تحریر : آغا زمانی
تاریخ کی کچھ راتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
وہ راتیں کیلنڈر کے کسی ایک دن میں قید نہیں ہوتیں، نہ کسی تاریخ کے گزر جانے کے ساتھ ان کا سفر رک جاتا ہے۔ وہ نسلوں کے حافظے میں اتر جاتی ہیں، انسان کے ضمیر میں گھر بنا لیتی ہیں اور وقت گزرنے کے باوجود ہر نئے عہد کے سامنے ایک سوال رکھ دیتی ہیں۔
کربلا بھی ایسی ہی ایک رات تھی۔
وہ رات گزر گئی تھی، مگر اس کا سوال آج تک باقی تھا۔
جب حق اور باطل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوں تو انسان کس طرف کھڑا ہوگا؟
یہ سوال کبھی کوفہ کی گلیوں میں اٹھا تھا، کبھی کربلا کے ریگزار میں گونجا، کبھی شام کے دربار تک پہنچا اور پھر صدیوں کا سفر طے کرتے ہوئے دنیا کے مختلف خطوں میں پہنچتا رہا۔ کبھی کسی عالم کی زبان سے، کبھی کسی مجاہد کے عزم سے، کبھی کسی مظلوم کی آہ سے اور کبھی کسی شہید کے لہو سے۔
وقت بدلتا رہا۔
تلواروں کی جگہ بندوقوں نے لے لی۔ گھوڑوں کی جگہ ٹینک آگئے۔ خیموں کی جگہ شہر تھے اور لشکروں کی جگہ جدید فوجیں۔ نقشے بدل گئے، سلطنتیں بدل گئیں، سرحدیں بدل گئیں، مگر سوال وہی رہا۔
پھر لبنان کی سرزمین پر ایک بچہ بڑا ہونے لگا۔
اس کا نام حسن تھا۔
اس وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ بچہ آگے چل کر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے ایک نمایاں ترین کردار کے طور پر سامنے آئے گا۔ کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ ایک دن اس کی آواز لاکھوں لوگوں تک پہنچے گی، اس کا نام مزاحمت کے بیانیے کے ساتھ جڑ جائے گا، اس کے مخالفین بھی اس کے اثرات کو نظرانداز نہیں کرسکیں گے اور اس کے چاہنے والے اسے محبت سے سیدِ مقاومت پکاریں گے۔
لیکن بڑی کہانیوں کا آغاز اکثر بہت معمولی جگہوں سے ہوتا ہے۔
ایک گھر۔
ایک ماں باپ۔
ایک بچہ۔
چند سوالات۔
اور ایک ایسا ماحول جہاں انسان آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں۔
لبنان ہمیشہ سے تاریخ کے کئی دھاروں کا سنگم رہا ہے۔ پہاڑوں، وادیوں، شہروں اور سمندر کے درمیان بسا ہوا یہ ملک مختلف مذہبی، سیاسی اور تہذیبی قوتوں کے درمیان اپنی شناخت کی تلاش میں رہا۔ اس کے جنوبی علاقوں میں زندگی کبھی سکون کا دوسرا نام تھی اور کبھی جنگ کا۔
حسن نصراللہ نے اسی لبنان کو دیکھا۔
انہوں نے عام لوگوں کی زندگی دیکھی۔
انہوں نے محرومی دیکھی۔
انہوں نے سیاسی کشمکش دیکھی۔
انہوں نے مذہب کو صرف عبادت گاہ میں نہیں بلکہ لوگوں کی اجتماعی زندگی میں دیکھا۔
اور شاید انہی مشاہدات نے ان کے اندر وہ سوال پیدا کیے جو بعد میں ان کے فکری سفر کی بنیاد بنے۔
حق کیا ہے؟
انسان کی ذمہ داری کیا ہے؟
ظلم کے سامنے خاموش رہنا کہاں تک ممکن ہے؟
اور اگر کسی کے پاس وسائل کم ہوں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ طاقتور کے سامنے جھکتا رہے؟
یہ سوالات ایک نوجوان ذہن کو سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے۔
وہ علم کی طرف جاتا ہے۔
اور حسن نصراللہ بھی علم کی طرف گئے۔
نجف کی طرف۔
نجف صرف ایک شہر نہیں تھا۔ وہ ایک علمی روایت کا نام تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ کے سائے میں صدیوں سے علومِ اہل بیت کی شمع روشن تھی۔ دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ وہاں فقہ، اصول، تفسیر، فلسفہ اور اسلامی معارف کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔
حسن نصراللہ نے بھی اس علمی فضا میں قدم رکھا۔
ایک نوجوان طالب علم جب حوزہ علمیہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے صرف کتابیں نہیں ہوتیں۔ اس کے سامنے ایک پورا فکری ورثہ ہوتا ہے۔ وہ روایت، دلیل، اخلاق، ذمہ داری اور دین کے اجتماعی کردار پر غور کرنا سیکھتا ہے۔
نجف نے حسن کے ذہن کو علمی روایت سے جوڑا۔
پھر ان کا سفر بعلبک کے مدرسۂ امام منتظر تک پہنچا۔
وہاں بھی علم اور تربیت کا سلسلہ جاری رہا۔
شہید حجۃالاسلام سید عباس موسوی جیسے اہلِ علم سے تعلق نے ان کی فکری اور عملی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں قم کی علمی فضا سے بھی ان کا تعلق قائم ہوا۔ انہوں نے آیت اللہ سید محمود ہاشمی، آیت اللہ سید کاظم حائری اور آیت اللہ محمد فاضل لنکرانی جیسے علماء کے دروس میں شرکت کی۔
یہ سفر صرف ایک مدرسے سے دوسرے مدرسے تک جانے کا سفر نہیں تھا۔
یہ ایک ذہن کی تعمیر کا سفر تھا۔
نجف نے انہیں روایت سے جوڑا۔
قم نے ان کے سامنے اسلامی فکر کے کئی نئے پہلو کھولے۔
اور لبنان نے انہیں میدان فراہم کیا۔
مگر اس پورے سفر کے اندر ایک چیز مسلسل موجود رہی۔
کربلا۔
کربلا ان کے لیے صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہیں تھی۔
کربلا ایک سوال تھی۔
ایک معیار تھا۔
ایک اخلاقی پیمانہ تھا۔
ایک ایسی روشنی تھی جس میں انسان اپنے زمانے کو دیکھ سکتا تھا۔
امام حسینؑ نے اپنے قیام سے یہ واضح کردیا تھا کہ حق کی عظمت کا انحصار اس بات پر نہیں کہ اس کے ساتھ کتنے لوگ کھڑے ہیں۔ حق کی سچائی تعداد سے طے نہیں ہوتی۔ باطل کی طاقت بھی اسے حق نہیں بنا دیتی۔
یہی عاشورائی شعور تھا۔
یہی وہ شعور تھا جس میں ایمان محض قلبی عقیدت نہیں رہتا بلکہ انسان کے اندر ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔
حسن نصراللہ کی فکری دنیا میں یہ تصور وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا۔
وہ سمجھتے تھے کہ کمزور ہونا اور بے اختیار ہونا ایک ہی چیز نہیں۔
وسائل کی کمی اور ارادے کی کمزوری ایک چیز نہیں۔
تعداد کم ہونا اور حق پر کمزور ہونا ایک چیز نہیں۔
اور شاید یہی وہ مقام تھا جہاں کربلا ان کے لیے ایک زندہ تجربہ بننے لگی۔
سنہ 1975 آیا۔
لبنان شدید سیاسی اور داخلی کشمکش کے دور میں داخل ہوچکا تھا۔
اسی ماحول میں حسن نصراللہ حرکتِ امل سے وابستہ ہوئے۔
وہ نوجوان تھے، مگر ان کے سامنے لبنان کا پیچیدہ سیاسی منظرنامہ تھا۔ ایک طرف مذہبی اور اجتماعی شناخت کے سوالات، دوسری طرف سیاسی کشمکش، اور پھر خطے کی وہ طاقتیں جو لبنان کے داخلی معاملات پر اثرانداز ہورہی تھیں۔
حسن نصراللہ کے لیے سیاست محض اقتدار حاصل کرنے کا راستہ نہیں تھی۔
وہ اسے ایک بڑے اجتماعی سوال کے طور پر دیکھ رہے تھے۔
مگر تاریخ نے انہیں جلد ایک نئے موڑ پر پہنچا دیا۔
سنہ 1982 میں اسرائیلی حملے اور لبنان کے بدلتے ہوئے حالات نے خطے کی سیاست کو ایک نئی سمت دے دی۔ بعض علماء اور کارکنوں کے ساتھ حسن نصراللہ بھی حرکتِ امل سے الگ ہوگئے۔ ایک نئی تنظیمی اور فکری سمت وجود میں آئی۔
حزب اللہ لبنان۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ایک نوجوان عالم کی زندگی میں علم، سیاست اور میدان ایک دوسرے سے جڑنے لگے۔
دنیا اسے مختلف ناموں سے دیکھ رہی تھی۔
کسی کے لیے یہ مزاحمتی تنظیم تھی۔
کسی کے لیے ایک سیاسی قوت۔
کسی کے لیے ایک مذہبی و نظریاتی تحریک۔
اور کسی کے لیے خطے میں ایک بڑی طاقت کا حصہ۔
مگر حسن نصراللہ کی اپنی فکری زبان میں اس جدوجہد کے اندر عاشورا کی روح نمایاں تھی۔
ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار۔
محرومی کو تقدیر سمجھنے سے انکار۔
خوف کو زندگی کا آخری معیار ماننے سے انکار۔
وقت گزرتا رہا۔
حزب اللہ کا کردار بڑھتا گیا۔
اور پھر ایک دن وہ حادثہ پیش آیا جس نے حسن نصراللہ کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
16 فروری 1992ء۔
سید عباس موسوی شہید ہوگئے۔
ایک قیادت ختم ہوئی۔
ایک خلا پیدا ہوا۔
اور حزب اللہ کو نئے سربراہ کی ضرورت تھی۔
نگاہیں حسن نصراللہ کی طرف اٹھیں۔
وہ وقت صرف ایک منصب سنبھالنے کا وقت نہیں تھا۔
وہ ایک راستے کی ذمہ داری اٹھانے کا وقت تھا۔
سید عباس موسوی کے بعد حسن نصراللہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔
اس وقت شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اگلی تین دہائیوں سے زیادہ مدت تک اس منصب پر رہیں گے اور ان کا نام لبنان کی سیاسی و عسکری تاریخ کے ساتھ اس قدر گہرا جڑ جائے گا۔
ان کی قیادت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے تنظیمی قوت کو ایک ایسے بیانیے کے ساتھ جوڑا جس میں مزاحمت، خود اعتمادی، اجتماعی شناخت اور اسرائیلی قبضے کے خلاف جدوجہد مرکزی موضوعات تھے۔
جنوبی لبنان اس بیانیے کا اہم ترین میدان تھا۔
وہاں کے لوگ جنگ، قبضے اور بے یقینی کے درمیان زندگی گزار رہے تھے۔
گھر خالی ہوئے۔
خاندان بچھڑے۔
لوگ اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
مگر وقت کے ساتھ مزاحمت کی سرگرمیاں بھی بڑھتی گئیں۔
سنہ 2000 آیا۔
اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے بیشتر مقبوضہ علاقوں سے انخلا کیا۔
حزب اللہ نے اسے اپنی مزاحمت کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
جنوبی لبنان میں جشن کا ماحول پیدا ہوا۔
لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
اور حسن نصراللہ کی آواز پہلے سے زیادہ بلند ہوچکی تھی۔
اب ان کا نام صرف لبنان کے اندر نہیں لیا جاتا تھا۔
عرب دنیا کے مختلف حلقوں میں انہیں ایک بااثر رہنما کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
مگر ان کے سامنے ایک اور مسئلہ تھا۔
وہ لوگ جو جنگوں میں گرفتار ہوئے تھے۔
وہ شہداء جن کے جسد خاکی دشمن کے قبضے میں تھے۔
2004ء میں قیدیوں کے تبادلے اور شہداء کی لاشوں کی واپسی نے اس تصور کو مزید نمایاں کیا کہ مزاحمت کے بیانیے میں اپنے لوگوں کو تنہا نہ چھوڑنے کا وعدہ شامل ہے۔
پھر 2006ء آیا۔
وہ سال جس نے حسن نصراللہ کو پورے خطے میں ایک غیر معمولی شہرت دے دی۔
تینتیس دن کی جنگ۔
لبنان کے آسمان پر جنگی طیارے تھے۔
شہروں پر بمباری تھی۔
سڑکیں خالی ہورہی تھیں۔
خاندان محفوظ مقامات کی تلاش میں تھے۔
اور اس سب کے درمیان حسن نصراللہ کی آواز ٹیلی وژن کی اسکرینوں سے لوگوں تک پہنچ رہی تھی۔
کبھی وہ اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے۔
کبھی عوام سے۔
کبھی دشمن کو۔
اور کبھی عرب دنیا سے۔
ان کے حامیوں کے لیے ان کی آواز حوصلے کی آواز تھی۔
حزب اللہ نے اس جنگ کے اختتام کو اپنی مزاحمتی کامیابی قرار دیا۔
اسرائیل اور اس کے حامیوں نے جنگ کے نتائج اور اس کے عسکری و سیاسی اثرات کی مختلف تعبیر پیش کی۔
مگر ایک بات واضح تھی:
2006ء کے بعد حسن نصراللہ کی حیثیت پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔
وہ لبنان سے نکل کر پورے خطے کے سیاسی منظرنامے کا ایک نمایاں کردار بن چکے تھے۔
مگر شہرت کے ساتھ دشمنی بھی بڑھتی گئی۔
ان کے خلاف مختلف ادوار میں کارروائیوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہیں۔
2004ء۔
2006ء۔
2011ء۔
ہر مرتبہ موت قریب آئی، مگر وہ محفوظ رہے۔
مگر ایک موت ایسی تھی جس سے وہ بچ نہ سکے۔
اور وہ ان کے اپنے گھر تک آئی تھی۔
1997ء میں ان کے بڑے صاحبزادے سید محمد ہادی ایک جھڑپ میں شہید ہوگئے۔
ایک باپ کے لیے بیٹے کی شہادت صرف ایک خبر نہیں ہوتی۔
وہ ایک ایسی خاموشی ہے جو گھر کے اندر ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتی ہے۔
وہ ایک تصویر ہے جو دیوار پر لٹکتی ہے۔
وہ ایک نام ہے جسے پکارنے پر کوئی جواب نہیں آتا۔
وہ ایک یاد ہے جو عمر کے ساتھ پرانی نہیں ہوتی۔
حسن نصراللہ نے اپنے بیٹے کو کھویا۔
مگر اپنی راہ نہیں چھوڑی۔
شاید اسی لیے شہادت کا لفظ ان کے لیے محض تقریر کا حصہ نہیں تھا۔
وہ ان کے اپنے گھر سے گزر چکا تھا۔
وقت آگے بڑھا۔
علاقائی سیاست بدلتی رہی۔
فلسطین، لبنان، شام، عراق اور یمن کے حالات نے خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کیں۔
حزب اللہ کے علاقائی روابط میں اضافہ ہوا۔
ایران کے ساتھ تعلقات مزید نمایاں ہوئے۔
فلسطینی تنظیموں کے ساتھ روابط رہے۔
عراق اور یمن کے مزاحمتی حلقوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم رہے۔
اس پورے منظرنامے میں حسن نصراللہ کو محورِ مقاومت کے ایک مرکزی رہنما کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
ان کے حامی ان کی قیادت کو مزاحمت اور خود مختاری کی علامت سمجھتے تھے۔
ان کے مخالفین حزب اللہ کے داخلی و علاقائی کردار پر شدید اعتراضات کرتے تھے۔
مگر تاریخ کا ایک اصول ہے:
کسی شخصیت کے اثرات صرف اس کے حامیوں سے نہیں ناپے جاتے۔
کبھی کبھی مخالفین کی شدید توجہ بھی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ شخصیت اپنے زمانے میں کتنی اہم ہوچکی ہے۔
اور پھر وہ دن آیا جس کا تصور شاید خود حسن نصراللہ نے بھی کیا ہوگا، مگر جس کی گھڑی کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔
27 ستمبر 2024ء۔
بیروت کا علاقہ ضاحیہ۔
فضا میں عجیب سی خاموشی تھی۔
پھر اچانک دھماکے ہوئے۔
عمارتیں لرز اٹھیں۔
دھواں آسمان کی طرف بلند ہوا۔
لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے:
کیا ہوا؟
پھر ایک خبر پھیلی۔
پہلے آہستہ۔
پھر تیزی سے۔
پھر پوری دنیا تک۔
سید حسن نصراللہ شہید ہوگئے۔
وہ آواز جو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک لبنان اور خطے کے سیاسی منظرنامے کا حصہ رہی تھی، خاموش ہوگئی۔
حزب اللہ نے ان کی شہادت کی تصدیق کی۔
لبنان سوگ میں ڈوب گیا۔
ان کے حامیوں کے لیے یہ ایک عظیم صدمہ تھا۔
ایران میں سوگ کا اعلان ہوا۔
لبنان، شام، عراق اور یمن میں بھی سوگ منایا گیا۔
مختلف ممالک، سیاسی جماعتوں، مزاحمتی تنظیموں اور مذہبی شخصیات نے تعزیتی بیانات جاری کیے۔
شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ، آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی حفظہ اللہ سمیت متعدد علماء و مراجع نے تعزیت کا اظہار کیا۔
دنیا کے مختلف حصوں میں مظاہرے ہوئے۔
لوگ سڑکوں پر نکلے۔
تصاویر اٹھائی گئیں۔
مرثیے پڑھے گئے۔
اور ہر جگہ ایک ہی نام گونجتا رہا:
حسن نصراللہ۔
مگر موت کے ساتھ ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
زندہ انسان سے سوال کیا جاسکتا ہے۔
مگر شہید سے صرف اس کے ماضی کے ذریعے بات کی جاتی ہے۔
اب حسن نصراللہ جواب دینے کے لیے موجود نہیں تھے۔
لوگ ان کی زندگی کو دیکھ رہے تھے۔
ان کے فیصلوں کو دیکھ رہے تھے۔
ان کی تقریروں کو یاد کررہے تھے۔
ان کی کامیابیوں اور تنازعات دونوں پر بحث کررہے تھے۔
اور پھر ایک سوال بار بار سامنے آتا تھا:
کیا ایک انسان کے مرنے سے ایک فکر بھی مر جاتی ہے؟
شاید نہیں۔
کیونکہ انسان جسم ہوتا ہے۔
فکر جسم سے بڑی ہوتی ہے۔
اور اگر کسی فکر نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی ہو تو جسم کے ختم ہوجانے کے بعد بھی اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔
حسن نصراللہ کی تدفین فوراً نہیں ہوئی۔
مہینے گزرے۔
دن گزرتے گئے۔
لوگ انتظار کرتے رہے۔
پھر 23 فروری 2025ء کا دن آیا۔
بیروت میں ان کی تشییعِ جنازہ ہوئی۔
تقریباً پانچ ماہ بعد وہ جسم، جس نے کبھی ہزاروں کے سامنے تقریریں کی تھیں، آخری سفر پر روانہ ہوا۔
لوگ جمع ہوئے۔
پرچم تھے۔
تصاویر تھیں۔
آنکھوں میں آنسو تھے۔
اور دلوں میں یادیں۔
جنازہ گزرتا رہا۔
مگر جنازے کے ساتھ ایک پوری تاریخ بھی چل رہی تھی۔
نجف کی گلیاں۔
بعلبک کا مدرسہ۔
قم کے دروس۔
سید عباس موسوی کی رفاقت۔
1982ء کی جدوجہد۔
1992ء کی قیادت۔
جنوبی لبنان۔
2000ء کی واپسی۔
2004ء کے قیدی۔
2006ء کی جنگ۔
محمد ہادی کی شہادت۔
محورِ مقاومت۔
اور پھر ضاحیہ۔
سب کچھ ایک ہی سفر کا حصہ محسوس ہورہا تھا۔
مگر اس سفر کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی تاریخ کافی نہیں۔
اس کے لیے اس فکر کو بھی سمجھنا ہوگا جس نے حسن نصراللہ کے بیانیے کو تشکیل دیا۔
وہ فکر جس میں امام حسین علیہ السلام صرف ماضی کی شخصیت نہیں بلکہ ایک اخلاقی معیار ہیں۔
جس میں عاشورا صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک مسلسل سوال ہے۔
جس میں عزت کا مطلب صرف دنیاوی وقار نہیں بلکہ حق کے سامنے سر نہ جھکانا ہے۔
جس میں ایمان صرف دل کا احساس نہیں بلکہ شعور پیدا کرتا ہے۔
اور شعور اگر سچا ہو تو انسان کو ذمہ داری کی طرف لے جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سید حسن نصراللہ کی زندگی کو مکتبِ عاشورا کے تناظر میں دیکھنے والے ان کے سفر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کربلا میں امام حسینؑ کے سامنے بھی طاقت کا ایک بہت بڑا نظام موجود تھا۔
وسائل کم تھے۔
ساتھی کم تھے۔
مگر حق کا معیار تعداد نہیں تھا۔
حسن نصراللہ کے فکری بیانیے میں بھی یہ تصور بار بار نمایاں ہوا کہ کمزوری کو تقدیر سمجھ کر قبول نہیں کیا جاسکتا۔
مظلوم کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ بے اختیار نہیں ہوتا۔
خوف انسان کو قید کرسکتا ہے، مگر شعور اسے آزاد بھی کرسکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عاشورا تاریخ سے نکل کر فکر بن جاتی ہے۔
اور فکر انسان کے کردار میں اترتی ہے۔
مگر عاشورا کا مطلب صرف میدان میں اترنا نہیں۔
عاشورا کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔
وہ اخلاق ہے۔
وہ ذمہ داری ہے۔
وہ مظلوم کے درد کو محسوس کرنا ہے۔
وہ ظلم کو ظلم کہنے کی جرأت ہے۔
وہ اپنے نفس کے خلاف جدوجہد ہے۔
وہ حق کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنا ہے۔
اس لیے جب سید حسن نصراللہ کی زندگی کو عاشورائی شعور کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے تو اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ انہوں نے کتنی جنگیں لڑیں۔
اصل سوال یہ بنتا ہے:
انہوں نے اپنے عہد کے انسان کو کیا پیغام دیا؟
اور شاید جواب یہی ہے کہ انسان اپنی کمزوری کو اپنی آخری حقیقت نہ سمجھے۔
محرومی انسان کی شناخت نہیں۔
خوف انسان کی تقدیر نہیں۔
اور طاقتور کا غالب آ جانا ہمیشہ حق کے غالب ہونے کا ثبوت نہیں۔
کربلا ہمیں یہی سکھاتی ہے۔
حسینؑ نے دنیا کو بتایا کہ کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی فتح یہ ہوتی ہے کہ وہ شکست کے خوف سے اپنا اصول نہ بیچے۔
یہی وجہ ہے کہ عاشورا ختم نہیں ہوتی۔
ہر دور میں ایک نئی عاشورا پیدا ہوتی ہے۔
ہر زمانے میں ایک نیا یزید تلاش کرنے کی ضرورت نہیں؛ اصل ضرورت یہ ہے کہ انسان اپنے زمانے کے ظلم، ناانصافی، جبر اور باطل کے سامنے اپنے اخلاقی موقف کو پہچانے۔
یہی عاشورائی شعور ہے۔
اور شاید اسی لیے سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد بھی ان کے چاہنے والوں کے درمیان ایک سوال زندہ رہا:
ہم امام حسین علیہ السلام کو کس طرح یاد کرتے ہیں؟
صرف آنکھوں کے آنسو سے؟
صرف مجلس اور مرثیے سے؟
صرف تاریخ کے ایک باب کے طور پر؟
یا ان کے قیام کے پیغام کو اپنے کردار میں زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟
یہ سوال کسی ایک ملک کا نہیں۔
کسی ایک جماعت کا نہیں۔
کسی ایک تنظیم کا نہیں۔
یہ انسان کا سوال ہے۔
جب ظلم سامنے ہو تو کیا ہم بے حس ہوجائیں گے؟
جب طاقتور حق کو دبانے کی کوشش کرے تو کیا ہم صرف اس لیے خاموش ہوجائیں گے کہ حق کے پاس وسائل کم ہیں؟
جب مظلوم ہماری مدد کا منتظر ہو تو کیا ہم یہ کہہ کر گزر جائیں گے کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں؟
عاشورا ان سوالات کا سامنا کراتی ہے۔
اور ہر نسل سے جواب مانگتی ہے۔
سید حسن نصراللہ اب اس دنیا میں نہیں تھے۔
ضاحیہ کی مٹی نے ان کے جسم کو اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔
مگر ان کی زندگی سے جڑے سوال باقی تھے۔
ان کے چاہنے والوں کے لیے وہ شہید تھے۔
ان کے مخالفین کے لیے ایک متنازع مگر اہم سیاسی و عسکری شخصیت۔
مورخین کے لیے اکیسویں صدی کے مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم کردار۔
اور مکتبِ اہل بیت کے پیروکاروں کے ایک بڑے حصے کے لیے وہ ایسے رہنما تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو مقاومت، ولایت اور عاشورائی فکر کے ساتھ جوڑا۔
وقت فیصلہ کرتا ہے کہ تاریخ کسی شخصیت کو کس زاویے سے یاد رکھے گی۔
مگر کچھ نام تاریخ کے فیصلے سے پہلے ہی لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔
حسن نصراللہ بھی ایسا ہی ایک نام بن چکے تھے۔
ایک ایسا نام جس کے ساتھ لبنان کی جدید تاریخ کا ایک پورا دور وابستہ ہے۔
ایک ایسا نام جس کے ساتھ جنوبی لبنان کی کہانی جڑی ہوئی ہے۔
ایک ایسا نام جس کے ساتھ 2006ء کے تینتیس دن جڑے ہوئے ہیں۔
ایک ایسا نام جس کے ساتھ ایک شہید بیٹے کی یاد جڑی ہے۔
ایک ایسا نام جس کے ساتھ نجف، قم اور لبنان کے علمی و سیاسی سفر کی داستان جڑی ہے۔
اور آخر میں ایک ایسا نام جس کے ساتھ 27 ستمبر 2024ء کی شام جڑ گئی۔
وہ شام جب ضاحیہ پر بمباری ہوئی۔
وہ شام جب ایک آواز خاموش ہوگئی۔
وہ شام جب بہت سے لوگوں نے محسوس کیا کہ تاریخ نے ایک اور صفحہ پلٹ دیا ہے۔
مگر شاید تاریخ نے صفحہ پلٹا نہیں تھا۔
اس نے صرف ایک سوال دوبارہ لکھا تھا۔
وہی سوال جو کربلا سے چلا تھا۔
وہی سوال جو صدیوں سے انسان کے سامنے کھڑا ہے۔
جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو تم کس طرف کھڑے ہوگے؟
رات گہری تھی۔
بیروت خاموش تھا۔
دور کسی مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔
کسی گھر میں قرآن کھولا گیا۔
کسی ماں نے اپنے شہید بیٹے کی تصویر سینے سے لگا لی۔
کسی نوجوان نے آسمان کی طرف دیکھا۔
اور شاید کسی بوڑھے عالم نے آہستہ سے کہا:
عاشورا ختم نہیں ہوئی۔
عاشورا ایک مسلسل شعور ہے۔
ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔
حق کے ساتھ وفاداری کا نام ہے۔
اور جب تک دنیا میں انسان حق اور باطل کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہوتا رہے گا، کربلا کا سوال بھی زندہ رہے گا۔
سید حسن نصراللہ کا جسم مٹی میں اتر چکا تھا۔
مگر ان کی زندگی سے وابستہ سوال ابھی باقی تھا۔
شاید یہی شہادت کے بعد زندگی کا سب سے بڑا راز ہے:
انسان چلا جاتا ہے، مگر اس کے انتخاب باقی رہ جاتے ہیں۔
اور کبھی کبھی یہی انتخاب ایک پوری نسل کے لیے سوال بن جاتے ہیں۔
سیدِ مقاومت۔
ایک نام۔
ایک عہد۔
ایک داستان۔
اور عاشورا سے ضاحیہ تک پھیلا ہوا ایک طویل سفر۔










آپ کا تبصرہ