حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، چنئی-ٹمل ناڈو/ مولانا محمد معراج رنوی، امامِ جمعہ پیرس، چنئی نے خطبۂ جمعہ میں تشیع کی علمی و ثقافتی ترقی، دینی شعور کے فروغ، قومی بیداری اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سیرتِ امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی دینی وابستگی محض زبانی عقیدت تک محدود نہیں، بلکہ اس کا عملی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ذات اور ذاتی مفادات سے آگے بڑھ کر قوم، معاشرے اور ضرورت مند افراد کی فلاح و بہبود کے لیے بھی فکر مند رہے۔
مولانا محمد معراج رنوی نے کہا کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی سیرت عدل و انصاف، ایثار، انسان دوستی، ہمدردی، خیرخواہی اور خدمتِ خلق کا جامع درس دیتی ہے۔ اس سیرت کی پیروی کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان ان اعلیٰ اخلاقی اقدار کو اپنے کردار اور روزمرہ زندگی میں نافذ کرے۔ ہر فرد کو اپنی دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ معاشرتی اصلاح، ضرورت مندوں کی مدد اور اجتماعی مسائل کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
صرف اپنی بھلائی نہیں، قوم کی ترقی کی فکر بھی ضروری ہے
امامِ جمعہ پیرس، چنئی نے کہا کہ جب افراد اپنی ذاتی خوش حالی اور مفادات تک محدود ہوکر قوم و معاشرے کے مسائل سے لاتعلق ہوجاتے ہیں تو اجتماعی ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ قومی بیداری کا تقاضا ہے کہ ہر شخص اپنی صلاحیتوں، علم اور وسائل کے مطابق معاشرے کی بہتری میں حصہ لے، دوسروں کی مشکلات کو سمجھے اور ضرورت کے وقت ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو شخص صرف اپنی بھلائی کی فکر کرتا ہے اور اپنی قوم کی پریشانیوں، ضرورت مندوں کی مشکلات اور اجتماعی مسائل کو فراموش کردیتا ہے، اس کا طرزِ عمل سیرتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے عملی پیغام سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مولانا محمد معراج رنوی نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا: ’’یہ بات محال ہے کہ کوئی علیؑ والا ہو اور اسے دوسروں کی فکر نہ ہو۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام سے حقیقی نسبت کا تقاضا ہے کہ انسان کے اندر دوسروں کے لیے سچی ہمدردی، خیرخواہی، ایثار اور احساسِ ذمہ داری موجود ہو۔ ایک باشعور اور ذمہ دار فرد وہی ہے جو اپنی انفرادی کامیابی کے ساتھ اپنی قوم کی علمی، ثقافتی اور اجتماعی ترقی کو بھی اہمیت دے۔
حاجت مندوں کی مدد اللہ کی نعمت ہے
خدمتِ خلق اور ضرورت مندوں کی خبرگیری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے مولانا محمد معراج رنوی نے اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں اس بات پر زور دیا کہ دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کا موقع ملنا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ اس موقع کو بوجھ سمجھنے یا ضرورت مندوں سے بے اعتنائی برتنے کے بجائے اسے نیکی، ایثار اور خدمت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
اس سلسلے میں ایک معروف فرمان میں آیا ہے: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، نَافِسُوا فِي الْمَكَارِمِ، وَسَارِعُوا فِي الْمَغَانِمِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ حَوَائِجَ النَّاسِ إِلَيْكُمْ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ، فَلَا تَمَلُّوا النِّعَمَ فَتَحُورَ نِقَمًا»۔
ترجمہ: اے لوگو! اعلیٰ اخلاقی خوبیوں کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور نیکیوں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں جلدی کرو۔ جان لو کہ لوگوں کی ضروریات کا تمہارے پاس آنا تم پر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے؛ لہٰذا ان نعمتوں سے اکتاہٹ محسوس نہ کرو، ورنہ یہی نعمتیں عذاب اور محرومی کا سبب بن سکتی ہیں۔
اس فرمان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دوسروں کی مشکلات دور کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کا موقع انسان کے لیے باعثِ شکر ہے۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنا، ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کوشش کرنا ایک صالح معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
مولانا محمد معراج رنوی کے بیان کے مرکزی پیغام کے مطابق، دینی و مذہبی وابستگی کا حقیقی ثبوت اسی وقت سامنے آتا ہے جب انسان اپنے عقیدے کی تعلیمات کو کردار، معاشرتی تعلقات اور اجتماعی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرے۔ قوم کی ترقی، علمی و ثقافتی بیداری اور خدمتِ خلق کے لیے اجتماعی کوششیں اسی وقت مؤثر ہوسکتی ہیں جب افراد اپنی انفرادی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور دوسروں کی بھلائی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔










آپ کا تبصرہ