ہفتہ 3 اکتوبر 2026 - 02:28
اسلام انسانی فلاح اور ضرورت مندوں کی خدمت کا جامع نظام پیش کرتا ہے: آغا سید طہٰ شمس الدین

حوزہ/ صدر علماء امامیہ شگر حجۃ الاسلام آغا سید طہٰ شمس الدین الموسوی خطبہ جمعہ میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں انسانی فلاح، خدمتِ انسانیت اور ضرورت مندوں کی مدد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے کام کرنے والے اداروں کی سرگرمیوں کا جائزہ ان کے مقاصد، طریقۂ کار اور معاشرتی اثرات کے تناظر میں لینا بھی ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شگر-بلتستان/ صدر علماء امامیہ شگر حجۃ الاسلام آغا سید طہٰ شمس الدین الموسوی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی بحران، جنگوں اور غربت کے باعث کروڑوں افراد مشکلات سے دوچار ہیں، ایسے میں فلاحی اداروں اور این جی اوز کی سرگرمیوں کو محض ان کی ظاہری خدمات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے مقاصد، طریقۂ کار، شفافیت اور معاشرتی اثرات کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

جامع مسجد صاحب الزمان میں خطبۂ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور فلاحی خدمات بلاشبہ معاشرے کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں، تاہم کسی بھی ادارے کے بارے میں رائے قائم کرنے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کن مقاصد کے تحت کام کر رہا ہے اور اس کی سرگرمیوں کے قلیل اور طویل المدتی اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے دنیا کے جنگ زدہ اور بحران کا شکار علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر انسانی فلاح اور ضرورت مندوں تک بنیادی سہولیات پہنچانا عالمی فلاحی اداروں کی ترجیح ہے تو یمن، غزہ جیسے خطوں میں، جہاں جنگ، غربت اور انسانی مشکلات نے سنگین صورت اختیار کر رکھی ہے، ان سرگرمیوں کا دائرہ کیوں محدود دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فلاحی سرگرمی کو اس کے وسیع تر انسانی اور اخلاقی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

آغا سید طہٰ شمس الدین الموسوی نے کہا کہ دینِ اسلام میں انسانی فلاح، خدمت اور ضرورت مندوں کی مدد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید ہدایت کے ساتھ فلاحِ انسانیت کا پیغام دیتا ہے، جبکہ ائمۂ اطہارؑ کی سیرت میں انسانیت کی خدمت، محروم طبقات کی مدد اور معاشرتی ذمہ داری کی روشن مثالیں موجود ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ فلاحی سرگرمیوں کے ساتھ بعض ادارے ایسے نظریات، طرزِ فکر یا سماجی تصورات بھی متعارف کراسکتے ہیں جو مقامی معاشروں کی روایات، اقدار اور دینی شناخت پر اثر انداز ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس لیے عوام کو نہ تو ہر غیر سرکاری ادارے کو بلا تحقیق مسترد کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کی سرگرمیوں کو محض فلاحی عنوان کی بنیاد پر بلا جائزہ قبول کرنا چاہیے، بلکہ ہر ادارے کے مقاصد، مالی و انتظامی شفافیت، طریقۂ کار اور سماجی اثرات کا شعوری مطالعہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصاً نوجوان نسل کے حوالے سے یہ ذمہ داری مزید اہم ہوجاتی ہے، کیونکہ تعلیم، صحت اور سماجی ترقی کے منصوبوں کے اثرات صرف موجودہ حالات تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کی سوچ اور معاشرتی رویوں پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

صدر علماء امامیہ شگر نے کہا کہ بلتستان خصوصاً شگر میں این جی اوز کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی عوام کو جذبات کے بجائے شعوری اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے چھورکاہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے ایک این جی او کے حوالے سے جاری بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے حق یا مخالفت میں رائے قائم کرنے والے افراد کو بھی اپنے مؤقف کا دینی، اخلاقی اور سماجی اعتبار سے جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے چھورکاہ اور پورے بلتستان میں شیخ محسن علی نجفی کی دینی و تعلیمی خدمات کو قابلِ ذکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں قائم دینی و تعلیمی اداروں، بالخصوص محمدیہ ٹرسٹ کی تعلیمی خدمات کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے کی جانب سے تعلیم، صحت یا دیگر فلاحی خدمات فراہم کی جارہی ہیں تو ان خدمات کی قدر کے ساتھ ساتھ ادارے کے نظریات، ترجیحات اور طویل المدتی مقاصد کا جائزہ لینا بھی معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

آغا سید طہٰ شمس الدین الموسوی نے کلمہ گو مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی دینی شناخت، معاشرتی اقدار اور روایات کے تحفظ کے ساتھ انسانی فلاح اور ضرورت مندوں کی خدمت کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے یا منصوبے کے بارے میں فیصلہ جذبات کے بجائے معلومات، شفافیت اور شعوری جائزے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha