اتوار 20 ستمبر 2026 - 11:07
حیدرآباد میں مجمعِ علماء و خطباء کا اجلاسِ عام، شیعہ معاشرے کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی غور

حیدرآباد میں مجمعِ علماء و خطباء کا اجلاسِ عام، شیعہ معاشرے کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی غور

شیعہ معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے علماء کا اتحاد، اوقاف کا تحفظ اور نئی نسل کی تعلیم ناگزیر ہے: مولانا یعسوب عباس

حوزہ/ حیدرآباد دکن میں مجمعِ علماء و خطباء کے زیر اہتمام اجلاسِ عام منعقد ہوا، جس میں علماء، خطباء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں شیعہ معاشرے کو درپیش مذہبی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی مسائل سمیت اوقاف کے تحفظ، علماء کے اتحاد، نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور کمیونٹی کی مؤثر نمائندگی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حیدرآباد دکن/ مجمعِ علماء و خطباء حیدرآباد دکن کے زیر اہتمام اجلاسِ عام منعقد ہوا، جس میں شہر کے ممتاز علماء، خطباء، ذاکرین اور مجمع کے مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں شیعہ معاشرے کو درپیش مذہبی، تعلیمی، سماجی اور اقتصادی مسائل، اوقاف کے تحفظ، علماء کے اتحاد، نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور کمیونٹی کی مؤثر نمائندگی کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

حیدرآباد میں مجمعِ علماء و خطباء کا اجلاسِ عام، شیعہ معاشرے کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی غور

اجلاس میں آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا یعسوب عباس نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ مجمعِ علماء و خطباء کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ مولانا علی حیدر فرشتہ، صدر مولانا حنان رضوی، مولانا ظفر ریاب حیدر رضوی سمیت متعدد علماء و خطباء بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران مجمعِ علماء و خطباء کی جانب سے حیدرآباد دکن میں جاری مذہبی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی گئی۔ شرکاء نے موجودہ حالات میں شیعہ معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے علماء کے درمیان اتحاد، باہمی رابطے اور منظم اجتماعی جدوجہد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

حیدرآباد میں مجمعِ علماء و خطباء کا اجلاسِ عام، شیعہ معاشرے کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی غور

مولانا یعسوب عباس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ معاشرے کی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے تعلیم، اوقاف کے تحفظ، سماجی فلاح اور مؤثر نمائندگی کے میدان میں منظم اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے اوقاف کی املاک کے تحفظ کے لیے قانونی اور اجتماعی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے تعلیمی اداروں کے قیام اور موجودہ اداروں کی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے لکھنؤ میں قائم شیعہ کالج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کے لیے معیاری تعلیمی مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علماء کے اتحاد اور شیعہ پرسنل لا بورڈ سمیت اجتماعی پلیٹ فارمز کے ذریعے کمیونٹی کے مسائل کو مؤثر انداز میں متعلقہ حکام تک پہنچایا جانا چاہیے۔

مولانا یعسوب عباس نے مجمعِ علماء و خطباء حیدرآباد کی فلاحی سرگرمیوں کو بھی سراہا، جن میں علماء کے لیے ہیلتھ انشورنس، علماء کے بچوں کی تعلیمی فیس میں معاونت اور دیگر فلاحی اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کی فلاح اور ان کے خاندانوں کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی اجتماعی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

حیدرآباد میں مجمعِ علماء و خطباء کا اجلاسِ عام، شیعہ معاشرے کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی غور

مجمعِ علماء و خطباء کے بانی و سرپرست مولانا علی حیدر فرشتہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں علماء کی ذمہ داری صرف مذہبی رہنمائی تک محدود نہیں، بلکہ انہیں معاشرے کے اجتماعی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی مسائل کے حل میں بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اوقاف کے تحفظ کو اہم اجتماعی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے علماء، دینی اداروں اور کمیونٹی کے ذمہ داران کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے پولیس انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے ساتھ مجمعِ علماء و خطباء کے روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ کمیونٹی کے مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچانے اور باہمی تعاون کے ذریعے ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حیدرآباد میں مجمعِ علماء و خطباء کا اجلاسِ عام، شیعہ معاشرے کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی غور

صدرِ مجمعِ علماء و خطباء مولانا حنان رضوی نے بھی علماء کے اتحاد اور اجتماعی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کے مسائل کو مقامی سطح سے ریاستی اور قومی سطح تک مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے منظم پلیٹ فارم اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیم، اوقاف، علماء کی فلاح اور نوجوانوں کی دینی و اخلاقی رہنمائی کو اہم ترجیحات قرار دیا۔

اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح و سربلندی اور کامیابی کے لیے دعا کی گئی، جبکہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے مقابلے میں ایران کی استقامت و کامیابی اور دشمنوں کی نابودی کے لیے بھی دعا کی گئی۔ اس موقع پر جنت البقیع کی جلد از جلد تعمیر و بحالی کے لیے بھی خصوصی دعا کی گئی۔

حیدرآباد میں مجمعِ علماء و خطباء کا اجلاسِ عام، شیعہ معاشرے کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی غور

اجلاس میں ہندوستان اور ایران کے باہمی تعلقات کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے حالیہ BRICS سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہندوستان کے دورے اور ہندوستانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستان کی حالیہ خارجہ پالیسی کے بعض پہلوؤں کو سراہا۔ حالیہ BRICS اجلاس کے موقع پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی صورتِ حال پر گفتگو ہوئی تھی۔

شرکاء نے حکومتِ ہندوستان سے اپیل کی کہ ایران کے ساتھ تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے نئے امکانات کو فروغ دیا جائے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ہندوستان میں موجود شیعہ کمیونٹی کے مذہبی، تعلیمی، سماجی اور دیگر جائز مسائل پر حکومت سنجیدگی سے غور کرے اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

حیدرآباد میں مجمعِ علماء و خطباء کا اجلاسِ عام، شیعہ معاشرے کے اجتماعی مسائل پر تفصیلی غور

اجلاس میں موجودہ حالات کے پیش نظر راہِ حق میں شہید ہونے والے رہبرِ شہید کے لیے فاتحہ خوانی اور موجودہ رہبر کی سلامتی و سربلندی کے لیے دعا کی گئی۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی اور دیگر مراجعِ عظام کی صحت و سلامتی کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں، جبکہ حیدرآباد دکن اور لکھنؤ کے مرحوم علماء و مؤمنین کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ علماء و خطباء باہمی اتحاد، منظم رابطے اور اجتماعی تعاون کے ذریعے شیعہ معاشرے کے مذہبی، تعلیمی، سماجی اور فلاحی مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مؤثر بنائیں گے اور کمیونٹی کے جائز مسائل کو متعلقہ حکام اور قومی سطح کے ذمہ دار اداروں تک مؤثر انداز میں پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha