منگل 8 ستمبر 2026 - 19:28
عزاداری اور مرجعیت: تشیع کے دو مضبوط بازو

حوزه/تاریخِ انسانیت میں بعض تحریکیں وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتی ہیں، بعض افکار کتابوں کے اوراق میں دفن ہو جاتے ہیں اور بعض شخصیات اپنے عہد کے اختتام کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں؛ مگر کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو زمانے کے ساتھ بوڑھی نہیں ہوتیں، بلکہ ہر نئے عہد میں نئے شعور کے ساتھ زندہ ہوتی ہیں۔ تشیع بھی ایک ایسی ہی زندہ حقیقت ہے جس کی بنیاد صرف نظریات پر نہیں بلکہ خون، شعور، قربانی، عشق اور مسلسل فکری رہنمائی پر استوار ہے۔

تحریر:مولانا سید مبین حیدر رضوی, حوزہ علمیہ قم

حوزه نیوز ایجنسی | تاریخِ انسانیت میں بعض تحریکیں وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتی ہیں، بعض افکار کتابوں کے اوراق میں دفن ہو جاتے ہیں اور بعض شخصیات اپنے عہد کے اختتام کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں؛ مگر کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جو زمانے کے ساتھ بوڑھی نہیں ہوتیں، بلکہ ہر نئے عہد میں نئے شعور کے ساتھ زندہ ہوتی ہیں۔ تشیع بھی ایک ایسی ہی زندہ حقیقت ہے جس کی بنیاد صرف نظریات پر نہیں بلکہ خون، شعور، قربانی، عشق اور مسلسل فکری رہنمائی پر استوار ہے۔

اگر تاریخِ تشیع کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اس مکتب کو زندہ رکھنے میں دو عظیم قوتوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے: ایک عزاداری دوسرے مرجعیت

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ:عزاداری تشیع کا دھڑکتا ہوا دل ہے اور مرجعیت اس کا بیدار دماغ۔عزاداری جذبۂ حسینی کو زندہ رکھتی ہے اور مرجعیت شعورِ حسینی کی حفاظت کرتی ہے۔یہ دونوں تشیع کے ایسے مضبوط بازو ہیں جنہوں نے ہر دور میں اس مکتب کو دشمنوں کے حملوں، فکری یلغاروں اور سیاسی طوفانوں سے محفوظ رکھا ہے۔
کربلا سن 61 ہجری میں وقوع پذیر ہونے والا محض ایک تاریخی حادثہ نہیں تھا۔ اگر یہ صرف ایک جنگ ہوتی تو شاید دوسری بے شمار جنگوں کی طرح تاریخ کے کسی گوشے میں محفوظ رہ جاتی؛ مگر کربلا دراصل حق اور باطل کے درمیان ایک ایسا دائمی معرکہ تھا جس نے انسانیت کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے بیدار کر دیا۔
امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے جو تاریخ لکھی، اسے زندہ رکھنے کا سب سے مؤثر ذریعہ عزاداری بنی۔یہی عزاداری ہے جس نے چودہ صدیوں سے کربلا کو زندہ رکھا ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ گزر گئے، سلطنتیں مٹ گئیں، تخت الٹ گئے، حکومتیں ختم ہو گئیں، مگر محرم آتا ہے تو دنیا پھر پوچھتی ہے:

حسینؑ کون تھے؟کربلا کیا تھی؟یزیدیت کیا تھی؟
یہ سوال زندہ رکھنے والی قوت عزاداری ہے۔
آنسو کمزوری نہیں، شعور کی قوت ہےعصرِ حاضر کے بعض ذہنوں نے آنسو کو کمزوری سے تعبیر کرنے کی کوشش کی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بعض آنسو تلواروں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔
عزاداری دراصل جذبات کی تربیت ہے۔لیکن یہ جذبات بے مقصد نہیں؛ ان کا مرکز حسینؑ ہیں اور ان کا مقصد حسینی کردار کی تعمیر ہے۔حقیقی عزاداری انسان کے اندر ایک ایسا ضمیر پیدا کرتی ہے جو ہر دور کے یزید کو پہچان سکے۔
اگر عزاداری نے شیعہ معاشرے کے جذبات کو زندہ رکھا تو مرجعیت نے اس کے شعور کو زندہ رکھا۔
عصرِ غیبت میں امت کو جس سب سے بڑے خطرے کا سامنا تھا، وہ فکری انتشار تھا۔ بدلتے ہوئے حالات، نئے مسائل اور مختلف نظریات کے درمیان یہ سوال اہم تھا کہ امت قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگی کی رہنمائی کہاں سے حاصل کرے؟یہاں مرجعیت ایک عظیم الٰہی ذمہ داری کے طور پر سامنے آئی۔
مرجعیت نے صرف فقہی مسائل کے جوابات نہیں دیے بلکہ اس نے شیعہ معاشرے کی علمی، فکری اور اجتماعی حفاظت کی۔
حوزہ ہائے علمیہ کی خاموش درسگاہوں میں بیٹھے ہوئے فقہا نے صدیوں تک قرآن، حدیث اور فقہِ اہل بیتؑ کے علوم کو محفوظ رکھا۔یہی وہ علمی سلسلہ ہے جس نے نسل در نسل مکتبِ جعفری کو تحریف، جہالت اور فکری یلغار سے محفوظ رکھا۔

مرجعیت نے امت کو صرف یہ نہیں بتایا کہ عبادت کیسے کی جائے، بلکہ یہ بھی بتایا کہ:

ظلم کے دور میں حق کے ساتھ کیسے کھڑا ہوا جائے۔؟
فتنوں کے دور میں حق کو کیسے پہچانا جائے۔؟
اور زمانے کی تبدیلیوں کے باوجود دین کے اصولوں پر کیسے قائم رہا جائے۔؟
مرجعیت کو محض چند شرعی مسائل کے جواب دینے والا ادارہ سمجھنا اس کے عظیم کردار کو محدود کر دینا ہے۔
مراجع اور علماء نےکبھی قلم کے ذریعے، کبھی فتویٰ کے ذریعے، کبھی تعلیم کے ذریعے اور کبھی ظلم کے خلاف مزاحمت کے ذریعےشیعہ قوم کو ایک فکری مرکزیت عطا کی۔
جب کربلا اور فقاہت ملتے ہیں توتشیع کی سب سے بڑی طاقت وجود میں آتی ہے ۔عزاداری اگر انسان کے دل میں حسینؑ کی محبت پیدا کرتی ہے تو مرجعیت اس محبت کو عملی زندگی کی سمت عطا کرتی ہے۔یہی توازن تشیع کی قوت ہے۔
ہ شمن نے ہمیشہ ان دو قوتوں کو نشانہ بنایا ہے۔یہ دشمن کی اتفاقی حکمتِ عملی نہیں۔اس کے پیچھے ایک گہری سازش ہے۔
دشمن جانتا ہے کہ:جس قوم کے پاس کربلا کی یاد ہوگی، اسے ظلم سے محبت نہیں ہوگی؛اور جس قوم کے پاس بیدار قیادت ہوگی، اسے فکری غلام بنانا آسان نہیں ہوگا۔ جب بھی اس چراغ کو بجھانے کی کوشش کی گئی، وہ پہلے سے زیادہ روشن ہوا۔
آج کی دنیا گزشتہ صدیوں سے بالکل مختلف ہے سوشل میڈیا نے ہر شخص کو ایک نظریاتی مرکز بنا دیا ہے۔لهذا ۔ہمارے منبروں سے تاریخ کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے مسائل کا شعور بھی دیا جائے۔

مرجعیت کا تعلق اندھی تقلید سے نہیں بلکہ ایک علمی نظام سے ہے، جس کی بنیاد فقاہت ہے ، لہٰذا نوجوان نسل کو مرجعیت کے علمی اور فکری مقام سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو بتانا ہوگا کہ: جب عزاداری شعور سے جڑتی ہے تو وہ ایک طاقتور تمدنی قوت بن جاتی ہے۔ پھر مجلس صرف ایک اجتماع نہیں رہتی بلکہ کردار سازی کا مرکز بن جاتی ہے۔ اور جب ایک قوم کے پاس رونے والا دل اور سوچنے والا ذہن دونوں موجود ہوں تو اسے شکست دینا آسان نہیں ہوتا۔
تشیع کی پوری تاریخ دو عظیم آوازوں کا حسین امتزاج ہے۔ایک آواز کربلا سے آتی ہے " هل مِنْ نَاصِرٍ يَنْصُرُنِي "اور دوسری آواز علم و فقاہت کی دنیا سے آتی ہے جو ہر دور کے انسان کو جگاتی ہے۔ تشیع صرف ایک نظریہ نہیں، ایک زندہ شعور ہے؛ عزاداری تشیع کی حرارت ہے،مرجعیت تشیع کی بصیرت ہے؛
لہٰذا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ عزاداری اور مرجعیت — تشیع کے دو مضبوط بازو ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha