جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 16:22
حقیقی توبہ انسان کے باطن میں انقلاب اور اصلاح کردار کا ذریعہ ہے: آغا سید حسن الموسوی الصفوی

حوزہ/ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ کے دوران توبہ و استغفار کو باطنی انقلاب اور اصلاحِ نفس کا بنیادی ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی توبہ محض زبانی استغفار تک محدود نہیں، بلکہ گناہوں سے اجتناب، کردار کی اصلاح اور انسان کے باطن میں مثبت تبدیلی کا مسلسل عملی عمل ہے۔ شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہریؒ کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان اپنی کوتاہیوں کا محاسبہ کرکے، نفسانی خواہشات پر قابو پا کر اور نیکی و تقویٰ اختیار کرکے قربِ الٰہی کی جانب پیش قدمی کرسکتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بڈگام-سرینگر/ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ کے دوران توبہ و استغفار کی اہمیت، اصلاح نفس اور روحانی انقلاب کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حقیقی توبہ محض زبان سے مغفرت طلب کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسان کے باطن میں بنیادی تبدیلی، گناہوں سے اجتناب اور کردار کی اصلاح کا ایک عملی و مسلسل عمل ہے۔

حقیقی توبہ انسان کے باطن میں انقلاب اور اصلاح کردار کا ذریعہ ہے: آغا سید حسن الموسوی الصفوی

آغا صاحب نے کہا کہ انسان خطا و لغزش سے مبرا نہیں، تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے توبہ و استغفار کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ انسان کی حقیقی کامیابی اس امر میں مضمر ہے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا ادراک کرے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرے، خلوص نیت کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں رجوع کرے اور آئندہ گناہوں سے اجتناب کا پختہ عزم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ استغفار انسان کے لیے ایک عظیم روحانی سرمایہ ہے، جس سے اسے کسی بھی حال میں غافل نہیں ہونا چاہیے۔

حقیقی توبہ انسان کے باطن میں انقلاب اور اصلاح کردار کا ذریعہ ہے: آغا سید حسن الموسوی الصفوی

شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہریؒ کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے توبہ کو ایک باطنی انقلاب قرار دیا اور کہا کہ جس طرح خارجی انقلاب معاشرتی، سیاسی اور ادارہ جاتی ڈھانچوں میں تبدیلی کا نام ہے، اسی طرح باطنی انقلاب انسان کے اندر موجود منفی رجحانات، نفسانی خواہشات اور اخلاقی کمزوریوں کے خلاف جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کے مطابق، حقیقی توبہ کرنے والا شخص محض ماضی کی غلطیوں پر پشیمانی کا اظہار نہیں کرتا، بلکہ ان اسباب اور رویّوں کو بھی بدلنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے گناہ کی طرف لے جاتے ہیں۔

حقیقی توبہ انسان کے باطن میں انقلاب اور اصلاح کردار کا ذریعہ ہے: آغا سید حسن الموسوی الصفوی

آغا صاحب نے مزید کہا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے شعور، ارادے اور روحانی ارتقا کی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ انسان جب اپنی پست خواہشات، خود غرضانہ رجحانات اور شیطانی وسوسوں پر قابو پا کر نیکی، تقویٰ اور راست بازی کو اختیار کرتا ہے تو وہ روحانی بلندی اور قرب الٰہی کی جانب پیش قدمی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جب انسان اپنی خواہشات کا اسیر بن جاتا ہے تو وہ اپنے اعلیٰ انسانی مقام اور اخلاقی ذمہ داریوں سے دور ہوجاتا ہے۔ لہٰذا، حقیقی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے باطن کی اصلاح کو اپنی زندگی کا مستقل مقصد بنائے۔

حقیقی توبہ انسان کے باطن میں انقلاب اور اصلاح کردار کا ذریعہ ہے: آغا سید حسن الموسوی الصفوی

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر آغا صاحب نے دعائے ابوحمزہ ثمالی اور قرآن مجید کی آیات استغفار پر غور و تدبر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توبہ، دعا اور استغفار انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وابستہ رکھتے ہیں اور اصلاح نفس کی راہ دکھاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کی کہ زبانی استغفار اسی وقت حقیقی معنویت اختیار کرتا ہے جب اس کے ساتھ گناہوں سے عملی اجتناب، اصلاح کردار اور نیک اعمال کا عزم بھی شامل ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ محمد و آل محمدؑ کے وسیلے سے تمام بیماروں کو شفا عطا فرمائے اور تمام مومنین و مومنات کو اپنی رحمت و مغفرت سے بہرہ مند فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha