پیر 21 ستمبر 2026 - 14:03
علم، اخلاق، رواداری اور خدمت پائیدار امن کی بنیاد، آغا سید باقر الحسینی

حوزہ/صدرِ انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی نے بلتستان امن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن کسی ایک فرد، ادارے یا طبقے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے کردار، گفتگو اور عملی رویوں کے ذریعے معاشرے میں امن، رواداری، باہمی احترام اور اخوت کو فروغ دینا ہوگا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدرِ انجمنِ امامیہ بلتستان پاکستان آغا سید باقر الحسینی نے بلتستان امن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن کسی ایک فرد، ادارے یا طبقے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے کردار، گفتگو اور عملی رویوں کے ذریعے معاشرے میں امن، رواداری، باہمی احترام اور اخوت کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے قدردان فاؤنڈیشن اور ضلعی انتظامیہ سکردو کو امن کے موضوع پر سیمینار منعقد کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرے میں مثبت گفتگو اور سنجیدہ مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی ذات، اپنے ادارے اور اپنے معاشرے کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

آغا سید باقر الحسینی نے کہا کہ معاشرے میں انسان کی حقیقی عزت اس کے خاندان، قبیلے، دولت یا منصب سے نہیں، بلکہ علم، ادب، اخلاق اور کردار سے ہوتی ہے۔ تعلیم انسان کی ترقی کے لیے ضروری ہے، لیکن صرف تعلیم کافی نہیں؛ تعلیم کے ساتھ اخلاق اور تربیت بھی لازم ہے۔ اگر علم انسان کے کردار میں بہتری پیدا نہ کرے تو معاشرے کی حقیقی اصلاح ممکن نہیں۔

صدرِ انجمنِ امامیہ بلتستان نے بلتستان کے ماضی کے بعض مشکل اور افسوسناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ 1988ء گلگت،اور 2012ء سانحہ چلاس سمیت مختلف ادوار میں علاقے کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جب معاشرتی امن کو شدید چیلنجز درپیش تھے۔ ایسے مشکل ترین حالات میں بلتستان کے علماء کرام، عمائدین اور باشعور عوام نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے، امن برقرار رکھنے اور لوگوں کے درمیان تحمل و برداشت پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلتستان کے علماء نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے اور مشکل حالات میں بھی لوگوں کو صبر، تحمل، باہمی احترام اور امن کی طرف متوجہ کیا جائے۔ یہ ہماری اجتماعی تاریخ کا ایک اہم پہلو ہے جسے فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ماضی کے ان تجربات سے سبق حاصل کریں۔ اگر کسی معاشرے نے مشکل ترین حالات میں امن قائم رکھا ہے تو اس کی بنیادی وجہ وہاں کے ذمہ دار افراد، علماء، عمائدین اور عوام کا اجتماعی شعور اور مثبت کردار ہوتا ہے۔ ہمیں اسی روایت کو آگے بڑھانا ہے۔

آغا سید باقر الحسینی نے علماء کرام کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں علماء کی بات کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے، اس لیے ان پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کرتے ہوئے اخلاق، اتحاد، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دیں اور اختلافات کو اشتعال یا تصادم کے بجائے علم و حکمت اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ بلتستان کی امن پسند شناخت کو برقرار رکھنے میں علماء اور عوام دونوں کا کردار ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کی ان روایات کو مضبوط کرنا ہوگا جن کی بنیاد اخوت، احترام اور برداشت پر ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انہیں تعلیم، تحقیق، ہنر، کھیل اور مثبت سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں کو تعمیری کاموں میں استعمال کریں تو وہ نہ صرف اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

علامہ سید باقر الحسینی نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کے لیے کھیلوں، علمی سرگرمیوں اور مثبت تفریح کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں تاکہ ان کی توانائیاں تعمیری سمت میں استعمال ہوں۔ والدین، تعلیمی اداروں، علماء اور سماجی تنظیموں کو نوجوانوں کی کردار سازی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

نائب امام جمعہ سکردو نے سوشل میڈیا کے حوالے سے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ہماری اجتماعی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے مثبت پیغام بھی تیزی سے پھیلایا جا سکتا ہے اور غیر مصدقہ یا اشتعال انگیز مواد بھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی خبر، ویڈیو یا پیغام کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی حقیقت جانچ لی جائے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کو مثبت، تعمیری اور معاشرتی شعور اجاگر کرنے کے لیے استعمال کریں اور ایسی کسی بات کا حصہ نہ بنیں جس سے معاشرے میں نفرت، بداعتمادی یا انتشار پیدا ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے ’’خدمت، نہ کہ مفاد‘‘ کو اپنا اصول بنانا چاہیے۔ ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق معاشرے کی خدمت کرنی چاہیے۔ امن اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب افراد اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق اور ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھتے ہیں۔

انہوں نے گفتگو کے آداب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کو سلام کرنا، مسکرانا، احترام سے بات کرنا، اختلاف کے باوجود دوسرے کی بات سننا اور شائستگی برقرار رکھنا بھی معاشرتی امن کی بنیادی علامتیں ہیں۔

آخر میں آغا سید باقر الحسینی نے کہا کہ بلتستان کا امن ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ماضی کے مشکل تجربات سے سبق لیتے ہوئے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام، تنوع کے باوجود اتحاد اور مشکلات کے باوجود امن برقرار رہے۔

انہوں نے علماء کرام، عمائدین، نوجوانوں، تعلیمی اداروں، صحافیوں، سرکاری اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ بلتستان کے امن، اتحاد اور رواداری کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha