حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں علی پور پنجاب کے پرنسپل حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا محمد زکاء الحسن، فاضل قم کی اقتدا میں 9 اکتوبر 2026ء کو مرکزی جامع مسجد مہدیہ، جامعہ علمیہ امام حسن عسکری گھلواں علی پور میں خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ ادا کی گئی۔
اس موقع پر مولانا محمد زکاء الحسن نے اپنے خطبات میں تقویٰ الٰہی کی اہمیت، گناہوں کے انفرادی و سماجی اثرات، مختلف گناہوں کی دنیاوی و اخروی سزاؤں اور رحمتِ خداوندی کے اسباب و عوامل پر آیاتِ قرآنی اور روایات کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی۔
خطبہ اول: تقویٰ الٰہی اور گناہوں کے سماجی اثرات
مولانا محمد زکاء الحسن نے پہلے خطبے میں تقویٰ الٰہی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے گناہوں کے بعض سماجی اثرات اور مختلف گناہوں کی دنیاوی و اخروی سزاؤں کو بیان کیا۔ انہوں نے قرآن مجید کی آیات اور روایات کی روشنی میں اس امر کی وضاحت کی کہ تقویٰ انسان کی زندگی میں دینی و اخلاقی استحکام پیدا کرتا ہے، جبکہ گناہوں کے ارتکاب کے اثرات فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کے اخلاقی، روحانی اور اجتماعی ماحول کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے گناہوں کے نتائج اور ان سے بچنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ انسان کو اپنے اعمال، گفتار اور کردار کے حوالے سے جواب دہی کا احساس برقرار رکھنا چاہیے۔ دنیاوی زندگی میں اعمال کے اثرات اور آخرت میں ان کے نتائج پر توجہ انسان کو گناہوں سے اجتناب اور نیکیوں کی طرف رغبت دلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پہلے خطبے میں آیات و روایات کی روشنی میں مختلف گناہوں کی دنیاوی اور اخروی سزاؤں کا جائزہ بھی پیش کیا گیا تاکہ مؤمنین میں دینی ذمہ داری، اخلاقی پاکیزگی اور تقویٰ کے تقاضوں کو سمجھنے کا شعور اجاگر ہو۔
خطبہ دوم: رحمتِ خداوندی کی اقسام اور اس کے نزول کے اسباب
دوسرے خطبے میں مولانا محمد زکاء الحسن نے قرآن مجید کی سورۂ روم کی آیت نمبر 50 کی تفسیر و تشریح بیان کی، جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَانْظُرْ اِلٰى اٰثَارِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَيْفَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔ ترجمہ: پس اللہ کی رحمت کے آثار کو دیکھو کہ وہ زمین کو اس کی موت کے بعد کس طرح زندہ کرتا ہے۔
انہوں نے اس آیت کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے رحمتِ خداوندی کے آثار، قدرتِ الٰہی کی نشانیاں اور مردہ زمین کو دوبارہ زندگی عطا کیے جانے کے قرآنی مفہوم پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس ضمن میں رحمتِ خداوندی کی دو بنیادی اقسام، یعنی رحمتِ عامہ اور رحمتِ خاصہ کی وضاحت بھی کی گئی۔

رحمتِ عامہ سے مراد وہ عمومی رحمت اور نعمتیں ہیں جن کے آثار کائنات اور مخلوقات میں نمایاں ہیں، جبکہ رحمتِ خاصہ ایک خصوصی عنایت ہے جس کا تعلق انسان کی روحانی و معنوی زندگی اور قربِ الٰہی کے حصول سے بھی ہے۔
مولانا محمد زکاء الحسن نے اپنے دوسرے خطبے میں آیات و روایات کی روشنی میں رحمتِ خاصہ کے نزول کے پانچ اسباب و عوامل اور اس کے نازل نہ ہونے کے پانچ اسباب و عوامل پر بھی گفتگو کی۔ اس موضوع کے ذریعے انہوں نے رحمتِ الٰہی کے حصول کے اسباب کو سمجھنے، دینی تعلیمات کی پیروی کرنے اور ان عوامل سے اجتناب کرنے کی اہمیت اجاگر کی جو انسان کو خصوصی رحمتِ خداوندی سے محروم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
قرآن و روایات کی روشنی میں دینی و اخلاقی رہنمائی
خطبہ جمعہ کے دونوں موضوعات میں تقویٰ الٰہی، گناہوں سے اجتناب، اعمال کے نتائج پر توجہ اور رحمتِ خداوندی کے حصول کے عوامل کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ پہلے خطبے میں گناہوں کے انفرادی و سماجی نقصانات اور دنیاوی و اخروی نتائج پر توجہ دلائی گئی، جبکہ دوسرے خطبے میں قرآن مجید کی ایک اہم آیت کی تفسیر کے ذریعے رحمتِ الٰہی کی وسعت اور اس کے خصوصی نزول سے متعلق اسباب و عوامل کی وضاحت کی گئی۔











آپ کا تبصرہ