حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں خطبۂ جمعہ کے دوران سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، بالخصوص فاطمی طرز زندگی کی عملی اہمیت، اور موجودہ عالمی سیاسی و معاشی صورتحال کے انسانی اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ایام عزائے فاطمیہ کی مناسبت سے اپنے خطاب کے پہلے حصے میں آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے سیرت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو محض عقیدت، محبت اور مصائب کے تذکرے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی عظیم دینی و روحانی شخصیت سے حقیقی وابستگی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کو اپنے کردار، اخلاق، معاملات اور روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فاطمی طرز زندگی کی اساس ہر حال میں رضائے الٰہی کو مقدم رکھنے میں مضمر ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دین محض عبادات اور مذہبی رسومات تک محدود نہیں بلکہ تجارت، ملازمت، خاندانی معاملات، سماجی ذمہ داریوں اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی بھی دینی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ان کے مطابق انسان کے فیصلوں کا اصل معیار ذاتی مفاد، شہرت یا لوگوں کی خوشنودی نہیں بلکہ رضائے پروردگار ہونا چاہیے۔

آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت، ایثار اور انسان دوستی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے روایت ایثار کا حوالہ دیا، جس کے مطابق آپؑ رات بھر اہل ایمان کے لیے دعا فرماتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسوۂ زہراؑ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ خدا سے مضبوط تعلق انسان کو دوسروں کی مشکلات اور ضروریات سے غافل نہیں کرتا بلکہ اسے معاشرے کے تئیں مزید حساس، ہمدرد اور ذمہ دار بناتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عبادت کا حقیقی مقصد انسان کے کردار اور اخلاق کی اصلاح ہے۔ اگر کوئی شخص عبادات کا پابند ہونے کے باوجود اپنے کاروبار میں جھوٹ، گھریلو زندگی میں ناانصافی اور دوسروں کے حقوق کی پامالی کا مرتکب ہو تو اسے اپنی عبادت کے عملی اثرات کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حلال روزی، دیانت داری، انصاف، اہل خانہ کے حقوق کی ادائیگی، ضرورت مندوں کی مدد اور حق و انصاف کی حمایت بھی دینی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔

آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ایام عزائے فاطمیہ کے پیغام کو عملی زندگی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان ایام میں مجالس عزا، عزاداری اور مظلومیت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا تذکرہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، تاہم ان ایام کا ایک بنیادی تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے گھروں، معاشرتی رویوں، اخلاقی اقدار اور معاملات کا محاسبہ کریں اور اپنی زندگیوں میں فاطمی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں نافذ کرنے کا عہد کریں۔
عالمی سیاسی و معاشی بحران اور عام انسانوں پر جنگوں کے اثرات
خطبۂ جمعہ کے دوسرے حصے میں آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی توانائی کے بحران اور فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف عوامی احتجاج کے تناظر میں موجودہ عالمی سیاسی و معاشی صورتحال کا تجزیہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگوں کے اثرات محض میدان جنگ یا متحارب ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے معاشی اور انسانی نتائج سرحدوں سے تجاوز کرکے دنیا بھر کے عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی عالمی تجارتی اور توانائی کی ترسیل میں غیر معمولی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ عالمی منڈیوں، تیل و گیس کی فراہمی، صنعتی سرگرمیوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ بالآخر عام شہریوں، محنت کشوں، کسانوں، چھوٹے کاروباری طبقے اور کم آمدنی والے خاندانوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایندھن کی مہنگائی صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات نقل و حمل، اشیائے خوردونوش، صنعتی پیداوار اور گھریلو اخراجات تک پھیل جاتے ہیں۔
فرانس میں عوامی احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں پیدا ہونے والی بے چینی کو محض ایندھن کی قیمتوں کے خلاف ردعمل قرار دینا کافی نہیں بلکہ اسے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، تعلیمی مسائل، روزمرہ اخراجات اور عام شہریوں کے معیار زندگی سے وابستہ وسیع تر تشویش کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جنگوں اور فوجی کارروائیوں کے فیصلے طاقتور حلقے کرتے ہیں، لیکن ان کے معاشی نتائج کا خمیازہ کروڑوں عام انسانوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی فوجی کارروائی یا سیاسی فیصلے کا جائزہ صرف عسکری کامیابی اور سیاسی برتری کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا بلکہ اس کے انسانی، معاشی اور سماجی نتائج کو بھی بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ عالمی بحرانوں کا تمام تر بوجھ کمزور اور متوسط طبقے پر منتقل کرنے کے بجائے ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے خاندانوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنا، ایندھن کی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنا، قابل اعتماد اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا اور توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری کرنا حکومتوں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ دنیا کو جنگوں اور طاقت کے مظاہروں کے بجائے انصاف، انسانی وقار اور پائیدار امن پر مبنی عالمی نظام کی ضرورت ہے۔ حقیقی امن محض میدان جنگ میں خاموشی کا نام نہیں بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں انسان خوف کے بغیر زندگی گزار سکے، محنت سے باعزت روزی کما سکے، اپنے بچوں کو تعلیم فراہم کر سکے اور مہنگائی کے باعث بنیادی ضروریات زندگی سے محروم نہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے اور انسانی تحفظ کو سیاسی و عسکری مفادات پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔










آپ کا تبصرہ