تحریر: آغا زمانی
حوزہ نیوز ایجنسی| شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے بیانات کو پروپیگنڈے کا ہتھیار بنانے کے بجائے ان کی سیاسی بصیرت کو سمجھنے کی ضرورت ہے!
اختلاف کیجیے، سوال اٹھائیے، لیکن شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے مؤقف کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنی من پسند تشریح کا ذریعہ نہ بنائیے۔
زیرِ بحث تحریر میں بظاہر شہید رہبرِ معظم کے دو بیانات پیش کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پہلے انہوں نے امریکہ سے مذاکرات کو غیر شائستہ، غیر معقول اور قومی وقار کے خلاف قرار دیا، پھر خود ہی مذاکرات کی اجازت دے دی۔ لہٰذا ان کے سابقہ مؤقف میں تبدیلی کو کسی دوسرے فریق کی کامیابی یا مجبوری قرار دیا جا رہا ہے۔
یہاں چند بنیادی سوالات اور حقائق سمجھنا ضروری ہیں:
1۔ مؤقف میں تبدیلی اور اصولوں سے انحراف میں فرق ہے
سیاسی قیادت کوئی جامد نظریاتی عبارت نہیں ہوتی کہ حالات بدل جائیں مگر حکمت عملی تبدیل نہ ہو۔ ایک صاحبِ بصیرت رہنما اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ شہید رہبرِ معظم رضوان اللہ علیہ نے امریکہ کی بالخصوص ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، دھمکیوں، دباؤ اور سابقہ معاہدوں سے انحراف کے تناظر میں مذاکرات کے خلاف مؤقف اختیار کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مذاکرات بذاتِ خود ہر صورت میں حرام، ناممکن یا ناقابلِ قبول ہیں۔ بعد کے حالات میں اگر انہوں نے مذاکرات کے کسی مرحلے کو آگے بڑھنے دیا، تو اسے لازماً پہلے مؤقف کی تردید قرار دینا سیاسی فہم کی کمزوری ہے۔ سفارت کاری میں اصول اور طریقۂ کار دو الگ چیزیں ہیں۔ مذاکرات کی گنجائش پیدا کرنا اور مخالف کی شرائط تسلیم کرلینا ایک بات نہیں۔
2۔ مذاکرات کی اجازت کا مطلب اعتماد یا پسپائی نہیں
کسی ملک کا مذاکرات پر آمادہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کمزور ہوگیا، شکست تسلیم کرلی یا اپنے سابقہ مؤقف سے دستبردار ہوگیا۔ دنیا کی تاریخ میں بڑی سے بڑی انقلابی اور مزاحمتی قیادتوں نے جنگ کے دوران بھی سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ مذاکرات بھی مزاحمت کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہوسکتے ہیں۔
شہید رہبرِ معظم کا بنیادی مؤقف امریکہ پر عدم اعتماد، قومی خودمختاری، ایرانی عوام کے حقوق اور دباؤ کے سامنے نہ جھکنے پر مبنی تھا۔ لہٰذا مذاکرات کے کسی مرحلے کو قبول کرنے سے ان اصولوں کی نفی لازم نہیں آتی۔
3۔ پہلے بیان اور بعد کے بیان کو الگ الگ پیش کرنا علمی دیانت نہیں
اگر کوئی شخص پہلے بیان میں مذاکرات کے خلاف سخت مؤقف پیش کرے اور دوسرے بیان میں مذاکرات کے ایک دور کو مثبت قرار دینے کا حوالہ دے تو ضروری ہے کہ وہ دونوں بیانات کی مکمل تاریخ، حالات، مخاطب، موضوع اور شرائط بھی سامنے رکھے۔ کیا دونوں بیانات میں مذاکرات کی نوعیت ایک جیسی تھی؟ کیا فریقین کی شرائط یکساں تھیں؟ کیا حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی؟ کیا پہلے بیان میں مخصوص امریکی حکومت اور اس کی پالیسیوں پر تنقید نہیں کی گئی تھی؟
ان سوالات کا جواب دیے بغیر محض چند جملے جوڑ کر تضاد ثابت کرنا تحقیق نہیں بلکہ اپنی مرضی کا نتیجہ اخذ کرنا ہے۔
4۔ شہید رہبرِ معظم کی سیاسی بصیرت کو ایک ویڈیو کلپ میں محدود نہیں کیا جاسکتا
آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کئی دہائیوں تک ایک انقلابی ریاست کی قیادت کرتے رہے۔ ان کی سیاسی فکر میں مزاحمت، خودمختاری، قومی وقار، دشمن شناسی، سفارت کاری اور حالات کے درست تجزیے کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔
ان کی فکر کا مطالعہ کرنا ہے تو ان کی پوری سیاسی زندگی، تقاریر، پالیسیوں اور فیصلوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ کسی ایک دور کا جملہ اٹھا کر دوسرے دور کے فیصلے پر سوالیہ نشان لگانا ان کی سیاسی فکر کے ساتھ انصاف نہیں۔
5۔ رہبرِ معظم رضوان اللہ علیہ پر تنقید کا حق اور تنقید کا علمی معیار الگ چیزیں ہیں
کسی بھی سیاسی یا مذہبی رہنما کے فیصلوں پر علمی سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔ شہید رہبرِ معظم رح بھی اپنے فیصلوں کے تجزیے سے ماورا نہیں ہیں۔ لیکن تنقید کے لیے کم از کم دیانت، تاریخی شعور اور مکمل معلومات ضروری ہیں۔ اگر ان کے کسی فیصلے سے اختلاف ہے تو اس فیصلے کے پس منظر، دستیاب معلومات، قومی مفادات اور اس وقت کے حالات کا جائزہ لیجیے۔ یہ کہنا کہ پہلے ایک بات کی اور پھر دوسری بات کردی، کسی بڑے سیاسی فیصلے کا سنجیدہ تجزیہ نہیں ہوسکتا۔
6۔ ایرانی قیادت کے خلاف داخلی اختلافات کو پورے نظام کے خلاف دلیل بنانا بھی درست نہیں
کسی ملک میں سیاسی اختلاف، عوامی احتجاج، سخت تنقید یا حکومتی پالیسیوں پر اعتراضات کا ہونا ایک حقیقت ہے۔ لیکن چند افراد کے نعروں، سوشل میڈیا کی ویڈیوز یا کسی گروہ کے طرزِ عمل کو بنیاد بنا کر پوری ایرانی قوم، انقلابی قیادت یا اسلامی نظام کے بارے میں عمومی فیصلے صادر کرنا غیر منصفانہ ہے۔ ایران کے سیاسی نظام، اس کی قیادت، عوام اور مزاحمتی مؤقف کو سمجھنے کے لیے وہاں کے حقیقی حالات اور تاریخی پس منظر کا مطالعہ ضروری ہے۔
7۔ سب سے اہم بات، شہید رہبرِ معظم کے نام پر اپنی پسند کا بیانیہ مت بنائیے
شہید رہبرِ معظم رضوان اللہ علیہ کی زندگی کا بنیادی پیغام استکبار کے مقابلے میں استقلال، قومی خودمختاری، عزت و وقار اور مزاحمت تھا۔ ان کے کسی ایک بیان کو بنیاد بنا کر ان کے دوسرے فیصلوں کو مشکوک بنانا اور پھر اسی بنیاد پر ان کے سیاسی مؤقف کو متضاد ثابت کرنا فکری دیانت کے منافی ہے۔ ان کے فیصلوں سے اختلاف رکھنے والے بھی علمی انداز میں اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن ان کی سیاسی بصیرت کو سوشل میڈیا کے چند جملوں میں محصور نہیں کیا جاسکتا۔
آخر میں ایک بات
ایران کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر پالیسی کو تنقید سے بالاتر قرار دیا جائے، اور ایران کی کسی حکمت عملی پر سوال اٹھانے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس کی پوری جدوجہد کو مشکوک بنا دیا جائے۔
اسی طرح شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے اقوال کو اپنی پسند کے سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرنا بھی درست نہیں۔ اگر واقعی ان سے محبت اور ان کے افکار سے وابستگی ہے تو ان کی مکمل سیاسی فکر کا مطالعہ کیجیے، ان کے بیانات کو ان کے پس منظر میں سمجھیے اور اختلاف کو دلیل کے ساتھ پیش کیجیے۔
یاد رکھیے! حکمت عملی میں تبدیلی لازماً نظریے کی تبدیلی نہیں ہوتی، مذاکرات کی گنجائش کمزوری نہیں ہوتی اور کسی رہنما کے دو مختلف ادوار کے بیانات میں فرق لازماً تضاد نہیں ہوتا۔
شہید رہبرِ معظم رضوان اللہ علیہ کی سیاسی بصیرت کو سمجھنے کے لیے جذباتی پروپیگنڈے نہیں، علمی دیانت، تاریخی شعور اور وسیع النظر تجزیے کی ضرورت ہے۔










آپ کا تبصرہ