حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ خراسان کے سطوح عالی کے استاد حجت الاسلام والمسلمین زمانی فرد نے حرم مطہر رضوی (ع)کے رواق امام خمینی (رہ) میں عالمِ ربانی حضرت آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی (قدس سرہ) کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مرجعیتِ شیعہ، معارفِ اہل بیت علیہم السلام میں ایک گہری جڑیں رکھنے والا مقام ہے اور فقاہت، معنویت اور سماجی اثر و رسوخ کی بلند ترین منازل میں شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے حضرت ولی عصر امام مہدی (عجل) سے منسوب اس روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جس میں مراجع تقلید کے مقام کو بیان کیا گیا ہے، کہا: اس روایت میں مراجع کو لوگوں پر امام زمانہ (عجل) کی جانب سے حجت اور خود حضرت کو اللہ تعالیٰ کی حجت قرار دیا گیا ہے۔ یہ تعبیر ثقافتِ تشیع میں مرجعیت کے عظیم اور گہرے مقام و مرتبے کی عکاسی کرتی ہے۔
حوزہ علمیہ خراسان کے مدرسِ سطوحِ عالی نے فقاہت کو مرجعیت کی پہلی خصوصیت اور اہلیت قرار دیتے ہوئے کہا: مرجع تقلید کو احکامِ الٰہی کے علم، اجتہادی منابع اور فقہی مبانی میں ممتاز مقام حاصل ہونا چاہیے اور کتاب، سنت، اجماع اور عقل پر مکمل دسترس رکھنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: تاریخِ تشیع میں مرجعیت نے فقاہت کے سہارے احکامِ دین کی حفاظت کی ہے اور مؤمنین کے لیے حلال و حرامِ الٰہی کی وضاحت کی ہے۔ جو شخص فقاہت کی بلند ترین منزل پر فائز ہوتا ہے وہی منصبِ مرجعیت سنبھالنے کی اہلیت حاصل کر لیتا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین زمانی فرد نے مرجعیت کی دوسری خصوصیت تقویٰ، معنویت اور اخلاقی اوصاف کو قرار دیتے ہوئے کہا: مراجع عظام فقاہت کے ساتھ تقویٰ، معنویت اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق کے بلند مقام پر بھی فائز ہوتے ہیں۔ حوزاتِ علمیہ شیعہ کی تاریخ شیخ مفید، سید مرتضیٰ اور شیخ طوسی سے لے کر عصرِ حاضر تک ایسے بلند پایہ علما کی تربیت کی گواہ ہے۔
انہوں نے تاریخ کے اہم واقعات میں بعض مراجع کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واقعۂ تحریمِ تنباکو اور میرزائے شیرازی کے مقام کا ذکر کیا اور کہا: تاریخِ شیعہ مرجعیت میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں مراجع نے اپنے دینی اور سماجی مقام و مرتبے کی بنیاد پر استعماری قوتوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا اور اہم سماجی تبدیلیوں کی بنیاد فراہم کی۔
حوزہ علمیہ خراسان کے مدرسِ سطوحِ عالی نے مرجعیت کی تیسری خصوصیت سماجی اثر و رسوخ کو قرار دیتے ہوئے کہا: مراجع عظام فقاہت اور معنویت سے بہرہ مند ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور عوام ان کی باتوں کو اعتماد اور اعتقاد کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: تاریخِ تشیع میں مراجع کا سماجی مقام اہم دینی، ثقافتی اور سماجی تبدیلیوں کا سرچشمہ رہا ہے اور بہت سے مراجع نہ صرف اپنے ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اثر و رسوخ اور اثراندازی کے حامل رہے ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین زمانی فرد نے عصرِ حاضر کی تبدیلیوں میں مرجعیت کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مرجعیت کا اثر و رسوخ ایمانی اور قلبی نوعیت کا ہے اور مراجع کی قوت لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس مقام کی ایک واضح مثال انقلابِ اسلامی کی تاریخ میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں دینی مرجعیت نے اس کی تشکیل اور تسلسل میں اہم کردار ادا کیا۔









آپ کا تبصرہ