِ خوف پر مبنی موقف کا حوالہ دیا۔

فلسطین میں انسانی المیہ پر تشویش

فلسطین بالخصوص غزہ میں جاری انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے عام شہریوں اور بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ظلم و ناانصافی کے خاتمے اور انسانی جانوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔

قدرتی آفات سے سبق لینے کی ضرورت

خطبہ کے اختتام پر مولانا نے نیپال میں سیلاب اور طوفانی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے متاثرین کے جان و مال کے تحفظ کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو قدرتی ماحول اور ماحولیاتی نظام کے ساتھ اپنے رویے پر بھی غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے ماحولیاتی تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل اور ماحول کی حفاظت دراصل انسانی زندگی اور آنے والی نسلوں کے تحفظ سے وابستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha