تحریر و ترتیب: آغا زمانی، سیکریٹری نشر و اشاعت و پریس، انجمنِ امامیہ بلتستان
حوزہ نیوز ایجنسی | مرکزی انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیرِ اہتمام 21 ربیع الثانی 1448ھ مطابق 04 اکتوبر 2026ء بروز اتوار مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو میں علمائے بلتستان کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں سکردو، کھرمنگ، شگر، خپلو، روندو، گلتری سمیت بلتستان کے مختلف علاقوں سے جید علمائے کرام، ائمہ جمعہ و جماعت، دینی و تبلیغی شخصیات اور اکابرین نے بھرپور شرکت کی۔ داعیِ امن و اتحاد، وکیل مراجعِ عظام اور امام جمعہ و الجماعت مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو حجۃ الاسلام علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والی اس ایک روزہ کانفرنس کا بنیادی مقصد عصرِ حاضر میں ملک و ملت کو درپیش دینی، فکری، اعتقادی، سماجی اور معاشرتی چیلنجز کا جائزہ لینا، ان کے اسباب و اثرات پر غور کرنا اور ان کے حل کے لیے علماء کے باہمی تعاون، مشاورت اور مشترکہ کردار کو مؤثر بنانا تھا۔ کانفرنس میں صرف دینی و فکری موضوعات ہی زیرِ بحث نہیں آئے بلکہ بلتستان کے عوام کو درپیش تعلیم، صحت، بجلی، پانی، روزگار، اعلیٰ تعلیم، میرٹ، آئینی و انسانی حقوق اور دیگر بنیادی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کے ساتھ نوجوان نسل کو الحاد، لادینیت اور فکری انتشار سے محفوظ رکھنے، عصرِ حاضر کے سوالات کا علمی و مدلل جواب دینے، علماء اور نوجوانوں کے درمیان مؤثر فکری رابطہ قائم کرنے اور نئی نسل کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت کی ضرورت پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ کانفرنس میں اتحاد بین المسلمین، فرقہ وارانہ کشیدگی کے تدارک، باہمی احترام، اخوت و محبت اور مشترکہ اسلامی اقدار کے فروغ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔ علماء کرام نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں امت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ انتشار اور باہمی الزام تراشی کے بجائے علم، بصیرت، تحمل، حکمت اور اجتماعی وحدت کے ذریعے کیا جائے۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی ایک اہم سماجی و انسانی مسئلے کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ اس کے اسباب، خصوصاً ذہنی دباؤ، تعلیمی و امتحانی پریشر، بے روزگاری، خاندانی مسائل، ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی اور سماجی دباؤ کا جائزہ لیتے ہوئے علماء، والدین، تعلیمی اداروں، صحت کے شعبے، حکومت اور معاشرے کے مشترکہ کردار کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کانفرنس کے دوران سابق صدر انجمنِ امامیہ بلتستان مرحوم حجۃ الاسلام آغا سید عباس رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی، علمی اور ملی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ ایران کے لیے جاری امدادی مہم اور اہلیان بلتستان کی جانب سے جمع ہونے والی امداد کی تفصیلات بھی علماء کے سامنے پیش کی گئیں۔ کانفرنس میں حرم امام حسین علیہ السلام کربلا عراق سے تشریف لانے والے مرکز اصحاب الکساءؑ، التابع للعتبۃ الحسینیۃ المقدسۃ کے مدیر شیخ احمد رشید الطرفی، معاونِ علمی شیخ احمد الفتلاوی اور مرکز کے اردو زبان کے مسؤل شیخ صالح علی نوری کربلائی اور دیگر مہمان علمائے کرام کی شرکت نے اس اجتماع کو مزید اہمیت دی۔ اس موقع پر بلتستان کے علماء اور عراق کے دینی و تبلیغی اداروں کے درمیان روابط، افکار و تجربات کے تبادلے اور دینی خدمات کے فروغ کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ یہ کانفرنس علمی و دینی اجتماع کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے فکری و معاشرتی چیلنجز کا اجتماعی جائزہ لینے، علماء کے درمیان باہمی رابطے کو مضبوط بنانے، اتحاد و اخوت کے فروغ اور قوم و ملت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ایک اہم کوشش کے طور پر سامنے آئی۔ کانفرنس کے مختلف نشستوں میں ہونے والی گفتگو، تجاویز، خطابات اور مشاورت نے بلتستان کے دینی و اجتماعی منظرنامے کے اہم پہلوؤں کو نمایاں کیا، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
آغاز
اجتماع کا آغاز صبح 9 بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت حفاظ القرآن سکردو نے حاصل کی۔ اجتماع میں پورے بلتستان سے علمائے کرام نے بھرپور شرکت کی، جبکہ نظامت کے فرائض رابطہ سیکریٹری مرکزی انجمن امامیہ بلتستان آغا سید قمر عباس حسینی نے انجام دیے۔ اجتماع کے اہم اہداف میں موجودہ دور کے فکری، مذہبی اور معاشرتی مسائل کا جائزہ لینے اور ان کے حل کے لیے مؤثر لائحہ عمل وضع کرنا، علمائے کرام کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا، اتحاد بین المسلمین کا تحفظ و فروغ اور دینی و ملی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے باہمی مشاورت کو فروغ دینا شامل تھا۔ اجتماع میں مرکزی انجمن امامیہ بلتستان کے سابق صدر مرحوم آغا سید محمد عباس رضوی کی دینی، ملی اور اجتماعی خدمات کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کے دینی و ملی مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اجتماع میں بلتستان کے موجودہ حالات، علماء کی ذمہ داریوں، معاشرتی مسائل، اتحاد و وحدت اور دیگر اہم دینی و ملی امور پر تفصیلی گفتگو اور باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ محفل کو نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معطر کرنے کے لیے حافظ مجتبیٰ حسن، قاری حفاظ القرآن سکردو نے بارگاہِ رسالت مآب میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
خطبۂ استقبالیہ
مرکزی انجمن امامیہ بلتستان کے سینئر نائب صدر حجۃ الاسلام شیخ زاہد حسین زاہدی نے علمائے امامیہ بلتستان کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اجتماع کے مقاصد و اہداف سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اجتماع میں پورے بلتستان سے تشریف لانے والے معزز و مجاہد علماء کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ علماء کرام نے اپنی مصروفیات کے باوجود اس اہم اجتماع میں شرکت فرمائی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں علماء کرام کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ باہمی مشاورت، تعاون اور وحدت کے ذریعے دینی، فکری اور معاشرتی مسائل کا جائزہ لیا جائے اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس اجتماع میں علماء کرام کی آراء اور تجاویز سے استفادہ کیا جائے گا اور ان شاء اللہ مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کے ذریعے آئندہ کے لیے ایک مؤثر لائحہ عمل مرتب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
فرقہ وارانہ کشیدگی کے تدارک میں علماء کا کردار
مرکزی انجمن امامیہ گانچھے کے صدر حجۃ الاسلام علامہ شیخ ذوالفقار یعسوبی نے علمائے امامیہ بلتستان کے اجتماع سے ’’فرقہ وارانہ کشیدگی اور اس کے تدارک میں علماء کا کردار‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور مسلمین کو سب سے زیادہ نقصان جس چیز سے پہنچا ہے، وہ اختلاف اور باہمی تفرقہ ہے، جبکہ اتحاد و وحدت میں امتِ مسلمہ کے لیے بے شمار فوائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری عظیم دینی اور الٰہی شخصیات نے ہمیشہ امت کے اتحاد اور وحدت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے امت کو اختلاف و افتراق سے بچانے اور وحدت برقرار رکھنے کے لیے عظیم قربانی دی اور اتحاد کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں بھی امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے انقلاب اسلامی کے ذریعے اسلام کو نئی قوت اور نشأتِ ثانیہ عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اتحادِ امت کی بھرپور دعوت دی اور عملی طور پر وحدت کے لیے اقدامات کیے۔ اسی طرح امام خمینیؒ کے جانشین اور دیگر بزرگ علماء و رہنماؤں نے بھی ہمیشہ اتحاد و وحدت کے لیے دعوت دی اور قربانیاں پیش کی ہیں۔ اہل سنت کے بزرگ علماء اور رہنماؤں نے بھی امت کے اتحاد کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
علامہ ذوالفقار یعسوبی نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعض اسباب اندرونی کمزوریاں ہیں جبکہ بعض کے پیچھے دشمنانِ اسلام کی سازشیں اور ان کے عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ہمیں ان تمام اسباب کو سمجھنے اور ان کے تدارک کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات مذہبی شخصیات کی کم علمی یا اصل اسلامی تعلیمات سے محدود واقفیت بھی اختلافات کا سبب بنتی ہے۔ مذہبی قیادت سے وابستہ ہر فرد، خواہ وہ امام جماعت ہو یا کسی دینی و تنظیمی ادارے کا ذمہ دار، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دینی فرائض، زمانے کے حالات اور اپنی ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہو۔ انہوں نے علماء کی علمی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ علماء کو اپنے علم میں وسعت پیدا کرنی چاہیے اور عصر حاضر کے مسائل اور بدلتے ہوئے حالات سے آگاہ رہنا چاہیے۔ اگر ایک عالم اپنے آپ کو صرف ایک محدود دائرے تک محدود کر لے اور زمانے کے حالات سے بے خبر رہے تو وہ اپنی اجتماعی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات شرعی مسائل میں دلیل موجود ہونے کے باوجود کمزور علمی بنیاد یا محدود فہم کی وجہ سے ایسے فتوے اور آراء سامنے آتی ہیں جو مسلمانوں کے درمیان مزید دوریاں پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں اس رویے سے اجتناب کرنا چاہیے اور ایسے تمام اقدامات سے بچنا چاہیے جو اسلام اور مسلمین کے لیے نقصان کا باعث بنیں۔
انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اپنی شخصیت اور اجتماعی مقام کی اہمیت کو پہچانیں۔ جو عالم کسی مذہبی یا اجتماعی عہدے کو قبول کرتا ہے، اسے اپنی ذمہ داری اور اس عہدے کے تقاضوں کا مکمل ادراک ہونا چاہیے۔ امام جمعہ، امام جماعت، مدرس، خطیب اور دینی و تنظیمی ذمہ دار سب اپنے مقام کے مطابق معاشرے کی رہنمائی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسلمانوں کے درمیان موجود مشترکات کو زیادہ نمایاں کرنا چاہیے۔ قرآن کریم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، توحید، معاد اور بہت سے بنیادی اسلامی عقائد و اقدار ہمارے درمیان مشترک ہیں۔ اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں اور انہیں علمی انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ مشترکات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ علامہ ذوالفقار یعسوبی نے کہا کہ موجودہ دور میں علماء کرام کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر مذہبی قیادت اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر سمجھے، علم و بصیرت سے کام لے، حالاتِ حاضرہ سے آگاہ ہو اور مسلمانوں کے درمیان مشترکات کو بنیاد بنائے تو فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اسلام اور مسلمین کے مفاد کو ذاتی، مسلکی اور محدود گروہی ترجیحات پر مقدم رکھا جائے اور علماء کرام باہمی تعاون کے ذریعے معاشرے میں امن، وحدت اور اخوت کو فروغ دیں۔
حرمِ امام حسین علیہ السّلام سے تشریف لائے ہوئے مہمان
علمائے بلتستان کانفرنس میں حرم امام حسین علیہ السلام کربلا عراق سے تشریف لائے ہوئے مہمان مرکز اصحاب الکساءؑ، التابع للعتبۃ الحسینیۃ المقدسۃ کے مدیر شیخ احمد رشید الطرفی نے علمائے کرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ آلِ محمد علیہم السلام کے افکار و تعلیمات کو پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔
میرے محترم عزیزو! میں اس ملاقات پر بے حد مسرور ہوں۔ میں خود اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے خادموں میں سے ایک خادم ہوں اور ان شاء اللہ ہم اس خدمت کو مزید وسعت دینے کی کوشش کریں گے۔ ہمارا مرکز عتبۂ حسینیہ مقدسہ کے زیرِ انتظام ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں کام کر رہا ہے۔ اس وقت یہ مرکز دنیا کے 22 ممالک میں اپنی دینی و تبلیغی خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ مرکز ہمارا مرکز ہے اور ہم خود اس کے خادم ہیں۔ ہمارا اس ملک میں آنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ آپ علماء کرام سے ملاقات کریں، آپ کی خیریت دریافت کریں اور آپ کی خدمت میں سلام پیش کریں۔ میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ سب کو توفیق، کامیابی اور اپنی خصوصی عطاؤں سے نوازے، اور آپ کی کاوشوں کو دنیا و آخرت کی بھلائی کا ذریعہ قرار دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو امام قائم آلِ محمد عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عالمی حکومت کے حقیقی تمہید کنندگان میں شامل فرمائے، ان کے انصار و اعوان میں قرار دے اور ان خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے جو ان کے سامنے شہادت کا شرف حاصل کریں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس ملک کو خیر و برکت، امن و امان اور سلامتی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو خیر میں رکھے، خیر عطا فرمائے اور خیر کی طرف رہنمائی فرمائے۔ اور اللہ ہمیں نیک لوگوں، صالحین اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی پیروکاروں کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
گلگت بلتستان میں خودکشی کا رجحان اور اس کا حل
معروف عالمِ دین اور متعدد کتب کے مترجم حجۃ الاسلام علامہ شیخ محمد علی توحیدی نے ’’گلگت بلتستان میں خودکشی کا رجحان اور اس کا حل‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان قدرتی حسن، اسلامی و مذہبی روایات، ثقافتی اقدار، باہمی تعاون، سیاحت اور اجتماعی امن کے حوالے سے دنیا کا ایک منفرد خطہ ہے، تاہم خودکشی کے واقعات، بالخصوص نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان، ایک سنجیدہ اور حساس سماجی، اخلاقی، قانونی اور صحتِ عامہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے مختلف مطالعات اور حکومتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2012ء سے مارچ 2022ء تک گلگت بلتستان کے تین اضلاع کے پولیس ریکارڈ پر ہونے والی دس سالہ تحقیق میں 340 خودکشی کے واقعات درج ہوئے، جن میں 53 فیصد خواتین، 40 فیصد افراد 20 سال سے کم عمر اور 59 فیصد غیر شادی شدہ تھے، جبکہ 73 فیصد کیسز میں ذہنی بیماری یا شدید ذہنی دباؤ کا ذکر موجود تھا۔ ان کے مطابق ایک وسیع تر حکومتی رپورٹ میں 2005ء سے جون 2022ء تک 17 برس کے دوران گلگت بلتستان میں 573 خودکشی کی اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ 2022ء کے ابتدائی سات ماہ میں 65 کیسز رپورٹ ہوئے۔
علامہ توحیدی نے کہا کہ خاندان اور گھرانے کے افراد بعض اوقات ذہنی مسائل، خودکشی کے واقعات یا ان کے اسباب کو چھپاتے ہیں، جس کے باعث اصل صورتِ حال کا مکمل اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے ڈپریشن اور شدید ذہنی دباؤ، تعلیمی و امتحانی پریشر، بے روزگاری، مستقبل سے مایوسی، گھریلو تنازعات، والدین اور بچوں کے درمیان رابطے و رہنمائی کی کمی، خواتین پر سماجی و گھریلو دباؤ اور ذہنی بیماری کو تسلیم نہ کرنے کو خودکشی کے اہم عوامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ذہنی بیماری کو طبی مسئلے کے بجائے روحانی یا جنّاتی مسئلہ سمجھ کر علاج میں تاخیر کی جاتی ہے، جبکہ ماہرینِ نفسیات، ذہنی صحت کی سہولیات، ہسپتالوں اور کیئر سنٹرز کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق سماجی بدنامی کا خوف، سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ، خصوصاً جنسی بلیک میلنگ، معاشی مشکلات، مالی اسکینڈلز، سودی کاروبار اور ناکام اقتصادی منصوبے بھی بعض افراد کو شدید ذہنی دباؤ سے دوچار کرسکتے ہیں۔ علامہ توحیدی نے آئینی و انسانی حقوق سے محرومی کو بھی بعض حالات میں احساسِ محرومی، بے توقیری اور ناامیدی کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ باعزت اور باوقار زندگی کے لیے بنیادی حقوق کی فراہمی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسباب کا جائزہ لیا جائے تو اللہ پر ایمان، معرفت اور دینی اقدار سے دوری بھی انسانی زندگی کے مقصد اور مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔ انہوں نے شادی کو دین کی حفاظت کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار میں غیر شادی شدہ افراد کا تناسب نمایاں نظر آتا ہے۔
علامہ محمد علی توحیدی نے خودکشی کی روک تھام کے لیے دس نکاتی منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا حل کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں، بلکہ خاندان، اسکول، مدرسہ، مسجد، امام بارگاہ، صحت کے اداروں، میڈیا، حکومت اور معاشرے کے مشترکہ تعاون سے ممکن ہے۔
1۔ ہر ضلع میں ذہنی صحت کے مراکز کا قیام:
ہر ضلع میں سرکاری و نجی سطح پر ذہنی صحت کے مراکز قائم کیے جائیں۔ سکردو میں مانسہرہ مینٹل ہسپتال کی طرز پر ایک بڑے ذہنی صحت کے مرکز کے قیام کی ضرورت ہے، جہاں ماہرینِ نفسیات، کلینیکل سائیکالوجسٹس، کونسلرز، ضروری ادویات، نگہداشت اور رازداری کے ساتھ علاج کی سہولت موجود ہو۔
2۔ تعلیمی اداروں میں کونسلنگ کا نظام:
اسکولوں اور کالجوں میں ماہرینِ نفسیات اور کونسلنگ کا مستقل نظام قائم کیا جائے۔ امتحانات میں ناکامی کو زندگی اور موت کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ مسلسل اداسی، تنہائی، پڑھائی میں غیر معمولی کمی، نیند یا خوراک میں بڑی تبدیلی، ناامیدی کے جملے یا موت و خود کو نقصان پہنچانے کی باتوں کو خطرے کی علامات سمجھتے ہوئے فوری ماہرِ نفسیات سے رجوع کیا جائے۔
3۔ والدین کی تربیت:
والدین کے لیے ضلع اور تحصیل کی سطح پر تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ انہیں بچوں کو سننے، سمجھنے اور مناسب رہنمائی دینے کی تربیت دی جاسکے۔ ہر غلطی پر ڈانٹ، دوسروں سے موازنہ اور تضحیک حساس بچوں کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
4۔ علماء، ائمہ اور دینی شخصیات کا کردار:
مساجد، امام بارگاہوں، مدارس اور مکاتب کے ذریعے یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ ڈپریشن یا ذہنی بیماری ایمان کی کمزوری نہیں۔ ذہنی مریضوں کو دعاؤں کے ساتھ طبی و نفسیاتی علاج کی طرف بھی رہنمائی کی جائے اور مذہبی شخصیات خطرے کی علامات پہچان کر مریض کو ماہرینِ نفسیات اور ڈاکٹروں تک پہنچانے میں کردار ادا کریں۔
5۔ نوجوانوں کے لیے روزگار اور ہنر:
بے روزگاری اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کم کرنے کے لیے نوجوانوں کو ٹیکنیکل ٹریننگ، فری لانسنگ، سیاحت، زراعت، لائیو اسٹاک اور دیگر ہنر سے جوڑا جائے، جبکہ چھوٹے کاروبار کے لیے قرض یا گرانٹ اور مقامی صنعتوں کے فروغ کے اقدامات کیے جائیں۔
6۔ 24 گھنٹے مفت ذہنی صحت ہیلپ لائن:
ایک مفت اور رازداری پر مبنی 24 گھنٹے ذہنی صحت ہیلپ لائن قائم کی جائے، جو صرف مشورہ دینے تک محدود نہ ہو بلکہ خطرے کا اندازہ، ماہرین سے رابطہ اور ضرورت پڑنے پر ہسپتال تک رسائی میں بھی مدد فراہم کرے۔
7۔ میڈیا کے لیے ضابطۂ اخلاق:
میڈیا کو خودکشی کے طریقوں، مقامات اور سنسنی خیز تفصیلات نشر کرنے سے گریز کرتے ہوئے متاثرہ افراد اور خاندانوں کے لیے مدد اور علاج کے ذرائع کی معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔
8۔ ہر ضلع میں خودکشی کی روک تھام کی کمیٹی:
ڈاکٹروں، ماہرینِ نفسیات، ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ تعلیم، علماء، خواتین اور نوجوانوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹیاں قائم کی جائیں تاکہ ہر واقعے کے بعد صرف ذمہ دار تلاش کرنے کے بجائے حفاظتی نظام کی خامیوں کا جائزہ لیا جائے اور مستقبل میں ان کی اصلاح کی جائے۔
9۔ خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے لیے خصوصی نظام:
خواتین کے لیے خفیہ کونسلنگ، خواتین ماہرینِ نفسیات، محفوظ شکایتی نظام، گھریلو تشدد سے متعلق مدد، تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
10۔ عمومی آگاہی مہم:
خودکشی کے خیالات یا منصوبہ بندی کی صورت میں متاثرہ شخص کو اکیلا نہ چھوڑا جائے، خطرناک اشیا اور ادویات تک اس کی رسائی کم کی جائے اور فوری طور پر قریبی ہسپتال یا ایمرجنسی سروس سے رابطہ کیا جائے۔ ایسی صورت میں صرف نصیحت یا دعا پر اکتفا کرنے کے بجائے فوری طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔
علامہ محمد علی توحیدی نے کہا کہ عوامی بے چینی اور احساسِ محرومی کے خاتمے کے لیے آئینی و انسانی حقوق کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ، آخرت، جزا و سزا اور دینی اقدار پر ایمان کو مضبوط بنایا جائے تاکہ انسان خودکشی کو مشکلات سے نجات کا آخری راستہ نہ سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ خوشحال گلگت بلتستان کا خواب پورا کرنے کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات کی فراہمی اور خودکشی کے اسباب کی روک تھام ناگزیر ہے، اور یہ مشن حکومت، اربابِ حل و عقد، علماء، دانشوروں، ماہرین، مخیر حضرات، این جی اوز، میڈیا اور تمام دردِ دل رکھنے والے افراد کی مشترکہ کوششوں سے ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔
بلتستان کے مسائل اور ان کا حل
انجمن امامیہ روندو کے صدر حجۃ الاسلام شیخ تقی جعفری نے علمائے امامیہ بلتستان کے عظیم اجتماع سے ’’بلتستان کے مسائل اور ان کا حل کیا ہے‘‘ کے عنوان سے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کے مفہوم کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ رسول خدا نے بعض ایسے اوصاف اور اصول بیان فرمائے ہیں جن کی موجودگی میں ایک معاشرہ حقیقی معنوں میں زندہ رہنے کا مستحق ہوتا ہے جبکہ ان اصولوں سے محرومی معاشرے کی اخلاقی و اجتماعی موت کی علامت بن جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاشرے میں اس کی قیادت اور ذمہ دار عہدوں کے لیے دیانت دار، امانت دار، عادل اور صادق افراد کا انتخاب کیا جائے اور بہترین لوگوں کو ذمہ داریاں سونپی جائیں تو ایسا معاشرہ زندہ باد اور ترقی کا مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اسلامی معاشرے کی بنیادی خصوصیات میں دیانت، امانت، عدالت اور صداقت شامل ہیں۔ اگر یہ اوصاف قیادت اور اجتماعی نظام میں موجود ہوں تو قوم مضبوط ہوتی ہے، لیکن اگر ذمہ دار افراد ان بنیادی اصولوں سے محروم ہوں تو معاشرے کے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
حجۃ الاسلام شیخ تقی جعفری نے معاشرے کے صاحبِ ثروت افراد اور اہلِ استطاعت کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اگر مالدار اور صاحبِ حیثیت افراد ضرورت کے وقت دین، معاشرے اور مستحق لوگوں کے لیے اپنا مال خرچ کریں، علماء، سادات، فقراء اور مساکین کی مدد کریں اور اجتماعی ضرورت کے مواقع پر ایثار و قربانی کا مظاہرہ کریں تو یہ ایک زندہ اور ذمہ دار معاشرے کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجتماعی معاملات میں مشاورت اور باہمی احترام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ قوم کے اہم فیصلے باہمی مشاورت سے، ایک دوسرے کی رائے سن کر اور احترام کے ساتھ ہونے چاہئیں۔ اگر اجتماعی فیصلے مشاورت کے بجائے ذاتی مفادات یا غیر متعلقہ دباؤ کے تحت کیے جائیں تو اس سے معاشرہ کمزور ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا مفہوم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایک زندہ قوم وہ ہے جس میں صالح قیادت، دیانت دار افراد، ایثار کرنے والے صاحبِ ثروت طبقات اور باہمی مشاورت کا نظام موجود ہو۔
حجۃ الاسلام شیخ تقی جعفری نے کہا کہ اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان اور بالخصوص بلتستان کے بنیادی مسائل کیا ہیں اور ان کے حل میں رکاوٹ کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے کئی بنیادی مسائل برسوں سے موجود ہیں، جن میں پانی اور بجلی کا بحران نمایاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سردیوں کے موسم میں بلتستان کے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت کیوں پیدا ہوتی ہے؟ بجلی کا مسئلہ مستقل طور پر حل کیوں نہیں ہو رہا؟ یہ ایسے بنیادی سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام، سیاسی و سماجی قیادت اور معاشرے کے تمام ذمہ دار طبقات کو ان مسائل کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینا ہوگا۔ صرف مسائل کا تذکرہ کافی نہیں، بلکہ ان کے حل کے لیے اجتماعی مشاورت، دیانت دار قیادت، درست ترجیحات اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کو بھی چاہیے کہ وہ معاشرے کے حقیقی مسائل سے آگاہ رہیں اور عوام کے بنیادی حقوق، پانی، بجلی، تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر ضروریات کے حوالے سے اپنی اجتماعی ذمہ داری ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ علماء کا کردار صرف مذہبی مسائل کے بیان تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح، رہنمائی، حقوق کے تحفظ اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھانا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
حجۃ الاسلام شیخ تقی جعفری نے بلتستان کے مسائل پر گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے ایسے بہت سے مسائل موجود ہیں جنہیں حل کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، لیکن افسوس کہ بعض بنیادی شعبوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے تعلیمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک علاقے کے سرکاری تعلیمی ادارے میں تقریباً 300 طالبات زیرِ تعلیم ہیں، لیکن انہیں پڑھانے کے لیے حکومت کی طرف سے صرف تین اساتذہ فراہم کیے گئے ہیں۔ غریب اور مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین اپنی محدود آمدنی میں سے بچیوں کی تعلیم کے لیے فیس ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ادارے میں طالبات کی اتنی بڑی تعداد ہو اور سرکاری سطح پر مطلوبہ اساتذہ اور وسائل فراہم نہ کیے جائیں تو یہ تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اہلِ علاقہ اپنی مدد آپ کے تحت اضافی اساتذہ کا انتظام کرتے ہیں اور اپنی محدود آمدنی سے ان کی فیس ادا کرتے ہیں، لیکن یہ مستقل حل نہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کی تعداد کے مطابق اساتذہ، عمارت اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرے۔
حجۃ الاسلام شیخ تقی جعفری نے صحت کے شعبے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں ہزاروں کی آبادی کے لیے ایک ہی ہسپتال موجود ہے، لیکن وہاں بنیادی طبی سہولیات بھی میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض مراکزِ صحت میں نہ مناسب طبی آلات ہیں، نہ ضروری تشخیصی سہولیات، نہ مطلوبہ ڈاکٹرز اور نہ ہی بچوں اور خواتین کے لیے مناسب طبی خدمات۔ خواتین اور بچوں کو بھی کئی مرتبہ بنیادی علاج کے لیے نامناسب حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار عالم دین کی حیثیت سے وہ ایسے واقعات سے آگاہ ہیں جہاں غریب مریض کو ضروری دوا یا انجیکشن بروقت دستیاب نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دور دراز علاقوں کے ہسپتالوں میں ضروری ادویات، طبی آلات، ماہر ڈاکٹرز اور ایمرجنسی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے محکمہ خوراک کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کو فراہم کی جانے والی گندم کے معیار اور تقسیم کے نظام پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی ضرورت کی معیاری خوراک فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی برداشت نہیں ہونی چاہیے۔
اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں کمی
حجۃ الاسلام شیخ تقی جعفری نے کہا کہ بعض علاقوں میں ہزاروں کی آبادی کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے مناسب ادارے موجود نہیں۔ بعض علاقوں میں ایک بھی کالج نہ ہونا نوجوانوں کے مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مستقبل کے مناسب مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو ان میں مایوسی اور ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہی مسائل بعض اوقات نوجوانوں کو انتہائی قدم اٹھانے تک لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم نوجوانوں کا بنیادی حق ہے اور حکومت کو دور دراز علاقوں میں کالجز، اسکولز اور دیگر تعلیمی اداروں کے قیام پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
میرٹ اور سفارش کا مسئلہ
انہوں نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ میرٹ کی پامالی اور سفارش کلچر بھی ہے۔ جو نوجوان اپنی قابلیت اور محنت کے بل پر آگے بڑھنے کے مستحق ہیں، اگر انہیں سیاسی یا ذاتی سفارش کی بنیاد پر نظر انداز کیا جائے تو یہ نہ صرف ان نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے ساتھ بھی ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ سرکاری ملازمتوں، تعلیمی مواقع اور دیگر شعبوں میں میرٹ، اہلیت اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
حجۃ الاسلام شیخ تقی جعفری نے کہا کہ بلتستان کے ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے علماء، عوام، سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوامی مسائل کو اعلیٰ حکومتی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا جائے اور متعلقہ وزراء و حکام سے ملاقاتوں کے ذریعے ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی، بجلی، تعلیم، صحت، خوراک، روزگار اور میرٹ جیسے مسائل کسی ایک فرد یا جماعت کے مسائل نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مشترکہ مسائل ہیں، جن کے حل کے لیے اجتماعی آواز اور مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔
اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے
صدر انجمن امامیہ شگر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید عباس الموسوی نے علمائے امامیہ بلتستان کے عظیم اجتماع سے ’’اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وحدت مختلف عناصر کے باہمی امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ اگر ان عناصر میں سے کوئی ایک عنصر وحدت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو جائے تو اس کا براہِ راست اثر اتحاد پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمِ تکوین میں بھی ایک وحدت اور نظم موجود ہے۔ کائنات کا پورا نظام باہمی ربط، توازن اور نظم کے ساتھ قائم ہے، اس لیے انسانوں اور معاشروں کو بھی عالمِ تکوین کے اس نظم سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔ آغا سید عباس الموسوی نے قرآن کریم کی تعلیمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور وحدت کی واضح ہدایت دی ہے:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾
’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
(سورۂ آلِ عمران، 3:103)
انہوں نے کہا کہ انسانی فطرت میں اختلاف کا عنصر موجود ہے۔ ہر انسان کی سوچ، مزاج، صلاحیت اور نقطۂ نظر دوسرے سے مختلف ہو سکتا ہے، لیکن اگر ان اختلافات کو امتیازات اور باہمی دشمنی میں تبدیل کر دیا جائے تو معاشرے میں تفرقہ پیدا ہوتا ہے اور انسانی وحدت متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری حقیقت ہے، لیکن اختلاف کو نفرت، دشمنی اور تقسیم کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ہمیں اختلافات کو برداشت، گفتگو اور باہمی احترام کے ذریعے مثبت امتیازات میں تبدیل کرنا چاہیے۔ آغا سید عباس الموسوی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے قرآنی تصور ’’بشیر و نذیر‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ نذیر کا لفظ اپنے اندر خبردار کرنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ قدیم جنگی ماحول میں ایک شخص بلند مقام پر کھڑا ہو کر اپنی فوج کو دشمن کی نقل و حرکت اور ممکنہ خطرات سے آگاہ کرتا تھا۔ اسی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے نذیر کا کام یہ ہے کہ وہ امت کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سازشوں اور خطرات سے آگاہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کو درپیش حقیقی خطرات سے آگاہ کریں، دشمن کی سازشوں کو سمجھیں اور عوام کو بروقت متنبہ کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بشارت اور امید کا پیغام بھی عام کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بشیر وہ ہے جو انسان کو مایوسی سے نکال کر امید کی طرف لے جائے، تفرقہ و اختلاف کے بجائے وحدت اور اخوت کی طرف دعوت دے اور معاشرے کو ناامیدی کے اندھیروں سے نکال کر خیر و اصلاح کی روشنی دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ آج علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کو خطرات سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے درمیان امید، اخوت، وحدت اور باہمی احترام کو فروغ دیں، کیونکہ یہی اتحاد بین المسلمین کی حقیقی بنیاد ہے۔
آغا سید عباس الموسوی نے کہا کہ وحدت کا اصل پیغام محبت و الفت ہے۔ اتحاد بین المؤمنین و المسلمین کے لیے اولین اور بنیادی شرط یہی ہے کہ دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت، اخوت اور خیرخواہی موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ محض اختلافات کو برداشت کر لینا وحدت نہیں، بلکہ حقیقی وحدت یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھیں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور مشترکہ اسلامی اقدار کی بنیاد پر باہمی محبت و تعاون کو فروغ دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر دلوں میں محبت و الفت پیدا ہو جائے تو اختلافات تفرقے کا سبب نہیں بنتے، بلکہ باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے امت کی فکری و اجتماعی قوت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
مرحوم آغا سید عباس رضوی کی دینی و ملی خدمات کو خراجِ تحسین
اجتماع میں مرحوم حجۃ الاسلام آغا سید عباس رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی، ملی اور قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے صدر انجمن امامیہ کھرمنگ حجۃ الاسلام آغا سید علی موسوی کو اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی۔ حجۃ الاسلام آغا سید علی موسوی نے اپنے خطاب میں مرحوم آغا سید عباس رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و دینی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نجف اشرف میں بلتستانی طلبہ کے لیے دینی تعلیم کے میدان میں مرحوم آغا سید عباس رضوی نمایاں کردار ادا کرتے تھے اور طلبہ کی محافل میں ان کی موجودگی خاص رونق کا باعث ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نجف اشرف میں بلتستانی علماء و طلبہ کے درمیان مرحوم آغا سید عباس رضوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ساتھ شیخ محسن نجفی، مرحوم شیخ غلام محمد اور علامہ شیخ حسن جعفری بھی علمی و دینی سرگرمیوں میں نمایاں تھے۔ ہم سمیت ان تمام علماء نے نجف اشرف میں غربت اور محدود وسائل کے باوجود دینی تعلیم حاصل کی، تاہم اس تعلیم میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت عطا فرمائی۔ حجۃ الاسلام آغا سید علی موسوی نے کہا کہ مرحوم آغا سید عباس رضوی نے بعد ازاں انجمن امامیہ بلتستان کی صدارت کی ذمہ داری سنبھال کر قوم و ملت کی خدمت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی دینی بصیرت، اخلاص اور ملی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھا جائے گا۔ حجۃ الاسلام آغا سید علی موسوی نے اپنے خطاب میں مرحوم آغا سید عباس رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معصومین علیہم السلام کی تعلیمات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر کسی انسان کے دنیا سے رخصت ہونے پر لوگ اس کی تعریف کریں، اس کے فراق پر افسوس کا اظہار کریں اور خصوصاً اس کی زندگی میں بھی لوگ اس کی خوبیوں کا اعتراف کرتے رہے ہوں، حتیٰ کہ اس کے مخالفین بھی اس کی قدر و منزلت کا اعتراف کریں، تو یہ اس کے کردار اور انسانیت کی بلندی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم آغا سید عباس رضوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی زندگی میں بھی لوگوں کے لیے قابلِ قدر اور محترم شخصیت تھے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے پیش پیش رہتے اور قوم و ملت کی خدمت کو اپنا دینی و ملی فریضہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی میں بھی لوگ ان کی خدمات اور کردار کو سراہتے رہے اور ان کی وفات کے بعد بھی مختلف طبقات کی جانب سے ان کے لیے تعریفی کلمات اور خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ حجۃ الاسلام آغا سید علی موسوی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم آغا سید عباس رضوی رحمۃ اللہ علیہ سمیت ان تمام علماء اور بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے اور قوم و ملت کی مخلصانہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے اجتماع میں شریک علماء و مومنین سے علامہ شیخ محمد حسن جعفری، صدر انجمن امامیہ بلتستان حجۃ الاسلام آغا سید باقر الحسینی، آغا سید علی رضوی اور دیگر بیمار علماء و بزرگوں کے لیے بھی دعا کی درخواست کرتے ہوئے ان سب کے لیے صحت، سلامتی اور عافیت کی دعا کی۔
آغا سید باقر الحسینی کا خطاب
صدر انجمنِ امامیہ بلتستان حجۃ الاسلام آغا سید باقر الحسینی نے اجتماع میں شریک تمام علماء کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے پروگرام میں تفصیلی گفتگو کے لیے کئی موضوعات زیرِ بحث لانے کا ارادہ تھا، تاہم وقت کی کمی کے باعث ان تفصیلات کو مختصر کرتے ہوئے چند اہم امور کی طرف اشارہ کروں گا۔ انہوں نے تمام علماء کرام کو امامیہ مرکز بلتستان میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر انجمنِ امامیہ بلتستان کی دعوت پر اس اہم اجتماع میں شرکت کی، جس پر میں تہہ دل سے آپ سب کا شکر گزار ہوں۔
آغا سید باقر الحسینی نے کہا کہ انجمنِ امامیہ بلتستان کی اپیل پر پوری بلتستان میں ایران کے لیے امدادی مہم شروع کی گئی، جس میں پوری قوم نے بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 42 کروڑ 63 لاکھ 65 ہزار روپے کی رقم منتقل کی جا چکی ہے، جبکہ مزید امداد بھی جمع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس امداد میں نقد رقوم کے علاوہ سونا، چاندی، مویشی اور دیگر اشیاء بھی شامل تھیں، جنہیں جمع کرکے مقررہ مقصد کے لیے منتقل کیا گیا۔ صدر انجمنِ امامیہ بلتستان نے وضاحت کی کہ امدادی رقوم کو کسی فرد، دفتر یا غیر متعلقہ ذریعے کے حوالے کرنے کے بجائے براہِ راست حکومتِ ایران اور اس کی نگرانی میں سفارتِ ایران اسلام آباد کے ذریعے پہنچایا گیا ہے، تاکہ امدادی رقم شفاف اور محفوظ طریقے سے مستحقین تک پہنچ سکے۔
انہوں نے بتایا کہ امدادی رقم کا ایک حصہ ایران میں امام علی ہسپتال کے ایک بلاک کے لیے مختص کیا گیا ہے، جہاں اربعین کے دوران بالخصوص پاکستانی اور بلتستانی زائرین بھی استفادہ کرتے ہیں۔ اور وہاں بلتستان کے حوالے سے ایک یادگاری/تعارفی بورڈ بھی نصب کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سفارتِ ایران کی جانب سے باقاعدہ رسید فراہم کی جائے گی، جسے سفیر کی موجودگی اور متعلقہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد وصول کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انجمنِ امامیہ کے ذریعے قوم کی طرف سے دی گئی امانت میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی اور تمام رقوم و عطیات کو مکمل طور پر اپنے مقررہ مقصد تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کسی ممکنہ احتجاجی صورتحال کے حوالے سے علماء کرام کو پیشگی آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ذہنی طور پر تیار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں قوم کو کسی اجتماعی آواز کی ضرورت پیش آئی تو جس طرح ماضی میں علماء کرام متحد ہو کر میدان میں آئے ہیں، اسی طرح آئندہ بھی قوم و ملت کے مفاد میں متحد ہوکر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔
آغا سید باقر الحسینی نے کہا کہ وقت کی کمی کے باعث دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو نہیں کی جا سکتی، تاہم ضرورت کے مطابق ان موضوعات پر آئندہ بھی علماء کرام کو آگاہ کیا جائے گا۔
آغا سید باقر الحسینی نے اپنے خطاب کے اختتام پر تمام علماء کرام کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات نے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر یہاں تشریف لا کر اس اجتماع کو رونق بخشی، اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
انہوں نے علماء کرام سے گزارش کی کہ اجتماع میں اپنی حاضری کا باقاعدہ اندراج ضرور کرائیں اور اس کے ساتھ اپنے متعلقہ علاقے، مدرسے یا مسجد کا نام بھی درج کریں، خصوصاً جو حضرات امام جمعہ یا امام جماعت کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں، وہ اپنی ذمہ داری اور علاقے کی وضاحت ضرور کریں۔ اس کا مقصد آئندہ ضرورت کے وقت تمام علماء کرام سے مؤثر اور بروقت رابطہ قائم کرنا ہے۔
صدر انجمنِ امامیہ بلتستان نے کہا کہ علماء کرام کی یہ شرکت انجمن کے لیے باعثِ تقویت ہے اور مستقبل میں بھی باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
آخر میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر تمام علماء کرام کا شکریہ ادا کیا اور اجتماع میں پیش کی جانے والی قرارداد کی منظوری و پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خطاب کا اختتام کیا۔
علمائے بلتستان کنونشن کی قرارداد
صدر انجمن امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سکردو شہر سمیت بلتستان ڈویژن کے تمام چھوٹے بڑے علاقوں میں خدمات انجام دینے والے جید علماء کرام، ائمہ جمعہ و جماعت اور اکابرین کا ایک روزہ کنونشن مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو، بلتستان میں منعقد ہوا۔ داعیِ امن و اتحاد اور امام جمعہ و الجماعت علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی زیرِ صدارت منعقدہ اس کنونشن میں عصرِ حاضر میں ملک و ملت کو درپیش مسائل و مشکلات کے مختلف پہلو زیرِ غور آئے اور ان کے حل کے لیے اربابِ اختیار و اقتدار کی فوری توجہ کے لیے ذیل کی قرارداد کی منظوری دی جاتی ہے:
1۔ علماء نے خطے میں موجود امن و اتحاد کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس ضمن میں حکومتی اقدامات سے بڑھ کر علماء کے ہمیشہ سے جاری تعمیری اور مثبت کردار کو جاری و ساری رکھنے کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ یہ اجتماع اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ امتِ مسلمہ کی قوت باہمی احترام، قوتِ رواداری اور مشترکات کی بنیاد پر باہمی تعاون میں مضمر ہے۔ مذہبی اختلافات کو باہمی دشمنی، نفرت یا تشدد کا ذریعہ بنانا کسی طور مناسب نہیں۔ البتہ بعض عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے لیے تسلسل کے ساتھ نفرت انگیز گفتگو اور سوشل میڈیا کا استعمال باعثِ تشویش ہے۔ حکومت ایسے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹتے ہوئے خطے میں موجود امن و ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے میں مثبت کردار ادا کرے۔
2۔ بلتستان میں ایک عرصے سے ایک منظم سازش کے تحت علمائے امامیہ کے خلاف بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقدام کسی بھی صورت انفرادی کاوش نہیں، بلکہ ان کے پیچھے ان کو چلانے والے عناصر موجود ہیں۔ یہ اجتماع حکومت سے دوٹوک مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے عناصر کا پتہ لگا کر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
3۔ یہ اجتماع معاشرے میں منشیات کی خرید و فروخت، بالخصوص نوجوانوں میں اس کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان اور جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں نوجوانوں کی بے راہ روی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اس ضمن میں حکومتی اداروں کی ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور حکومتی اداروں کو مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ نیز علماء سے بھی گزارش کی جاتی ہے کہ وہ متعلقہ علاقوں میں اصلاحِ معاشرہ اور نوجوانوں کی کردار سازی پر توجہ مرکوز رکھیں۔
4۔ یہ اجتماع بلتستان میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ بیشتر واقعات میں پسِ پردہ عوامل معاشی اور سماجی نوعیت کے ہیں۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ماہرین کی ٹیم تشکیل دے کر بڑھتے ہوئے خودکشی کے عوامل کی تحقیقات کی جائے اور ان کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔
5۔ یہ اجتماع ملکی سطح پر اور گلگت بلتستان میں امن، استحکام، باہمی اعتماد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وفاقی سطح پر امن کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کرتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ کمیٹی مقامی علماء، عمائدین، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور انتظامیہ کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اپنے فرائض انجام دے گی۔
6۔ یہ اجتماع سکردو شہر کے گھمبیر مسائل میں گھرے ہونے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ سکردو اس وقت جب سیاحوں سے بھرا پڑا ہے، بجلی کی بدترین بحرانی کیفیت سے دوچار ہے، جو متعلقہ محکمے کے حکام کی جانب سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقبل کے لیے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ رہی سہی کسر موجودہ حکام کی جانب سے دستیاب بجلی کی غیر منصفانہ تقسیم اور وی آئی پی اور اسپیشل لائنوں کا کلچر پوری کر رہا ہے۔ نتیجتاً سکردو کے شہری 20 گھنٹے بغیر بجلی کے گزارنے پر مجبور ہیں۔ معاملے کی تحقیقات کرائی جائے اور دستیاب بجلی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنایا جائے۔ بجلی کے جاری منصوبوں پر کام تیز کیا جائے اور وزیراعظم کے اعلان کردہ شمسی توانائی منصوبے کو سردیوں سے پہلے مکمل کیا جائے۔
7۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) اب مکمل طور پر ناکام ادارہ ثابت ہو چکا ہے۔ فون اور انٹرنیٹ کی ناقص سروس تو شروع دن سے تھی، اب پچھلے ایک ہفتے سے اس ادارے کی تمام سروسز مکمل طور پر بند ہیں۔ صارفین سے تمام پیکجز کی ادائیگیاں ایڈوانس میں وصول کی جاتی ہیں اور عوام فون اور انٹرنیٹ کی سہولت سے یکسر محروم ہیں۔ اس طرح یہ ادارہ ہر ماہ ناجائز طور پر خطیر رقوم غریب عوام سے وصول کر رہا ہے۔ اس خراب سروس سے طلبہ و طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کے ساتھ کاروباری طبقہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ لہٰذا نیب سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس مالی بدعنوانیوں کی تحقیقات کرائی جائیں اور مسلسل خراب سروس کا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نوٹس لے۔
8۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات کالجز میں گنجائش نہ ہونے کے باعث داخلوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا علماء کا یہ عظیم اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ سکردو میں کالجز کی کمی کو فوری طور پر دور کیا جائے۔
9۔ بلتستان پہاڑی سلسلوں میں گھرا علاقہ ہونے کے ناطے یہاں کی سڑکیں سیلاب اور پہاڑوں سے تودے گرنے کی وجہ سے اکثر و بیشتر ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند ہوتی رہتی ہیں۔ ایسے میں سب سے پہلے یہاں پٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہوتی ہے، جس سے معمول کی زندگی ہی رک جاتی ہے۔ سکردو میں تیل کے بلک ڈپو کے قیام کا مطالبہ عرصۂ دراز سے حکومت کے سامنے رکھا جا رہا ہے۔ بلک ڈپو اب منظور ہو کر زمین بھی مختص ہو چکی تھی، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ لہٰذا یہ اجتماع ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہے کہ سکردو میں پٹرولیم مصنوعات کے بلک ڈپو کے قیام پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
10۔ خطے میں روز بروز بڑھتے ہوئے کینسر و دیگر مہلک امراض پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ شہر میں فروخت ہونے والی ہر قسم کی غیر معیاری اشیاء پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نوجوان نسل کی فکری و دینی تربیت
کانفرنس کے صدارتی خطاب میں داعی وحدت، وکیل مراجع عظام، امام جمعہ و الجماعت مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو حجۃ الاسلام علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہا کہ عصرِ حاضر میں علماء کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ موجودہ دور میں نوجوان نسل کو مختلف فکری، نظریاتی اور ثقافتی چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے علماء کرام کو وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے نوجوانوں کی مؤثر دینی و فکری تربیت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو الحاد، لادینیت اور دین سے دوری کے رجحانات سے محفوظ رکھنے کے لیے صرف جذباتی گفتگو کافی نہیں، بلکہ علماء کے پاس قرآن و سنت، عقل و منطق اور عصرِ حاضر کے فکری سوالات کے حوالے سے مضبوط اور مدلل دلائل ہونے چاہئیں۔ نوجوان نسل کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے تسلی بخش اور علمی جوابات فراہم کرنا علماء کی اہم ذمہ داری ہے۔ علامہ محمد حسن جعفری نے کہا کہ آج کا نوجوان مختلف ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور عالمی فکری رجحانات سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔ اگر ہم اس کے سوالات کا جواب نہیں دیں گے تو وہ اپنے جوابات کہیں اور تلاش کرے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ علماء نوجوانوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کریں، ان کی ذہنی کیفیت اور فکری ضرورتوں کو سمجھیں اور انہیں دینِ مبین اسلام کی جامع، عقلی اور منطقی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اسلام صرف احکام و مسائل کے مجموعے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر سمجھانے کی ضرورت ہے۔ توحید، نبوت، امامت، معاد، اخلاق، عدل، انسانی حقوق اور معاشرتی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں مضبوط فکری بنیاد فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے دین پر شعوری اور مضبوط یقین کے ساتھ قائم رہ سکیں۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی تربیت میں سوال کرنے، غور و فکر کرنے اور دلیل کے ساتھ بات سمجھنے کے رجحان کو فروغ دیں، تاکہ نئی نسل کسی بھی فکری شبہے یا گمراہ کن پروپیگنڈے سے مرعوب نہ ہو۔
علامہ محمد حسن جعفری نے کہا کہ ہماری دینی تربیت کا مقصد صرف عبادات کی ادائیگی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا باکردار، باشعور اور ذمہ دار انسان تیار کرنا بھی ہے جو اپنے دین، معاشرے اور وطن کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہو۔ نوجوان اگر اسلامی تعلیمات، اخلاقی اقدار اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ پروان چڑھیں تو وہ معاشرے کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قوت بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء، والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار طبقات کو مل کر نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے مؤثر لائحۂ عمل تشکیل دینا ہوگا، کیونکہ نئی نسل کی درست فکری تربیت ہی ایک مضبوط، باکردار اور دینی شعور رکھنے والے معاشرے کی بنیاد ہے۔
اختتامیہ
علمائے بلتستان کانفرنس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ عصرِ حاضر کے دینی، فکری اور سماجی چیلنجز کا مقابلہ باہمی اتحاد، مشاورت اور بصیرت کے ساتھ کیا جائے گا۔ علماء کرام نے اتحاد بین المسلمین کے فروغ، نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت، معاشرتی مسائل کے حل اور قوم و ملت کی رہنمائی کے لیے اپنے اجتماعی کردار کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر ملک و ملت کی سلامتی، امن و استحکام اور علماء و عوام کی کامیابی و توفیقات کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
اتوار، 21 ربیع الثانی 1448ھ/ 04 اکتوبر 2026ء










آپ کا تبصرہ