جمعہ 25 ستمبر 2026 - 00:41
نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ شعور، اخلاق اور کردار دینا ضروری ہے، مولانا کاظم حسین مظہری

حوزہ/ مدرسہ حسینیہ بڑا گاؤں گھوسی میں ’’حسینی تبلیغی مشن‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک روزہ تعلیمی و تربیتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا کاظم حسین مظہری نے تعلیم و تربیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو صرف ڈگری اور معلومات نہیں بلکہ شعور، اخلاق، کردار، خدمت اور ذمہ داری کا احساس دینا ضروری ہے، جبکہ علماء، اساتذہ اور دانشور معاشرے کی فکری و اخلاقی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ حسینیہ بڑا گاؤں گھوسی میں ’’حسینی تبلیغی مشن‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک روزہ تعلیمی و تربیتی کانفرنس میں مدرسہ حسینیہ کے منیجر مولانا کاظم حسین مظہری نے علماء، واعظین، دانشوروں، اساتذہ اور شرکائے کانفرنس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم صرف کتاب پڑھ لینے کا نام نہیں بلکہ انسان کو انسان بنانے کا نام ہے، اس لیے نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ شعور، اخلاق، کردار، خدمت، دیانت اور ذمہ داری کا احساس دینا ضروری ہے۔

انہوں نے اپنے کلماتِ تشکر میں کہا کہ یہ بابرکت یک روزہ تعلیمی و تربیتی کانفرنس ’’حسینی تبلیغی مشن‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس میں معزز علماء، واعظین، دانشوروں اور اساتذہ کی شرکت ہمارے لیے صرف خوشی اور مسرت کا باعث نہیں بلکہ ایک عظیم علمی و روحانی سرمایہ ہے۔

مولانا کاظم حسین مظہری نے سب سے پہلے اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے علم، علماء اور اہلِ دانش کی بابرکت مجلس میں اظہارِ خیال کا موقع عطا فرمایا۔ انہوں نے پروگرام کے انتظام یا عنوان میں کسی کمی کی صورت میں اصلاح اور معذرت کی درخواست بھی کی۔

نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ شعور، اخلاق اور کردار دینا ضروری ہے، مولانا کاظم حسین مظہری

علم میں مسلسل اضافے کی ضرورت

انہوں نے قرآن کریم کی آیت ’’وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھی علم میں اضافے کی دعا سکھائی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کسی ایک مقام پر پہنچ کر یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اب اسے مزید علم کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے ہر لمحہ علم حاصل کرتے رہنا چاہیے۔

انہوں نے علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حدیث ’’طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ‘‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

مولانا کاظم حسین مظہری نے کہا کہ آج کی اس کانفرنس کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ تعلیم صرف کتاب پڑھ لینے کا نام نہیں بلکہ تعلیم انسان کو انسان بنانے کا نام ہے۔ تعلیم انسان کو علم دیتی ہے، علم شعور پیدا کرتا ہے، شعور ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے اور تربیت اس ذمہ داری کو صحیح طریقے سے ادا کرنا سکھاتی ہے۔

نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ تربیت دینے پر زور

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف ڈگری نہیں بلکہ قابلیت بھی دینی ہے، صرف معلومات نہیں بلکہ شعور بھی دینا ہے اور صرف کامیابی کا راستہ نہیں بلکہ اچھے کردار کا راستہ بھی دکھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا بچہ کل کا عالم، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، دانشور یا معاشرے کا رہنما بن سکتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کیا دے کر رخصت کررہے ہیں۔ اگر ہم نے اسے صرف تعلیم دی اور تربیت نہیں دی تو ممکن ہے وہ کامیاب انسان بن جائے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ اچھا انسان بھی بنے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ اخلاق، کردار، خدمت، دیانت، برداشت، احترام اور ذمہ داری سکھا دی تو یہی بچے مستقبل میں معاشرے کی طاقت بنیں گے۔

نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ شعور، اخلاق اور کردار دینا ضروری ہے، مولانا کاظم حسین مظہری

علماء، واعظین اور اساتذہ کا کردار

مولانا کاظم حسین مظہری نے علماء و واعظین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاشرے کے فکری رہنما ہیں۔ ان کی گفتگو صرف ایک مجلس تک محدود نہیں رہتی بلکہ ان کے الفاظ گھروں تک پہنچتے، دلوں پر اثر کرتے اور نسلوں کی تربیت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح اساتذہ اور دانشور نئی نسل کی فکری تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی تعلیم اور عصری تعلیم کے درمیان مضبوط تعلق قائم ہو، علم کے ساتھ کردار، ترقی کے ساتھ اخلاق اور جدیدیت کے ساتھ اپنی تہذیبی و دینی شناخت بھی محفوظ رہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو تعلیم یافتہ، باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار بنا دیں تو یہی ہماری حقیقی ترقی ہوگی۔

علماء و شرکائے کانفرنس کا شکریہ

مولانا کاظم حسین مظہری نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام علماء کرام، واعظین عظام، دانشوران، اساتذہ اور دیگر شرکائے کانفرنس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکالا، دعوت قبول کی، اپنی موجودگی سے محفل کو رونق بخشی اور اپنے علم و تجربے سے حاضرین کو مستفید فرمایا۔

انہوں نے ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے پسِ پردہ رہ کر محنت کی، وقت دیا اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ علم حاصل کیا جائے، علم کو عمل سے جوڑا جائے، عمل کو کردار بنایا جائے اور اپنے کردار کے ذریعے معاشرے کی تعمیر کی جائے۔

نئی نسل کو تعلیم کے ساتھ شعور، اخلاق اور کردار دینا ضروری ہے، مولانا کاظم حسین مظہری

آخر میں مولانا کاظم حسین مظہری نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کرتے ہوئے کہا کہ رب کریم بحق چہاردہ معصومینؑ سب کو علمِ نافع عطا فرمائے، علماء و اساتذہ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے، نئی نسل کو تعلیم و تربیت کی دولت سے مالا مال فرمائے اور اس کانفرنس کو معاشرے کی علمی، اخلاقی اور فکری ترقی کا ذریعہ قرار دے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو قبول فرمائے اور سب کو علم سیکھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha