حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 9 اکتوبر 2026 کو بھادی، شاہ گنج، جونپور اترپردیش میں نماز جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے مولانا سید معصوم رضا کیفی نے خطبۂ جمعہ میں کہا کہ کسی بھی قوم کی حقیقی ترقی صرف دولت، عمارتوں اور وسائل سے نہیں ہوتی، بلکہ تعلیم، اچھے اخلاق اور سماجی اصلاح اس کی ترقی کی بنیادی شرائط ہیں۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
مولانا سید معصوم رضا کیفی نے کہا کہ اسلام نے علم کو انسان کی سربلندی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘ (سورۂ علق، آیت 1)۔ اس سے علم کی اہمیت اور انسانی زندگی میں اس کے بنیادی مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علم انسان کو حق و باطل، صحیح و غلط اور انصاف و ظلم کے درمیان فرق کرنا سکھاتا ہے۔ والدین، اساتذہ، علما اور سماجی ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ ہر بچے کے لیے تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ کسی بچے کا تعلیم سے محروم رہ جانا صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں، بلکہ پوری قوم کے مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا یا روزگار پانا نہیں، بلکہ انسان کو اچھے اخلاق اور ذمہ داری کا احساس دینا بھی ہے۔ جھوٹ، غیبت، باہمی نفرت، ناانصافی اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے جیسی برائیوں سے بچنا سماجی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ حدیث نگاری "إِنَّ اللّهَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ" اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔ (سورۂ رعد، آیت 11)

مولانا کیفی نے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کی زندگی علم، عمل، انصاف اور انسانیت کا بہترین نمونہ ہے۔ امام علی علیہ السلام کی سیرت ہمیں امانت داری اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کا درس دیتی ہے، جبکہ امام حسین علیہ السلام کی قربانی حق، انصاف اور دینی اقدار پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔
انہوں نے مساجد، امام بارگاہوں، مدارس اور سماجی اداروں کو تعلیم، اخلاقی تربیت اور عوامی خدمت کا مرکز بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صاحبِ استطاعت افراد کو ضرورت مند طلبہ کی تعلیمی اخراجات میں مدد کرنی چاہیے، تاکہ مالی مشکلات کسی بچے کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بنیں۔
مولانا سید معصوم رضا کیفی نے نوجوانوں کو قوم کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو دینی اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ہنر، اچھے اخلاق اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی ہونا چاہیے۔ والدین کا احترام، اساتذہ کی قدر، ضرورت مندوں کی مدد اور جدید ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال نوجوانوں کی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بچیوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ قوم کی ترقی محض تقریروں اور نعروں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے عملی کوششیں ضروری ہیں۔ تعلیم کو فروغ دینا، غریب طلبہ کی مدد کرنا، نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کرنا اور باہمی اختلافات کو اتحاد و بھائی چارے سے حل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔










آپ کا تبصرہ