جمعہ 25 ستمبر 2026 - 00:22
علماء کو معاشی خود کفیل ہوکر حق بات آزادی سے بیان کرنی چاہیے، مولانا منتظر عباس گھوسی

حوزہ/ گھوسی کے مدرسہ حسینیہ میں ’’حسینی تبلیغی مشن‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ تعلیمی، تربیتی و اصلاحی جلسے کے حوالے سے مولانا منتظر عباس گھوسی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے پروگرام کو دینی شعور، فکری بیداری، نوجوانوں کی تعلیمی تربیت اور قومی و معاشی ترقی کے حوالے سے ایک بامقصد اجتماع قرار دیا اور مختلف علماء کے اہم نکات و خطابات کو اجاگر کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گھوسی کے مدرسہ حسینیہ میں 18 ستمبر 2026ء کو مجمع علماء و واعظین پوروانچل اور مدرسہ حسینیہ کے زیر اہتمام ’’حسینی تبلیغی مشن‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ عظیم الشان تعلیمی، تربیتی، اصلاحی و تبلیغی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں امام جمعہ و علماء گھوسی سمیت پوروانچل کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے علماء و خطباء نے شرکت کی اور اپنے فکر انگیز بیانات و قیمتی تاثرات سے حاضرین کو مستفید کیا۔

اس موقع پر مولانا منتظر عباس گھوسی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ یہ اجتماع محض ایک روایتی مذہبی پروگرام نہیں تھا، بلکہ دینی شعور، فکری بیداری، نوجوانوں کی تعلیمی تربیت اور قومی و معاشی ترقی کے حوالے سے ایک اہم پیغام کا حامل تھا۔

جلسے کی صدارت معروف عالم دین مولانا ناظم علی خیرآبادی نے کی۔ انہوں نے دعوت دین کے سلسلے میں ایک بنیادی اور مؤثر اصول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف اپنی زبان اور گفتار سے دعوت دینے کے بجائے اپنے عمل اور کردار کے ذریعے دعوت پیش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق دعوت صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ عمل کا آئینہ بھی ہے۔

جلسے کی نظامت کے فرائض مولانا شفقت تقی قمی نے نہایت عمدگی، شائستگی اور حسنِ انتظام کے ساتھ انجام دیے۔

علماء کی معاشی خود کفالت اور فکری آزادی

مولانا شفقت تقی قمی نے دورانِ نظامت مختلف امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے علماء کی خود کفالت اور خود انحصاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کو صرف قوم کے سہارے اور بھروسے پر نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں حتی الامکان خود کفیل ہونا چاہیے، تاکہ وہ کسی مالی یا شخصی دباؤ کے تحت نہ ہوں اور حق بات کو آزادی اور اطمینان کے ساتھ بیان کرسکیں۔

انہوں نے مثال کے طور پر ایران کے علماء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بعض علماء اپنی دینی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے ساتھ کسبِ روزگار کے لیے سبزی فروشی اور خیاطی جیسے کام بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات محض معاشی خود کفالت تک محدود نہیں بلکہ علماء کی فکری آزادی اور دینی ذمہ داری سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ایک عالم دین جب اپنی بنیادی ضروریات کے حوالے سے دوسروں کا محتاج نہ ہو تو وہ اپنے علمی و دینی فرائض زیادہ آزادی کے ساتھ انجام دے سکتا ہے، حق بات کہنے میں مصلحتوں کا شکار ہونے سے بچ سکتا ہے اور قوم کی رہنمائی زیادہ مؤثر انداز میں کرسکتا ہے۔

مولانا شفقت تقی قمی کی گفتگو نے مجلس کو ایک ایسے موضوع کی طرف متوجہ کیا جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ دینی قیادت کے لیے علم و تقویٰ کے ساتھ ساتھ معاشی خود انحصاری بھی ایک اہم عملی ضرورت بن چکی ہے۔ خود کفالت کا مقصد قوم سے دوری نہیں بلکہ قوم کی خدمت کو زیادہ آزادی، وقار اور استقلال کے ساتھ انجام دینا ہے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین عقیل الغروی کا خصوصی خطاب

جلسے کے خصوصی مقرر ممتاز عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین عقیل الغروی، مقیم لندن، نے آن لائن خطاب کرتے ہوئے دینی شعور، عزاداری اور اصلاحِ معاشرہ کے باہمی تعلق پر فکر انگیز گفتگو کی۔ انہوں نے اس اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ عزاداری کو اصلاح کی ضرورت نہیں بلکہ عزاداری خود مشعلِ اصلاح ہے؛ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم سچے عزادار بنیں۔

مولانا عقیل الغروی کے اس فکر انگیز پیغام میں عزاداری کی حقیقی روح کی طرف توجہ دلائی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عزاداری محض ایک رسم یا محدود زمانی و مکانی سرگرمی نہیں بلکہ مکتبِ کربلا سے وابستہ ایک ایسی روحانی و اخلاقی نسبت ہے جو انسان کو حق شناسی، ظلم سے بیزاری، کردار کی پاکیزگی اور اصلاحِ نفس و معاشرہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

ان کے خطاب کا مرکزی احساس یہ تھا کہ اگر عزادار امام حسینؑ کے پیغام اور مکتبِ عاشورا کی حقیقی روح کو اپنے کردار میں جگہ دے تو خود عزاداری انسان کی فکری و اخلاقی تربیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس لیے اصل ضرورت عزاداری میں اصلاح تلاش کرنے سے زیادہ اپنے اندر سچی عزاداری پیدا کرنے کی ہے۔

حجت الاسلام و المسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی کا فکر انگیز خطاب

اجتماع کی ایک نمایاں خصوصیت رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ملک ہندوستان میں نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی کی شرکت تھی۔ ان کی تشریف آوری نے پروگرام کی معنویت میں مزید اضافہ کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں ہندوستان کو بے نظیر ممالک میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں پیدا ہونے والے شیعہ خوش نصیب ہیں کہ وہ ہندوستانی ہیں۔ انہوں نے اس سرزمین سے وابستہ علمی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے علامہ میر حامد حسین ہندی کی مثال بھی پیش کی۔

حجۃ الاسلام عبدالمجید حکیم الٰہی نے علماء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء کا کام صرف مسجد، مدرسہ اور محراب تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں خود بیدار اور خود کفیل رہتے ہوئے ملت کو بھی بیدار کرنا ہے اور قوم کے مستقبل، بالخصوص نوجوان نسل کے کردار پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے نوجوانوں کو تعلیم کی طرف متوجہ کرنے، ان کی علمی و فکری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی اقتصادیات کو مضبوط بنانے، معاشی خود کفالت کی سمت قدم بڑھانے، فکری بیداری پیدا کرنے اور ترقی کے اصولوں کو عملی زندگی میں اپنانے کی اہمیت اجاگر کی۔

ان کا خطاب اس امر کی طرف واضح رہنمائی تھا کہ کسی قوم کی ترقی صرف جذبات اور نعروں سے نہیں بلکہ علم، شعور، مضبوط فکر، معاشی استحکام، مسلسل محنت اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔

ماتمی انجمنوں کے کردار پر مولانا منہال کا زور

مولانا منہال نے اپنے خطاب میں ماتمی انجمنوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ انجمنوں کی ذمہ داری صرف نوحہ خوانی، سینہ زنی اور عزاداری کے انعقاد تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ عزاداری کے ساتھ ساتھ اپنی قوم کو تعلیمی اداروں سے جوڑنے، نوجوانوں کی علمی تربیت اور معاشی استحکام کے لیے بھی عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ یہ اپنے آپ میں ایک اہم اور بڑا پیغام ہے اور عزاداری سے وابستہ ادارے معاشرے کی تعلیمی و فکری ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

کنوینرز کی قابلِ تحسین کاوشیں

مولانا منتظر عباس کے مطابق اس اہم پروگرام کے انعقاد اور کامیابی کے پسِ پشت نوجوان عالم مولانا کاظم حسین مظہری، ناظم اعلیٰ مدرسہ حسینیہ گھوسی، اور علاقے کے بزرگ عالم دین و محقق مولانا ابن حسن املوی نے بطور کنوینر قابلِ تحسین کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بڑے دینی و فکری اجتماعات کا انعقاد محض ایک نشست کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے منصوبہ بندی، مسلسل رابطہ، علماء و خطباء کی شرکت کا اہتمام اور انتظامی امور کی بھرپور نگرانی درکار ہوتی ہے۔

مولانا کاظم حسین مظہری اور مولانا ابن حسن املوی نے اپنی کاوشوں، خلوص اور حسنِ انتظام کے ذریعے اس پروگرام کو ایک مؤثر اور بامقصد اجتماع کی صورت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یہ کوشش قابلِ قدر ہے کہ انہوں نے ایک ایسے اجتماع کے انعقاد کی راہ ہموار کی جس میں دینی و مذہبی شعور کے ساتھ ساتھ تعلیم، معیشت، نوجوانوں کی تربیت، فکری بیداری اور قومی ترقی جیسے اہم موضوعات بھی زیرِ بحث آئے۔

ایک اجتماع، کئی اہم پیغامات

مولانا منتظر عباس نے اپنے تاثرات میں مزید کہا کہ اس جلسے کی خوب صورتی یہ تھی کہ اس کے مختلف مقررین اور نظامت کے دوران سامنے آنے والی گفتگو نے معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو ایک ساتھ موضوع بنایا۔ کہیں عزاداری کی حقیقی روح پر گفتگو ہوئی، کہیں علماء کی معاشی خود کفالت اور فکری آزادی کی ضرورت اجاگر ہوئی اور کہیں نوجوانوں کی تعلیم، قومی معیشت، فکری بیداری اور ترقی کی راہوں کی طرف توجہ دلائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام نکات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دینی شعور اور اجتماعی ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایک زندہ قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دینی تشخص کے ساتھ علم، تعلیم، فکر، معیشت اور عملی خود انحصاری کے میدان میں بھی آگے بڑھے۔

یوں یہ تبلیغی و فکری جلسہ صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ دین، عزاداری، خود کفالت، تعلیم، فکری بیداری اور قومی ترقی کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کرنے والی ایک بامعنی نشست بن کر سامنے آیا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے اجتماعات کے پیغامات محض جلسہ گاہ تک محدود نہ رہیں بلکہ ان سے پیدا ہونے والی فکری تحریک کو عملی زندگی میں بھی آگے بڑھایا جائے۔ یہی راستہ ہے جس کے ذریعے دینی وابستگی کو کردار، تعلیم کو شعور، خود کفالت کو آزادی اور شعور کو قومی ترقی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha