جمعہ 25 ستمبر 2026 - 22:35
تقویٰ، رزق حلال اور صحیح اسلامی اعتقادات کامیاب زندگی کی بنیاد ہیں، مولانا محمد زکاء الحسن

حوزہ / مولانا محمد زکاء الحسن نے کہا: اسلامی تعلیمات میں انسان کی تربیت محض ظاہری اعمال تک محدود نہیں بلکہ عقیدہ، کردار، عمل اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی اصلاح بھی اس کا بنیادی حصہ ہے۔ اسی لیے قرآن کریم انسان کو ربانی صفات اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین محمد زکاء الحسن، فاضل حوزہ علمیہ قم و پرنسپل جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں نے مرکزی جامع مسجد مہدیہ، جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں، علی پور میں 25 ستمبر 2026ء کو خطبہ و نماز جمعہ کے دوران خطاب میں کہا: تقویٰ الٰہی اختیار کرنا اور حلال رزق کمانا ایک مؤمن کی دینی و معاشرتی زندگی کا اہم حصہ ہے، جبکہ حرام رزق انسان کی روحانی و اخلاقی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ تاجروں اور کسبِ معاش سے وابستہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کاروبار اور معاملات سے متعلق احکامِ شرعی سیکھیں تاکہ ان کی آمدنی شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔

انہوں نے خطبۂ اول میں تقویٰ الٰہی، رزق حلال کی اہمیت و فضیلت، حلال کمائی کے فوائد اور رزق حرام کے نقصانات پر تفصیلی گفتگو کی اور آیات و روایات کی روشنی میں مؤمنین کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا: انسان کی دینی زندگی میں حلال و حرام کی تمیز بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بالخصوص تاجر اور کسبِ معاش کرنے والے افراد اگر اپنے معاملات میں شرعی احکام سے واقف ہوں تو وہ بہت سے ایسے امور سے محفوظ رہ سکتے ہیں جو بظاہر معمولی لیکن شرعی اعتبار سے ناجائز یا قابلِ اجتناب ہوتے ہیں۔

مولانا محمد زکاء الحسن نے اپنے خطاب کے دوران اس امر پر زور دیا کہ رزق حلال صرف معاشی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی کردار، عبادات اور معاشرتی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح حرام کمائی کے نقصانات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات خاندان اور معاشرے تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

تقویٰ، رزق حلال اور صحیح اسلامی اعتقادات کامیاب زندگی کی بنیاد ہیں

خطیب جمعہ نے تاجروں، دکانداروں اور مختلف شعبہ ہائے کسب سے وابستہ افراد کو متوجہ کرتے ہوئے کہا: کاروبار اور لین دین سے قبل متعلقہ احکامِ شرعی کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے آیات و روایات کی روشنی میں حلال رزق کے حصول اور شرعی حدود کی رعایت کی اہمیت بیان کی۔

انہوں نے مؤمنین کو تلقین کی کہ معاشی سرگرمیوں میں صرف مالی منفعت کو پیش نظر نہ رکھا جائے بلکہ اس امر کو بھی ملحوظ رکھا جائے کہ حاصل ہونے والی آمدنی شرعی اعتبار سے پاکیزہ اور جائز ہو۔

خطبۂ ثانی میں مولانا محمد زکاء الحسن نے سورۂ آل عمران کی آیت 79 کی تفسیر، تفصیل اور شانِ نزول بیان کرتے ہوئے ارشادِ الٰہی «مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُونِ اللّٰهِ وَلٰـكِنْ كُوْنُوا رَبَّانِیِّیْنَ» کی روشنی میں ربانی بننے کی اہمیت پر گفتگو کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کا مقصد لوگوں کو اپنی ذات کا بندہ بنانا نہیں بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی معرفت کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔ خطبے میں مذکورہ آیت کے مفہوم، اس کے پس منظر اور اس سے حاصل ہونے والے اعتقادی و تربیتی نکات کی وضاحت کی گئی۔

مولانا محمد زکاء الحسن نے کہا: اسلامی تعلیمات میں انسان کی تربیت محض ظاہری اعمال تک محدود نہیں بلکہ عقیدہ، کردار، عمل اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی اصلاح بھی اس کا بنیادی حصہ ہے۔ اسی لیے قرآن کریم انسان کو ربانی صفات اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

انہوں نے آیات و روایات کی روشنی میں غلط اعتقادات کی سات اقسام کا ذکر کرتے ہوئے مؤمنین کو عقائد کی درستگی کی طرف متوجہ کیا۔

تقویٰ، رزق حلال اور صحیح اسلامی اعتقادات کامیاب زندگی کی بنیاد ہیں، مولانا محمد زکاء الحسن

انہوں نے کہا: اسلامی معاشرے میں صحیح عقیدہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور انسان کو چاہیے کہ اپنے اعتقادات کو قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں درست رکھے۔ غلط تصورات اور غیر صحیح عقائد سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دینی مسائل اور اعتقادی امور میں معتبر اسلامی تعلیمات سے استفادہ کرے۔

انہوں نے مؤمنین کو دینی تعلیم حاصل کرنے، قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستہ رہنے اور اپنے عقائد و اعمال کا جائزہ لیتے رہنے کی بھی تلقین کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha